حلقہ احباب سردار خان نیازی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد خان کی تاریخی حلف برداری

یہ عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد صاحب کے منصب جلیلہ کی تقریب حلف برداری تھی۔ دیکھا تو ساری محفل ہی گل و گلزار تھی۔ جب سے دشت ِ صحافت میں قدم رکھا ایسی تقاریب کو بہت دیکھا اور شرکت کی لیکن اس تقریب میں ، میں ایوان صدر کی دعوت پر ریاست کا مہمان نہیں تھا۔ یہ عالی قدر جناب جسٹس گلزار احمد صاحب کی تقریب حلف برداری تھی اور انہوں نے اپنی فیملی کے کچھ لوگوں کو بھی مدعو کر رکھا تھا اور اس نسبت سے میں ان کے مہمان کے طور پر وہاں موجود تھا۔ میرے ساتھ اسلم خان نیازی بھی عزت مآب چیف جسٹس کے مہمان کی حیثیت سے وہاں موجود تھے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے مدعو کیا اور وہاں جو عزت افزائی کی اور مجھے پہلی صف میں سپریم کورٹ کے گرامی قدر جج صاحبان کے ساتھ بٹھایا گیا تو اس عزت افزائی پر میں دل کی گہرائیوں سے ان کا ممنون اور مشکور ہوں۔
تقریب کے بعد جناب چیف جسٹس نے اپنی رہائش گاہ پر کھانا دیا جہاں سابق چیف جسٹس صاحبان ، سپریم کورٹ کے جج صاحبان اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور جج صاحبان بھی شریک تھے۔ جس حوالے سے مجھے تقریب حلف برداری میں مدعو کیا گیا اسی حوالے سے یہاں بھی عزت افزائی کی گئی اور جناب چیف جسٹس نے یہاں بھی مدعو فرمایا تھا ۔اس لیے میں بسرو چشم یہاں بھی شریک ہوا۔ ایک شاندار تقریب کے بعد یہ ایک شاندار محفل تھی ۔ جب میں نے برخوردار بیرسٹر ابو ذر نیازی کو عزت مآب جناب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد خان کے لان میں دیکھا تو لان مزید گل و گلزار آنے لگا ۔
میں جب چیف جسٹس جناب گلزار احمد خان کے ہاں سے رخصت ہوا تو میں سوچ رہا تھا یہ منصب محض ایک منصب نہیں یہ تو ذمہ داری کا ایک پہاڑ ہے جو اللہ نے ان کے کندھوں پر رکھ دیا ہے۔ یہ منصب کوئی معمولی منصب نہیں۔ یہ انصاف دینے کا عالی قدر منصب ہے۔اس زمین پر ، اس ملک میں انصاف کی سب سے بڑی مسند پر بٹھایا جانا جہاں اللہ تعالی کا انعام ہے وہیں یہ ایک بھاری ذمہ داری بھی ہے ۔چیف جسٹس آف پاکستان کے بعد پھر انصاف کے لیے اللہ کی عدالت ہی بچتی ہے ، اسی سے اندازہ لگا لیں کہ یہ عہدہ اور اس کے تقاضے کتنے بڑے ہیں۔تاہم مجھے اطمینان تھا کہ جسٹس گلزار احمدخان اس ذمہ داری پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اللہ رب العزت نے چاہا تو وہ اس عہدہ جلیلہ کی توقیر میں مزید اضافے کا سبب بنیں گے۔
جسٹس گلزار احمد خان کے بارے میں میرا یہ اعتماد کسی خوش گمانی پر قائم نہیں تھا۔ ان کی ساری زندگی میرے سامنے ہے اور اپنی دیانت ، اپنی اہلیت ، اپنی قابلیت ، اپنے کردار ، اپنے مطالعے ، اپنے ویژن اور اپنی راست فکر کی وجہ سے وہ بلاشبہ اس قابل تھے کہ اس منصب پر فائز ہوتے ۔ اللہ نے انہیں یہ ذمہ داری عطا کی۔ صلاحیتوں کی کمی نہیں اور کردار پختہ ہے جس کی سب گواہی دیتے ہیں۔ امید اور یقین ہے وہ اپنی راست بازی ، دیانت اور غیر معمولی صلاحیتوں کی بدولت اس امتحان میں سرخرو ہوں گے اور نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ملک کے لیے عزت کا باعث بنیں گے۔
جسٹس گلزار احمد خان ایک بھر پور شخصیت کے مالک ہیں۔ بے خوف اور نڈر ۔فیصلہ کرتے ہیں اور پورے میرٹ پر کرتے ہیں۔ میں ان کے متعدد فیصلوں کا طالب علم ہوں اور ان کے فیصلوں میں موجود ‘ جورسپروڈنس’ کی روشنی میں مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ وہ عدالتی نظام کو مزید فعال اور متحرک کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کے عمل کو احسن طریقے سے آگے بڑھائیں گے اور رہنما نقوش چھوڑ جائیں گے۔ ان کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کے خلاف جوڈیشل کونسل میں ایک بھی شکایت موجود نہیں۔
ہر فاضل اور عزت مآب چیف جسٹس کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے دور میں بہت سوموٹو لیے گئے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب کے دور میں ایک بھی سو موٹو نہیں لیا گیا۔ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ چیف جسٹس گلزار احمد خان کے دور میں کیا ہو گا تا ہم یہ مجھے یقین ہے کہ قانون کی حکمرانی کے حوالے سے یہ ایک بھرپور دور ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ سو موٹو بھی لیے جائیں ۔ کم یا زیادہ کے بارے میں اندازہ قائم کرنا مشکل ہے لیکن سوموٹو میرا خیال ہے کہ لیے جائیں گے جہاں جہاں ضروری خیال کیا جائے گا۔
چیف جسٹس صاحب کے پاس کافی وقت ہے ۔ یکم فروری 2022 تک۔امید ہے وہ انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی نقوش قائم کریں گے۔ہماری دعائیں اور نیک خواہشات ان کے ساتھ رہیںگی۔نیز عوام الناس نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد خان سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھیں ہیں۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔