- الإعلانات -

حکومت کا ڈیجیٹل پاکستان کی جانب ایک قابل تعریف قدم

ملک میں سب سے اہم ترین مسئلہ مہنگائی ہے، ارزاں چیزیں ملنا تو محال ہی ہوگیا ہے جس چیز پر عوام ہاتھ رکھے اس کو آگ لگی ہوئی ہے، کسی دور میں کہا جاتا تھا کہ گوشت مہنگا ہے تو سبزیاں کھا کر گزارا کرلو لیکن اب حالات بالکل مختلف ہیں ، وہ سبزی جو ماضی قریب میں 10 سے 15 روپے کلو فروخت ہوتی تھی آج وہ 150 سے لیکر 200 روپے کلو تک فروخت ہورہی ہے، دال کھانا تو اور بھی مشکل ہے، عوام بیچاری کیا کرے، کپتان ہر طرح سے کوششیں کررہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح مہنگائی کو کنٹرول کرلیا جائے مگر شاید انتظامیہ اس حوالے سے خاطر خواہ تعاون نہیں کررہی، مہنگائی تو ایک طرف اگر زیادہ قیمت دے کر اشیائے خوردونوش خرید بھی لی جاتی ہیں تو وہ بھی ملاوٹ شدہ ہیں جوکہ ایک غریب عوام کی صحت کے قتل عام کے مترادف ہے، اب حکومت اس حوالے سے منصوبہ بندی کررہی ہے کہ ملاوٹیوں کو پکڑنے اور ان کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کیلئے ایکشن پلان ترتیب دیا جائے ۔ اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں چیف سیکرٹری پنجاب نے مختلف تجاویز دیں تاکہ مفصل ڈیٹا بیس جمع کرکے ملاوٹ کرنے والے مافیا کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے ۔ اس سلسلے میں باقاعدہ ایک مربوط نظام تشکیل دئیے جانے کی بھی تجویز دی گئی جہاں ملکی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مطلوبہ اجناس کی کاشت کو یقینی بنایا جاسکے وہاں برآمدات اور درآمدات کے حوالے سے بھی بروقت فیصلے لیے جاسکیں ۔ ملاوٹ ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے کہ اس جرم کی پاداش میں گرفتار ہونے والوں کو سخت سے سخت سزائیں تجویز کرنی چاہیے ۔ کیونکہ غریب عوام کی صحت کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھلواڑ کرنا قطعی طورپر شجر ممنوعہ قرار دیا جائے ۔ نیز اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ نیز یہ بھی پابند کیا گیا کہ انتظامی و دیگر اقدامات کے حوالے سے متعلقہ اعلیٰ سطح کے حکام کو تمام تر کارکردگی سے آگاہ کیا جائے ۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری میجر ریٹائر اعظم سلمان نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق صوبائی حکومت ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کیخلاف گھیرا تنگ کررہی ہے ۔ قیمت متعین کرنے اور مقرر کردہ قیمتوں پر عملدرآمد کیلئے بھی کچھ اصول بنائے جارہے ہیں ۔ نیز وزارت صنعت کی سربراہی میں قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے قائم کی جانے والی ٹاسک فورس کا باقاعدہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، صوبائی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تعین شدہ قیمتوں کے اطلاق کو یقینی بنانے کیلئے1274 پرائس مجسٹریٹ کی جانب سے 228233 دکانوں کی چیکنگ کی گئی جس دوران 3957 ایف آئی آر کا اندراج اور 3670 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں ۔ نیز مجموعی طورپر 7کروڑ 90لاکھ کا جرمانہ بھی کیا گیا ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ’’قیمت پنجاب ایپلی کیشن کے ذریعے زائد قیمتوں کی شکایت پر فوری ایکشن کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ ہم یہاں یہ کہیں گے کہ ان بھاری جرمانوں کے ساتھ ساتھ ایسی تادیبی اور سخت سزائیں بھی مقرر کی جائیں کہ آئندہ کوئی، مہنگی اشیاء فروخت کرنے یا ملاوٹ شدہ چیزیں فروخت کرنے کی جراَت نہ کرسکے ۔ بڑی بڑی فیکٹریوں کو چیک کیا جائے اور جہاں بھی ذرا شک و شبہ گزرے وہ کارخانے چیک کرکے انہیں سیل کردیا جائے ۔ ملاوٹ شدہ چیزیں فروخت کرنے والوں کی کم ازکم سزا10 سال مقرر کی جانی چاہیے اور متعین کردہ قیمتوں سے زیادہ قیمتیں وصول کرنے والے کو موقع پر بھاری جرمانہ اور کم ازکم 3 سال قید بامشقت لازمی دینی چاہیے ۔ اس کیلئے اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ ہے تو وہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے باقاعدہ قانون سازی کرائے کیونکہ صحت کی ذمہ داریاں بہم پہنچانا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ اس سلسلے میں ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ جب کوئی شخص ملاوٹ کردہ اشیاء فروخت کرتا ہے تو اس کا نقصان آنے والی نسلوں تک جا پہنچتا ہے ۔ جس سے نہ صرف ملک ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہی ہم ایک صحت مند قوم کی حیثیت سے پروان چڑھ سکتے ہیں ۔ اِدھر وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اور اجلاس میں عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف ڈیلی میل کی خبر کا جواب نہیں دے سکیں گے ۔ انہوں نے شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس کی تائید کی جس میں انہوں نے کہاکہ شہباز اینڈ فیملی کے اثاثوں میں 70فیصد سے زائد اضافہ ہوا ۔ اس سلسلے میں باقاعدہ تحقیقات کی جانی چاہیے ۔ ہم حکومت سے یہاں یہ کہتے ہیں کہ بالکل 100فیصد شہباز شریف کیخلاف تحقیقات ہونی چاہیے کہ انہوں نے کم عرصے میں اتنا مال کیسے بنایایا حکومت کو چاہیے کہ اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے بھی ذراءع آمدن چیک کرے تاکہ سب کے ساتھ مساوات کا سلوک شروع ہو جائے ۔ وزیراعظم نے ایک اور اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن ختم کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ای گورننس ہے، دنیا تیزی سے تبدیل ہورہی ہے ۔ ایک وقت آئے گا جب موبائل فون ہی سب کچھ ہو جائے گا ۔ ای گورننس عوام کی زندگی آسان کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے ۔ آنے والے دنوں میں حکومت کی پوری توجہ ڈیجیٹل پاکستان پر ہوگی ۔ ساتھ ساتھ حکومت معیشت کو بھی مضبوط کرنے کیلئے پیش قدمی کررہی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں قوم سے پہلے اپنے خطا ب میں کہتا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ گھبرا گئے اور وہ ابھی بھی گھبرائے ہوئے ہیں میں پھر کہتا ہوں ملکی معیشت درست کام کررہی ہے ۔ عوام گھبرائیں نہیں اور نہ ہی فکر کریں آنے والا دور خوشیوں کا دور ہوگا ۔ ملک کا مستقبل روشن ہے ہم گورننس پر قابو پارہے ہیں ، ضروری تبدیلیاں لارہے ہیں ، ٹی میں بنارہے ہیں ، بتدریج اس ملک کو آگے لیکر جانا ہے، نیز مسلم امہ کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار بھی ادا کریں گے، اب پاکستان بین الاقوامی سطح پر اہمیت اختیار کرچکا ہے ، ہ میں بڑا مشکل وقت ملا لیکن انشاء اللہ آپ مجھے پانچ سال تک سنتے رہیں گے حالات تبدیل ہوں گے ، میں اپنی خدمات پاکستان کو پیش کرتا رہوں گا ۔ یقینی طورپر ڈیجیٹل پاکستان کی جانب قدم بڑھانا ترقی کی دنیا میں شامل ہونے کیلئے ایک اہم ترین فیصلہ ہے ۔ اس سے کرپشن بھی ختم ہوگی، اخراجات بھی کم ہوں گے ، اطلاعات کی ترسیل بھی تیزی سے ہوگی ۔ اس وقت معیشت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور امید واثق یہی کی جارہی ہے کہ حالات مزید بہتر ہوں گے، روزگار کے مواقع نکلیں گے کیونکہ پاکستان اس خطے کیلئے ایک گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس خطے کی ترقی اب پاکستان کے ساتھ منسوب ہوگی اور اس کا سہرا پی ٹی آئی حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں کی جانب ہی جاتا ہے ۔

فوجی جوان سے

جنرل تک سب ہر چیلنج کا

مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں

شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جبکہ دو فوجی جوان بھی شہید ہوئے ۔ شمالی وزیرستان کے گاءوں چرخیل بویاں میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا گیا کہ ایک پناہ گاہ میں دہشت گرد موجود ہیں ، آپریشن کے دوران دو فوجی جوان حوالدار شیر زمان اور سپاہی محمد جواد نے جام شہادت نوش کی ۔ یہ آپریشن دہشت گردوں کیلئے واضح پیغام ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کیا جائے گا ۔ ہماری مسلح افواج ہر طرح سے چوکس اور تیار ہیں ۔ کسی بھی مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کیلئے بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں ۔ ادھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ فوجی جوان سے جنرل تک سب ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ وہ بہاءولپور میں فوجی مشقوں کے معائنہ کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ مشقوں میں فوجی دستے اور پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکاء کی جانب سے تربیت کے اعلیٰ معیار کے اظہار کو سراہا ۔