- الإعلانات -

10 دسمبر، مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی پامالی کا دن


آج 10 دسمبر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کی گئی انسانی حقوق کی پامالیوں کا دن منایا جا رہا ہے ۔ بھارت 5 اگست سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی محاصرہ کرکے کشمیری عوام کے انسانی حقوق پامال کر رہا ہے ۔ بھارت کے اس اقدام نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی المیہ پیدا کر دیا ہے ۔ خوراک اور جان بچانے والی ادویات کی شدید کمی ہے جبکہ مواصلاتی رابطے بھی منقطع ہیں ۔ پاکستان نے تمام بین الاقوامی فورمز پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ تسلسل کے ساتھ اٹھایا ہے لیکن بین الاقوامی برادری پربھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور اس ناقابل قبول صورتحال کے حل کیلئے فوری اقدامات کرے ۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) نے بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر ‘شدید تشویش’ کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ خطے میں تمام حقوق کو مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ترجمان روپرٹ کولویل کا کہنا ہے کہ بھارتی زیر تسلط کشمیر میں عوام کے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق سے محروم ہونے پر شدید تشویش ہے اور ہم بھارت کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ معمول کی صورت حال کو بحال کریں ۔ بھارت کی حکومت نے 5 اگست کو جموں و کشمیر کی ریاست کو جزوی طور پر حاصل خود مختاری کا قانون ختم کیا اور وفاقی کنٹرول میں دو یونین بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ مقبوضہ خطے میں اس وقت بھی سخت پابندیاں نافذ ہیں ۔ انسانی حقوق پر ان کے اثرات وسیع پیمانے پر مسلسل پڑر ہے ہیں ۔ یو این ایچ سی آر کا کہنا تھا کہ ہ میں کئی اطلاعات موصول ہوچکی ہیں کہ زیرحراست افراد کے ساتھ تشدد اور ناروا سلوک کیا جارہا ہے جس کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ انداز میں تفتیش کی اشد ضرورت ہے ۔ تشدد کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین میں تشدد سے مکمل اور واضح طور پر روکا گیا ہے ۔ میڈیا چینلز کو دشواریوں کا سامنا ہے اور گزشتہ تین ماہ کے دوران کم ازکم 4 مقامی صحافیوں کو مبینہ طور پر گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ سپریم کورٹ آف انڈیا میں نقل و حرکت کی آزادی اور میڈیا پر عائد پابندیوں کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سست عمل کیا جارہا ہے ۔ جموں و کشمیر کے ہیومن راءٹس کمیشن، انفارمیشن کمیشن اور کمیشن فار پروٹیکشن آف ویمن اینڈ چائلڈ راءٹس سمیت اہم اداروں کو بند کردیا گیا ہے اور ان کی جگہ نئے ادارے قائم کیے جائیں گے ۔ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو کیے گئے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے یو این ایچ سی آر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے بڑا سیاسی فیصلہ متاثرہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا ہے ۔ ان کے رہنما قید ہیں ۔ ان کے باخبر رہنے کی سہولیات ختم کر دی گئی ہیں اور ان کے آزادی اظہار اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حق کو پامال کیا گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے دو سال میں دوسری تہلکہ خیز جاری رپورٹ کے مطابق طاقت کا بے دریغ استعمال، نہتے شہریوں پر پیلٹ گنز کے مہلک حملے، نام نہاد محاصروں اور سرچ آپریشنز کے ذریعے ماورائے عدالت قتل، مظاہرین اور سیاسی مخالفین کو قید اورحراست میں ڈالنے کے مظالم کے ساتھ قابض فوج کے جبر و تشدد کو کالے قوانین کا تحفظ بھی حاصل ہے ۔ اظہار رائے کی آزادی سلب ، صحافیوں کو حقائق دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں ، کشمیری مسلمانوں کو مقبوضہ کشمیر سے باہر بھی نشانہ بنایا جا تاہے ۔ رپورٹ میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے احترام پر زور دیا گیا ۔ انسانی حقوق کی مبصر تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے انڈیا چیپٹر کے سربراہ آکر پٹیل کا کہنا ہے کہ کشمیر میں آزادی اظہار روکنا غیر قانونی ہے ۔ بھارتی سرکار مقبوضہ جموں اورکشمیر میں سیاسی رہنماؤں کو رہا کرے ۔ اس کے علاوہ بھارت مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی آواز دبانےکی کوشش بند کرے ۔ مقبوضہ وادی میں لگاتار126دن سے زندگی درہم برہم ہے ۔ حراست اور میڈیا پر پابندی نے معلومات کابلیک ہول پیدا کر دیا ہے ۔ آکرپٹیل نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں مقبوضہ کشمیرا نسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں دیکھ چکاہے ۔ بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی جاری ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کشمیر کو بولنے دو مہم جاری ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اسی لاکھ سے زائد کشمیریوں کو جبرا گھروں میں قید کردیا گیا ہے ۔ لوگ اپنے پیاروں کی خیریت کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں ۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے راتوں کو کشمیریوں کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں اور کشمیریوں کو ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں اور پیلٹ گنز کا استعمال بھی جاری ہے ۔ کشمیر میں بڑے پیمانے لوگوں کی نقل و حرکت روکنے، انہیں پرامن انداز میں اجتماع کے حق میں رکاوٹیں ڈالنے، صحت، تعلیم اور مذہبی فراءض کی آزادانہ ادائیگی کو روکنے کے لیے کرفیو نافذ ہے ۔ احتجاج کے دوران پیلٹ گنز، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں سمیت فورسز کے جارحانہ استعمال کے حوالے سے کئی الزامات ہیں اور غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق 5 اگست سے تاحال مختلف واقعات میں درجنوں شہریوں کو شہیدکیا گیا اور کئی افراد زخمی ہوئے ۔ دو سابق وزرائے اعلیٰ سمیت سینکڑوں سیاسی اور سول سوساءٹی کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ وادی سمیت دیگر کئی علاقوں میں متعدد بزرگ رہنماؤں کو مسلسل حراست میں رکھا گیا ہے ۔ ہمارے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر دنیا میں قابض فوج کی سب سے بڑی چھاوَنی بن چکا جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو غیر ملکی سیاحوں کیلئے بھی دوبارہ کھولا جا چکا ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینا ہی مسئلے کا واحد حل ہے ۔ جنوبی ایشیاء سمیت عالمی امن و سلامتی کیلئے یہ ناگزیر ہے ۔