- الإعلانات -

طلبا یونین بحالی ضرور مگر ۔ جلدبازی نہ کی جائے

عالمی شہرت یافتہ پاکستان کے ممتاز انقلابی شاعر فیض احمد فیض کے نام پر الحمرا آرٹ سینٹر لاہور میں گزشتہ ماہ 18 نومبرکو’’فیض میلہ‘‘ کا اہتمام کیا گیا تھا،جس میں ملک بھر سے ممتازشعرا،نامور ادبی وعلمی دانشور شخصیات نے شرکت کی، فیض صاحب کا مقام پاکستان کے عوام میں ہمیشہ سے لائقِ احترام رہا ہے اور ہمیشہ ہی رہے گا،اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ فیض صاحب ایک انقلابی شاعراور دانشورتھے اْن کے عہد آفریں جاندار شاعرانہ کلام میں معاشرے کے محروم طبقات کے دکھ درد اور سماجی ومعاشرتی مصائب وآلام کا بہت ہی دلپذیر پیرائیے میں تذکرہ پڑھنے کوملتا ہے،فیض صاحب کامقام پاکستان کے صف اول کے شعرا میں بہت نمایاں ہے’’فیض احمد فیض‘‘ایک بڑا نام اس بڑے قدآورمعتبر نام کی آڑ میں انقلاب کے نعرے اس بار’’فیض میلہ‘‘ میں جو لگائے گئے’’لال لال جب لہرائے گا تب پتہ لگ جائے‘‘ڈھول بھی خوب بجائے گے اور’’طلبا یکجہتی مہم‘‘کےنام پرملک کے کالجز اور یونیورسٹیز میں ’’طلبا یونین‘‘کی بحالی کے مطالبات پیش کیئے گئے اور کہا گیا کہ’’ طلبایونین کی بحالی کے نتیجے میں ملک کی جمہوریت مستحکم ہوگی ملک میں نئی’’لیڈرشپ‘‘ ابھرے گی‘‘ ان سب مطالبوں کا جس بدترین بدنظمی کے ناپسندیدہ انداز میں الحمرا ہال کی عمارت کے باہر جو مظاہرہ ہوا وہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچا اس پرایک بار پھر وہ خدشات دوبارہ نمایاں ہوئے کہ اگر’’طلبا یونیز کو بحال کردیا جاتا ہے تو کیا واقعی ہمارے تعلیمی اداروں کا انتظامی نظم وضبط برقرار رہ سکے گا;238;’’طلبا یونین‘‘کی بحالی ہونے کے بعد پْرامن تعلیمی ماحول کی ضمانت مل سکے گی;238; کالجز اور یونیورسٹیز کے پرنسلپزاور اساتذہ کے علاوہ ہوسٹلز سمیت دیگر انتظامات میں طلبا یونین کی دخل اندازیاں اگرپھر سے ہونے لگیں تو کیا ہوگا اس بارے میں کسی نے سوچا;238; جہاں تک فیسوں کی کمی کاتعلق ہے یہ سوال اپنی جگہ واقعی بہت اہم اورضروری ہے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فیسیں کم ہونی چاہئیں کالجز اور یونیورسٹیز میں ’’ڈیبیٹنگ کلب‘‘ہونے چاہئیں ،غیر نصابی صحت مندانہ سرگرمیاں تعلیمی سرگرمیاں ہی کہلاتی ہیں کالجز اور یونیورسٹیزکے ہوسٹلز میں طلبا کے علاوہ کسی اورافراد کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے اتنے برس بیت گئے اور پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ گیا ہے ملکی سماج اور معاشرے میں ’’رواداری اور برداشت‘‘کی اعلیٰ روایات کے معروف ڈھانچہ کی قدریں کس قدر کمزور ہوئی ہیں اوریہی نہیں بلکہ سیاسی قدروں میں کتنی زیادہ اتھل پتھل ہوئی ہے ایسے ہر پہلو کو ہ میں اپنے پیش نظر رکھنا ہوگا طلبا ہمارے مستقبل کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں ، مستقبل کے سیاسی رہنما طلبا کی صفوں میں ہی سے نکلیں گے اور یہ برحق ہے مگر طلبایونین کو سیاسی جماعتوں کی ’’بی ٹیم‘‘نہیں بنایا جاسکتا مثلا زمانہ ہوا نوجوان قلمکارعابد میر کی ایک تحریرہماری نظر سے گزری اس موقع پر ہ میں یاد آگئی ہے اْس تحریر کا لب لباب یہی تھا کہ’’سماج میں پھوٹ پڑنے والے انتشار وافتراق کو واضح فکری سمت مل جائے تو انتشار’’ انقلاب‘‘ میں بدل جاتا ہے‘‘وگرنہ یہ انتشار خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلیتا ہے جس کے نتیجے میں سماجی ڈھانچہ بکھرجاتا ہے،منتشر ہوجاتا ہے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے‘‘ طلبا یونین کی بحالی کے مطالبات اپنی جگہ مگر یہاں سوچنا یہ ہے کہ اْس فکری سمت کا تعین کون کرےگا;238;’’ظاہر ہے یہ کام اہلِ علم و فکر کا ہی ہے وہی اس کے اہل بھی ہیں اور ذمے دار بھی‘جنہیں عرف عام میں ’’سیاست دان‘‘کہہ لیجئے یا ’’سیاسی ایکٹوسٹ‘‘ لیکن اس کا علاج کیا جائے کہ پاکستان میں اسی سیاسی طبقے کو ایک عرصے سے ٹی وی اسکرین کا چسکا لگ چکا ہے اس لیے ان کی فکربس یہیں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے کہ اْن کی چوکادینے والی کوئی ’’ویڈیو‘‘اننا ًفانناً وائرل ہوجائے اْن کے حوالے سے کوئی بھی نئی بات سامنے آجائے،اْن کے دئیے گئے نعروں پر بے ثمر ٹاک شوزہونے لگیں جن پر چیخ وپکار اورشورشرابوں سے بھرپوربے نتیجہ گفتگو کے چرچے عام ہونے لگے لوگ باگ ’’انقلاب انقلاب‘‘کے نعرے لگانے والوں سے متاثر ہونے لگیں بلا سوچے سمجھے کہ ’’لال لال‘‘ کپڑے پہنے کر’’لال لال‘‘کے نعرے لگانے سے انقلاب نہیں آیا کرتے کل تک روس اور چین بہت ’’لال لال‘‘کی باتیں کیا کرتے تھے اب تو روس اور چین بھی نہ ’’لال‘‘رہے اور نہ وہاں سے اب ’’لال انقلاب‘‘ کی دہائیاں سننے کو ملتی ہیں 18 جولائی 2019 کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان میں قائم ہونے والی نئی جمہوری حکومت نے ملک کے کہنہ آزمودہ سیاسی بزرجمہرے جو’’دیمک‘‘ کی طرح ملکی جمہوری سسٹم سے جمٹ گئے تھے’’ مورثی نظام حکومت‘‘نے جمہوریت کے معنی بدل دئیے تھے اْن سے پاکستانی عوام کی جان چھڑائی یہی نہیں بلکہ باقاعدہ عدالتی احتساب کے موثر بناکر اْن کا اب احتساب ہورہا ہے ابھی تو صرف ڈیرھ برس بیتے ہیں اصل جمہوریت کی جڑیں مستحکم ہورہی ہیں پی ٹی آئی کی حکومت کے عہد میں اندازہ لگائیں ایک بحران ختم ہوتا ہے تو دوسرا بحران سراْٹھا لیتا ہے جمہوریت کومزید پائیدار ہونے دیجئے مالیاتی سٹ اَپ بہتری کی طرف گامزن ہے اب ’’طلبا یونین کی بحالی‘‘کے نام پر ملک بھر میں ضرورت سے زیادہ بعض عناصر ’’ایکٹو‘‘ ہورہے ہیں طلبا یونین کی بحالی ’’بھڑوں کا ایسا چھتہ‘‘ہے جسے سنبھالنا موجودہ حکومت کےلئے بہت مشکل امرہوگا حکومت نے اگر فیصلہ کیا ہے کہ ’’طلبا یونین کی بحالی‘‘ پر یقینا غور وخوض ہوگا ملکی ماہرین تعلیم سمیت طلبا وطالبات کے نمائندوں سمیت اعلیٰ تعلیمی اداروں کے معزز پرنسپلز سمیت فیکلٹی ممبران کی مشاورت سے ایسی متفقہ دستاویز سامنے لائی جانی چاہئیں جن کی بنیادوں پر ’’طلبا یونین کی بحالی‘‘ کو ممکن بنایا جاسکے اب تو دنیا میں یہ ’’بائیں بازو اور دائیں بازو‘‘کی تمیز ہی ختم ہوچکی طلبا پہلے اپنی تعلیم مکمل کریں اپنے تعلیمی مسائل پر نظر رکھیں اپنی درس گاہوں میں ’’ناپسندیدہ سیاسی عناصر‘‘ کی دراندازیوں پر معترض ہوں اپنے درس گاہوں کے انتظامی معاملات سے ’’طلبایونین‘‘کا کچھ لینا دینا نہیں ہے پاکستان کی مغربی سرحد پار سے آنے والے یا اْن کے ساتھ معاملات رکھنے والوں کے آخر عزائم کیا ہیں ’’مس گوہر سے مس ندا تک‘‘پی ٹی ایم سے اے این پی‘‘ تک یہ جتنے بھی ایکٹوسٹ‘‘متحرک ہورہے ہیں ان مشتبہ افراد کا ملکی ’’طلبا یونین کی بحالی تحریک‘‘سے متعلق معاملات سلجھنے کی بجائے ہوسکتا ہے مزید الجھ جائیں یہی ہیں وہ ’’انارکسٹ‘‘ملک دشمن عناصر جوملک میں حتی الامکان کوششیں کررہے ہیں اور یہ پتہ کی بات خاص طور پر اْنہیں اپنے پلہ باندھنی ہوگی جو ’’انقلاب انقلاب‘‘کے نعرے بلند کررہے ہیں ، اْنہیں ’’انارکزم‘‘اور’’انارکی‘‘کے فرق کو پہلے سمجھنا ہوگا یادرہے کہ یہ جو گروہ ’’انارکسٹ‘‘ ہوتے ہیں نا،اصل میں یہی ’’انقلاب دشمن‘‘ ہوتے ہیں پہلے اِنہیں تو بے نقاب کرلیں یہ کبھی بھی کھل کر سامنے نہیں آتے، مختلف بھیسوں میں سماج کو بگاڑ کی سمت بڑی آسانی لے جاتے ہیں اب سمجھ آیا یعنی کہ صاف مطلب یہ ہے کہ پاکستان،پاکستانی سیکورٹی اداروں جمہوری ایوانوں کے علاوہ وطن پرست میڈیا کے ساتھ آزاد اور خود مختاز عدلیہ پرلغو دشنام ترازیوں کے عادی غیر ملکی عناصر کو جب تک لگام نہیں دی جاتی اور اْنہیں ملک میں بحران پیدا کرنے سے روکا نہیں جاتا ملک میں جمہوری استحکام آئے گانہ ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے گا ۔