- الإعلانات -

آصف غفور محب وطن اور زندہ دل شخصیت کے مالک فوجی

گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے سے تبدیل ہونے والے میجر جنرل آصف غفور پاک فوج کے میجر جنرل اور شعبہ بین الخدماتی تعلقات عامہ (پاک فوج) کے بیسویں ڈائریکٹر جنرل تھے ۔ وہ اِس عہدے پر 15 دسمبر 2016ء سے 16 جنوری 2020ء تک فائز رہے ۔ اْن کو جی او سی 40 ڈویژن (اوکاڑہ) تعینات کردیا گیا ۔ ان کی جگہ آئی ایس پی آر کی سربراہی میجر جنرل بابرافتخارکو سونپ دی گئی ۔ میجر جنرل بابر افتخار فروری کے آغاز میں اپنا عہدہ سنبھالیں گے، تب تک میجر جنرل آصف غفور ڈی جی آئی ایس پی آر کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہیں گے ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کوءٹہ کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج سے گریجوایٹ کیا اور بعد ازاں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج بنڈونگ (انڈونیشیا) اور اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ڈگریاں حاصل کیں ۔ ایم اے کی ڈگری کا مضمونِ خاص اسٹریٹجک اسٹڈیز تھا ۔ میجر جنرل آصف غفور 9 ستمبر 1988ء کو پاک فوج کی شاخ 87 میڈیم رجمنٹ میں بھرتی ہوئے ۔ 2008ء میں وہ باجوڑ میں طالبان کے خلاف محاذ میں بھی حصہ لے چکے ہیں ۔ 15 دسمبر 2016ء کو انہیں میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی عہدے پر مدت مکمل ہوجانے پر ڈائریکٹر جنرل شعبہ بین الخدماتی تعلقات عامہ (پاک فوج) مقرر کر دیا گیا ۔ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور ایسے وقت اس عہدے پر تعینات ہوئے تھے جب عسکری حکام نے ففتھ جنریشن وارفیئر کی جانب اپنی توجہ مبذول کی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ نوجوان دشمن کی سازش ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ‘ طلباملک کو در پیش چیلنجز سے با خبر رہیں ‘ دشمن قوتیں بذریعہ سوشل میڈیا نوجوان نسل کو ہدف بنا رہی ہیں ۔ بطور ڈی جی آئی ایس پی آران کی ذاتی مقبولیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،وہ جہاں جاتے پْر جوش پاکستانی ان کے گرد حلقہ بنا لیتے ،سیلفی بنانے والے تھکتے نظرنہ آتے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ میجر جنرل آصف غفور ایک محب وطن فوجی اور زندہ دل شخصیت کے حامل ہیں ۔ ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا ہر شخص معترف ہے ۔ بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر کھڑے رہنے اور مختلف اوقات میں اسے نیچا دکھانے میں آصف غفور کی شخصیت کا بڑا ہاتھ رہا ہے ۔ انہوں نے قوم ، پاک فوج اور وطن عزیز کی ترجمانی اس اچھے انداز میں کی کہ جہاں دشمن کے چھکے چھڑائے وہیں دنیا کو بھارتی دہشت گردی، شاطرانہ چالوں سے آگاہ بھی کیا ۔ خطے میں پاکستان کی پرامن اور برابری کے ساتھ رہنے کی خواہش کو پراثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ ہ میں آصف غفور پر فخر ہے کہ انہوں نے حقیقی معنوں میں پاکستان کا بیٹا ہونے کا ثبوت دیا ۔ آصف غفور کی شخصیت ایسی تھی کہ اپنے ہی نہیں دشمن بھی ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور زندہ دلی کے معترف تھے ۔ بھارتی آرمی چیف نے انفارمیشن وار فیئر میں پاکستان کی جیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انفارمیشن وار میں دشمن کے چکھے چھڑا رہا ہے ۔ بھارت کی آپریشنل معلومات لیک ہوئی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی آر نے پاکستان کےلئے بہترین کام کیا اس پر انہیں پورے نمبر دینا چاہوں گا ۔ جس طرح انہوں نے معلومات شیئر کرنے میں انتہائی پیشہ وارانہ مہارت کا استعمال کیا وہ سب کے سامنے ہیں ۔ بھارتی سائبر سکیورٹی چیف بھی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور کے معترف نکلے ۔ جنرل ریٹائرڈ راجیش پنٹ نے کہا کہ بیانیے کی جنگ کیسے لڑنی ہے ;238; یہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سے سیکھنا پڑے گا ۔ جنرل ریٹائرڈ راجیش پنٹ کا کہنا تھا کہ بھارت کی تینوں مسلح افواج کیلئے الگ الگ پبلسٹی ونگز ہیں ۔ تینوں افواج کے پبلسٹی ونگ اپنے اپنے راگ الاپ رہے ہوتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کا ایک آئی ایس پی آر موثر انداز میں بیانیہ دے رہا ہے ۔ بھارتی فورسز بھی پاکستان کی طرح مشترکہ آئی ایس پی آر تشکیل دیکر بیانیہ پیش کرے ۔ پاکستانی مسلح افواج کا ترجمان ہر فورس کے اقدامات کی منظم ترجمانی کرتا ہے ۔ اطلاعات کی جنگ میں پاکستانی ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات کو وزن دیا جاتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈی جی آئی ایس پی آر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرتے تو پورا یورپ انکی بات کو توجہ دیتا ہے ۔ جب پاکستانی ڈی جی آئی ایس پی آر خطے کو خطرات کی بات کرتے تو دنیا خطرے کو محسوس بھی کرتی ہے ۔ امن ہو یا میدان جنگ، پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ ہر وقت جاری رہتا ہے ۔ لیکن بظاہر میڈیا کی جنگ ایسا شعبہ ہے جس میں پاکستان کو بھارت پر سبقت حاصل ہے ۔ گزشتہ برس بالاکوٹ واقعے کے بعد بھارت کو انفارمیشن وارفیئر کے شعبے میں اپنی کمزوری کا اندازہ ہوا تھا ۔ واقعے کے دس دن بعد ہی بھارتی وزارت دفاع نے ’انفارمیشن وارفیئر برانچ‘ بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ بھارتی وزارت دفاع نے اس وقت کہا تھا کہ ’مستقبل کے میدان جنگ، ہائبرڈ وارفیئر اور سوشل میڈیا کو مد نظر رکھتے ہوئے نئی برانچ کو ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن وارفیئر کے ماتحت رکھا گیا ہے ۔ افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی کارکردگی پر بھارتی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل ستیش دعا کا کہنا تھا: ’پاکستان کی کارکردگی اتنی اچھی ہے کہ اطلاعات کے شعبے کے ذریعے پاکستان نے میدان جنگ کی اپنی خامیوں کو اچھے طریقے سے چھپایا ہے ۔ ‘ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور کے ٹویٹس کافی بروقت ہوتے تھے اور وہ کسی بھی بھارتی لیڈر کو برجستہ جواب دے دیتے تھے جس سے پاکستان کو بیانیے میں پہل ملتی ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے تبادلے پر بھی الوداعی ٹویٹ کیا کہ الحمداللہ،جن کے ساتھ رابطہ رہا سب کا شکریہ ۔ تمام پاکستانیوں کی محبت اورحمایت کاتہہ دل سے مشکورہوں ۔ نئے ڈی جی آئی ایس پی آر کی کامیابی کےلئے نیک خواہشات کا اظہارکرتاہوں ۔