- الإعلانات -

تاریخ کے خوف میں مبتلا ۔ نیابھارتی آرمی چیف

’’تجزیات‘‘ ایک سہ ماہی اْن لائن میگزین ہے ملک کے سینئر صحافی اورممتاز تجزیہ کار اور بڑے دانشور محمد عامر رانا اس میگزین کے مدیر ہیں ، اسی اْن لائن میگزین کی ایک اشاعت میں محترمہ روبینہ سہگل کا مضمون ’’تاریخ کا خوف‘‘ راقم نے پڑھا، بہت اہم مضمون ’’تجزیات‘‘ کے شکریہ کے ساتھ یہاں ہم اْسی مضمون کا یہ پیراگرف نقل کررہے ہیں جس میں کالم نگار نے اْن حکمرانوں کے چہروں پر پڑے ہوئے نقاب کھینچھے جو ہمیشہ تاریخ سے سبق لینے میں ناکام رہے کالم میں لکھا گیا ہے ’’متکبر حکمران طبقوں پر ہر جگہ،ہر خطے میں تاریخ کا خوف منڈلاتا دیکھا گیا ہے ‘‘لیکن اس کے باوجود جانتے بوجھتے ہوئے اپنی آنکھیں وہ کبوتروں کی مانند بند کیئے رہے اور وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ’’تاریخ فراموشی کے سمندروں میں ڈوبے ہوئے سچ نے ہر صورت میں سطح پرآنا ہی ہوتا ہے ا ورتاریخ ’’سچ‘‘ کو سورج کی روشنی کے حوالے ضرور کرتی ہےاور ہ میں خود فریبی کے تاریک خوابوں میں تاریخ ڈوبنے نہیں دیتی‘تاریخ زخموں کو بھلا دینے کی صلاحیتوں کو بے دست و پا کردیتی ہے‘جیسے کوئی بھی ایک شخص اپنے تکلیف دہ تجربات کو بھول جانا چاہتا ہے اپنے غلط اعمال وافعال کو یاد نہیں رکھنا چاہتا کہ کہیں ندامت اورذلت وخجالت کا شکار نہ ہو جائے،اسی طرح جبروقہر کے تکبر میں مبتلا سفاک ذہنیت حکمران طبقے بھی اپنے ناقابل قبول اعمال کو یاد نہیں رکھنا چاہتیں وہ یہ کوشش کرتی ہیں کہ صرف وہی باتیں قومی یادداشت کا حصہ بن جائیں جو خوشگوار ہوں یا جن اعمال پر قوم خود پرفخر کر سکے‘‘ اب ذرا وہ حلقے اندازہ لگائیں اورمختلف تعصبات سے بالاتر ہوکرسنجیدگی سے غوروفکرکریں جوتاریخ سے آنکھ مچولیاں کھیلنے کے عادی ہیں اگر تاریخ ایمانداری اور سچائی سے لکھی جائے تو چاہے کوئی کتناہی بڑا طرم خان ہی کیوں نہ ہو;238;وہ تاریخ میں اپنے بد اعمال وافعال کے ذریعے ہی سے شناخت کیا جائے گا، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’سلطان ٹیپو کو جس نے دھوکا دیا تھا،وہ میرصادق تھا،اس نے سلطان سے دغا کیا، انگریز سے وفا کی، انگریز نے انعام کے طور پر اس کی کئی پشتوں کونوازا انہیں ماہانہ وظیفہ ملا کرتا تھا، مگر پتہ ہے کسی کو!جب میر صادق کی اگلی کئی نسلوں میں سے کوئی نہ کوئی ہر ماہ وظیفہ وصول کرنے کے لئے عدالت آتا تو چپڑاسی صدا لگایا کرتا’’ میرصادق غدّار کے ورثاء حاضر ہوں ’’ یہ تاریخی سچائی بیان کرنے والے نے جن لمحوں یہ حقیقت اپنے بیٹے کو سنائی تووہ کہتے ہیں کہ ایک آنسو میری آنکھوں سے پھسلا اور تکیے میں جذب ہوگیا اور اپنے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا ’’میرے بیٹے! میری بات یاد رکھنا، جیسے شہید قبر میں جا کر بھی سیکڑوں سال زندہ رہتا ہے، ایسے ہی غدار کی غداری بھی صدیوں یاد رکھی جاتی ہے دنوں کے اختتام پر فرق صرف اس چیز سے پڑتا ہے کہ انسان تاریخ میں صحیح طرف تھا یا غلط طرف ‘‘آج کل ملک میں ’’غدار‘‘یا پھر ’’غداری‘‘ کے ایشوز پر باتیں بڑی ہورہی ہیں ’’کرزئی کے لندن یاترا پلان‘‘کے تذکرے یا اپنے اپنے دامنوں کو صاف دکھانے کی صرف باتیں ناکام ،کمزوراور ناقص و ضاحتیں اور صرف باتیں عوام کو ’’بھولنے والی قوم ‘‘نہ سمجھا جائے ’’میموگیٹ سکنڈل سے ڈان لیکس تک ،ملکی سپہ سالار کی مدت ملازمت کے معاملہ پر سیاسی اسکورننگ پوائنٹس گیم‘‘کرنے والوں کے اصل مذموم مقاصد کی کڑیاں کہا ں تک پھیلی ہوئی تھیں قوم اُن ’’مخفی ہاتھوں ‘‘کی جنبشوں کے حرکات وسکنات سے معاملہ کی تہہ تک سب کچھ بخوبی جان چکی ہے تاریخ ایسے وطن دشمنوں کواُن کے ملکی آلہ کاروں کو کبھی نہیں بخشے گی کیونکہ ہ میں یہ بھی اپنے پیش نظر رکھنا ہے وہ کیا یعنی دوسری طرف سرحد پار بھارت میں تازہ تازہ فوج کے سربراہ مقرر ہونے والے بھارتی فوج کے چیف جنرل منوج مْکند نرونے کے بیان سن لیں ،اْنہوں نے ’’فروری کے سبق‘‘کو بھلادیا اورساتھ ہی بتادیا کہ اْن کا تعلق بھی تاریخ کے اْن اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد میں شمار کیا جائے جو تاریخ سے مگر سبق حاصل نہیں کرنا چاہتے ایسا کرتے ہوئے یہ نئے بھارتی آرمی چیف ’’تاریخ کے خوف‘‘ میں مبتلا ہونے کے باوجود عظیم مغربی دانشور اورمفکر’’نطشے‘‘ کے اس قول کو جھٹلانے پر مصردکھائی دئیے ہیں جیسا اْس نے کہا تھا’’وقت کی حق تلفیوں اورمظالم کو جائز قرار دینے کے زیراثرمقاصد کو تاریخ کبھی اپنے صفحات میں چھپانہ سکی ‘‘یہ کتنی بڑی واضح صداقت ہے جیسے جرمنی میں نازیوں نے اور اٹلی میں فاشسٹوں نے نظریاتی عجوبوں کو تخلیق کرکے انسانیت کوبڑی بے دردی کے ساتھ اور بے رحمانہ سفاکیت سے کئی برسوں تک لہولہان کیا اسی طرح سے 1947 کی تقسیم ہند سے2002 تک صوبہ گجرات میں جاری رہنے والی نسل کشی تک اورپھر پانچ اگست کے بعد سے تاحال مقبوضہ کشمیر کی تالہ بندی اور لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں کو اجیرن کیئے رکھنے تک کے جاری سلسلہ سے تادم تحریر بھارتی مسلمانوں کے خلاف آر ایس ایس کی نسل پرستانہ کارروائیاں اور تشدد پر مبنی دو رخی بلکہ کثیرلجہتی انسانیت کش پالیسیو ں کی عکاس بھارتی افعال و اعمال دنیا کی نظروں میں عیاں ہے ہٹلراور مسولینی کی طرح مودی کے یہ ہتھکنڈے تاریخ کو مسخ کرنے کا مفہوم رکھتی ہیں ،لہٰذا نئے بھارتی آرمی چیف آر ایس ایس والوں کو خوش رکھنے اور اپنی وفاداری ادا کرنے میں ذرا صبراورتحمل سے سوچ سمجھ کا مظاہرہ کریں ملکی فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف کے اس بیان پربروقت اپنا رد عمل دے کر پاکستانی قوم کو ترجمانی کا حق ادا کردیا ہے قوم کو علم ہے کہ میجرجنرل غفور کبھی دیر نہیں کرتے اْنہوں نے بالکل برحق بھارتی آرمی چیف کی جانب سے ایل اوسی پار فوجی کارراوئی کے ایسے بیانات کو بیان بازیوں کا ڈھکوسلا قرار دیا اور صاف کہہ دیا ہے کہ پاکستانی فوج بھارت کو کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لئے تیار ہے کون نہیں جانتا کہ بھارتی آرمی چیف کا ایل او سی کے نام پر دیا گیا یہ بیان اصل میں دیش کی اندرونی خلفشارکی سی صورتحال اوراپنے مسائل سے عالمی میڈیا کی توجہ ہٹانے کی ایک بھونڈی ناکام کوشش ہے اور دنیا کو معلوم ہونا چاہیئے کہ بھارتی آرمی چیف کا یہ بیان بھارتی ریاستی اداروں کے انتہا پسندی کے نظرئیوں کا تازہ عکاس ہے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں فاشسٹ مودی ذہنیت کو یونہی اسی انداز سے بے نقاب کرتے رہیں گے علاقائی امن کو درپیش خطروں سے اقوام متحدہ ‘ عالمی طاقتوں کو بیدار رکھنے کا اہم فویضہ ادا کرتے رہیں گے تاریخ کا سبق بھولنے والے بھارت کو یاد دلاتے رہیں گے کہ بھارت 27 فروری 2019 کے اْس تاریخی سبق کونہ بھولے جس کامزہ وہ چکھ چکا ہے اگر اس کے باوجود بھارت باز نہ آیا تو میجر جنرل آصف غفور نے ڈنکے کی چوٹ پریہ باور کرادیا ہے کہ ’’بھارت کو آئندہ 27 فروری سے اور بھی زیادہ سخت جواب ملے گا‘‘ ۔