- الإعلانات -

قائد اعظم آپ کہاں ہیں ?

حرماں نصیبی ، سرگردانی ، پریشانی، بے راہ روی ، عدم یقین ہے تعین منزل ہنوز 70سال تاریکیوں کا شکار ہے ۔ چمن کی کلی کلی گل بنتے بنتے مرجھا جاتی ہے ۔ سال آتا ہے سال جاتا ہے ۔ سالگرہ رسم قل بن جاتا ہے ۔ ہم دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں کہ وہ کون سا رہنما ہوگا جو آپ کے نقش قدم پر چل کر اس چمن کی زمین کو سیراب کرکے اسے سر سبز و شاداب بنادے گا ۔ قائداعظم آپ کہاں ہیں ;238;آج 25دسمبر ہے ۔ یہ آپ کا یوم پیدائش ہے ۔ فلک پیر نے کیا شخصیت عطا کی تھی آپ کو ۔ ۔ کس قدر زیرک ، متین، ایماندار، بصیر اور آہنی ارادوں کے مالک تھے ۔ اپنوں اودر شمنوں کی سازشوں کو تن تنہا چیرتے ہوئے اپنے نصب العین اور مقصد تک پہنچ کر، اک عظیم نظریاتی ملک کی بنیادرکھی ۔ قوم آپ کا سالگرہ مناتی ہے ۔ مگر جو فکری اور عملی جدوجہد آپ نے کی ۔ صرف نتیجے پر نگاہیں مرتکز کی ہیں ۔ یہاں ترانے اور نغمے گاتے جاتے ہیں کہ ’’ہم زندہ قوم ہیں ‘‘ اگر قائد کی زندگی کے اُس دور کی تلخیوں کا مطالعہ کریں جب نیشلسٹ علماء ، انگریز اور ہندووَں کی مخالفت نے ان کا جینا دو بھر کردیاتھا ۔ آپ کو کفریہ طعنے سننے پڑے ۔ پھیھپڑوں کے سرطان کے موذی مرض کے پنجوں کی گرفت میں رہتے ہوتے ۔ علامہ اقبال کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ۔ اپنی جان کو ہتھیلی پر پھرتے رہے ۔

دم لیاتھا نہ قیامت نے ہنوز

پھر تیرا وقت سفر یاد آیا

آج یہ قوم جو بھنگڑے ڈال رہی ہے ۔ ایسا ہی ہے جیسے مال غنیمت کے ڈھیر پر عالم بے نیازی میں رقصاں ہوں ۔ اتنے بے خبر کہ نسل در نسل اس ڈھیر کی حفاظت کئے جا رہے اتنی محنت بھی ان سے نہیں ہو پاتی کہ اس ڈھیر میں تلاش کریں ۔ کہ اس راکھ میں کیا رہ گیا ۔ اپنے ، دشمن اس ملک کو کھاتے جا رہے ہیں ۔ مگر ہم کاشکار ہیں ۔ ذاتی مفادات ہماری خوشیوں کا باعث ہیں ۔ ملک کو تشکیل پاکستان سے قبل و مابعد ۔ ۔ ۔ اسی مافیا نے چاروں طرف سے گھیرے میں لیا ہوا ہے ۔ اس قوم کی پستی کا ایک ہی مظبوط حوالہ ہے کہ یہ مقبر پرست ہیں اور شخصیات کی پوجا کرتے ہیں ۔ کبھی اپنی صلاحتیوں پر اعتبار نہیں کرتے ۔ انکو مفت کی عادت لگی ہوتی ہے ۔ قائداعظم کو اپنی زندگی میں ۔ ۔ ۔ حصول پاکستان کے رستے میں پہاڑ مزاحمتوں کا سامنا تھا ۔ ہندووَں کی سازش اور مکر نے چند مسلمان رہنما خریدلئے تھے ۔ آج بھی ہندو ہائبرڈوار کی سازش سے ۔ ۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ہیجان برپا کئے ہوئے ہے ۔ لیکن اس قوم کی ڈوبتی کشتی کو بھنور سے نکالنے کے لئے وہی آہنی ارادوں کے مالک ۔ ۔ ۔ عمراں خان نے رہنمائی کا علم اپنے ہاتھوں میں اُٹھایا ہوا ہے عمراں خان بھی اپنوں اور غیروں کی مزاحمتوں کا شکار ہیں ۔ اگرنیت اور ارادہ درست ہو تو ایسی مزاحمتیں اور مشکلات آپ کو منزل تک پہنچانے کا اک ذریعہ بن جاتا ہے ۔ قائداعظم کو بھی ایسے ہی حالات سے دو چار ہونا پڑا ۔ غرضیکہ اپنی صحت تک کو بالا طاق رکھا اور منزل مقصود تک پہنچ گئے ۔ ایسے لوگ اللہ کی طرف سے کسی بھی قوم کیلئے سرمایہ افتخار ہوتے ہیں ۔ لہٰذا قوم پر لازم ہے کہ اگر ایسے راہنما انکو میسر آئیں ۔ ۔ تو قومی وحدت، کا ثبوت دیں ۔ ہجوم نہ بنیں ۔ آج ہائیبرڈوار کا دور ہے ۔ دشمن کا وار ;68;igital ہوگئے ہیں ۔ وہ معاشروں اور ریاستی ادارون کے سرکردہ افراد کو اپنے مذعوم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ آج کل جنگیں زمینی سے زیادہ ٹیکنالوجی کے ذریعے جیتی جاتی ہیں ۔ ;68;isinformationاب سازش کا غیر مرئی سلسلہ ہے ۔ سرمایہ اور دولت اس ہائبرڈ وار کا محرک ہے ۔ جس سے کسی بھی عہدے پر براجمان فرد کی خدمات حاصل کرلی جاتی ہیں ۔ اور ملک میں انتشار اور عوام کسی مبہم صورت حال سے دو چار ہوجاتی ہے ۔ کسی بھی جنگ کے لئے یہ پہلا اور موَثر درجہ ہوتا ہے جس کے بعد حکومت یا ریاست کی گرفت ڈھیلی ہوجاتی ہے ۔ اور بے یقینی کی کیفیت ہر طرف نظر آتی ہے ۔ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ مگر اس کا پتہ معلوم کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا ۔ بس ارادہ ، نیک نیتی اور بر وقت کچھ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیئے ۔ عمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر نہایت اہم تقریر ہے ۔ اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ جس میں عمران خان نے ;828383; کے بارے نہایت تفصیل سے دنیا کو بتایا اور اُس کے عقب میں نازی ازم کا خونچکاں فلسفہ متحرک ہے ۔ آج کشمیر اور سارے ہندوستان میں مسلمانوں کو عتاب کا نشانہ بنائے رکھا ہے ۔ اس تقریر کو عالمی سطح پر کافی پزیرائی ملی ۔ انکشا ف ہوا ہے کہ ;828383; کے ایجنٹ نے نیوز لینڈ میں ساٹھ مسلمانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ۔ ایم نسٹی انٹرنیشنل نے ;828383; کی اس کاراوئی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے ۔ ;828383; مسلمانوں سے شدید نفرت کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے ۔ عمران خان کے اس موقف کو تائید مل رہی ہے ۔ مودی سرکار اپنے غیر فطری اقدام سے خود اپنے ہی ملک میں وسیع پیمانے پر شدید انتشار کا باعث بن چکا ہے ۔ ایک ریاست میں تو ان کی حکومت بھی جاتی رہی ۔ ان کی غیر مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اور عین ممکن ہے کہ مودی اپنے بچاوَ کے لیے ایک بار پھر جنگ کا ڈرامہ رچائے ۔ 1 ۔ ہندوستان عمران خان کی اس تقریر کو سہہ نہ سکا ۔ یہاں مولانا فضل الرحمن اور اس کے ہمنوا جماعتوں نے کشمیر یا جمہوریت مارچ کے نام پر یہاں ان کی محبت میں بار دن کے لیے پاکستان میں غیر یقینی صورت حال پیدا کی ۔ آج کل ہائبرڈ وار ایسے ہی متحرک رہتا ہے ۔ وہ ایسے افراد کا اتنخاب کرتا ہے جو ان کے مقاصد کو پور ا کرسکیں ۔ 2 ۔ ;808477; 5th ;87;ar ;71;eneration کا اک اور تراشا ہوا افسانہ ہے ۔ جس کی بنیاد لسانی و قومیت پرستی ہے ۔ ہائبرڈ وار کی اس حساس نوعیت کی رسائی پاکستانی ایجنسیوں کے توسط سے سامنے آئے ہیں ۔ 3 ۔ مشرف کیس ہو ، لاہور ہسپتال وُکلاء گردی ہو ان سب کے تانے بانے ملتے ہیں ۔ ان سب کا ماسٹر مائینڈ ہندوستان اور امریکہ ہے ۔ وجہ سی پیک اور پاکستان میں حالیہ بے شمار تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت ہے ۔ دوسرے پاکستان آرمی کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی اور پاکستان میں قیام امن ، ان کو ایک آنکھ نہیں بھایا ۔ پچھلے چالیس سال سے جاری سازشوں سے پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی ہوچکی تھی ۔ پاکستانی سیاستدانوں اور ان کے آقاؤں کی مبینہ مفاہمتوں نے کرپشن ، منی لانڈرنگ اور ریاستی اداروں کو تخریب ذدہ کیا ۔ آرمی چیف کا حالیہ ;69;xtension کا معاملہ کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ لیکن اس حساس عہدے کو تضحیک کا نشانہ بنانا بھی ہائبرڈ وار کی کارستانی ہوسکتی ہے ۔ اس سے ایک مثبت سوچ برآمد ہوئی ہے ۔ کہ حکومت وقت اور آرمی ان حملوں سے ہوشیار ہوگئی ہے ۔ چونکہ یہ حملے اب ایجنسیوں اور دانش عہد کے سامنے پچھلے بیس سال سے ہورہے ہیں ۔ 4 ۔ اقوام متحدہ کی تقریر ہی وہ ٹرننگ پوائنٹ ہے جس نے ہندوستان اور امریکہ کو سوچنے پر مجبور کیا ۔ بین الاقوامی سطح پر حالیہ کولالمپور سمٹ میں پاکستا ن کی عدم شرکت دراصل ، سعودیہ پر امریکہ کا دباوَ تھا ۔ مگر عمران خان نے نہایت دانش کے ساتھ ترکی اور ملائیشا کو راضیٰ کیا کہ ان حالات میں میرا آنا ، میری قوم کے لیے مشکل ہوجائیگا ۔ اس وقت پاکستان ایک بار پھر آزمائش سے گزر رہا ہے ۔ اگرچہ باوجود مشکل حالات چھوڑے گئے تھے مگر تجارت اور اقتصادی حالات مستحکم ہورہی ہے ۔ اس نفسیاتی جنگ میں استقلال اور ہوش مندی کی ضرورت ہے ۔ گھر کے بھیدی لنکا ڈھانے کے لیے ، بیرونی ہاتھوں میں بک چکے ہیں ۔ ہر ادارے میں ، میر صادق اور میر جعفر ، انگڑائی لے رہے ہیں ۔ ایک بار پھر قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد آرہی ہے ۔