- الإعلانات -

جھوٹ اور منافقت بھارت کا طرہ َامتیاز

سچ کہتے ہیں کہ جھوٹ اور منافقت ایک روز رنگے ہاتھوں بے نقاب ہو ہی جاتی ہے چاہے وہ انفرادی زندگی میں ہو یا اجتماعی زندگی میں ۔ ہمارے ایک شیطان صفت پڑوسی ملک بھارت اور اس کے حکمرانوں کا منافقانہ طرز عمل ایک عرصہ سے ایسا چلا ;200; رہا ہے کہ جس کی مذمت کے لئے الفاظ بھی کم پڑ جاتے ہیں ۔ پچھلے چند برسوں میں درجنوں ایسے خود ساختہ واقعات بھارت اور کشمیر کے اندر ہو ئے ہیں جن کا الزام بھارتی حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان کے سر تھوپا ۔ پاکستان ان الزامات کو یہ کہہ کر مسترد کرتا رہا ہے کہ یہ ’’فالس فلیگ ;200;پریشن ‘‘ہیں جو بھارت پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کےلئے منصوبہ بندی کے تحت خود رچاتا ہے ۔ ان دنوں بھی مودی حکومت مقامی اخبارات کے ذریعے یہ ماحول بنا رہی کہ رواں ماہ 26 جنوری تک پاکستان کی طرف سے بڑے پیمانے پر دہشت گری کا واقعہ ہوسکتا ہے ۔ 26جنوری بھارت کا یوم جمہوریہ ہے اور یہ بھارتی عوام کےلئے اہم دن ہے ۔ اس دن کو پیش نظر رکھ کر چانکیائی فنکاروں نے اپنی عوام پر بڑا نفسیاتی وار کیا ہے ۔ اب مودی حکومت کےلئے متنازعہ شہریت بل پر بپھری عوام کی توجہ بٹانے کےلئے یہی ایک راستہ رہ گیا ہے کہ وہ ایسی کوئی حرکت کروا ڈالے جس کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے ۔ خدا نہ کرے کہ ایسی کوئی منصوبہ بندی کامیاب ہو لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ خطرناک نتاءج پر منتج ہو گی ۔

2001 کے بھارتی پارلیمنٹ حملہ سے لے کر پلوامہ ڈرامہ تک ہر بار دونوں ممالک میں بڑے تصادم کی نوبت ;200; تی رہی ۔ حالیہ کچھ عرصہ سے پاکستان تواتر کے ساتھ ایک بار پھر بین الاقوامی برادری کو پیشگی باور کرتا ;200; رہا ہے کہ بھارت کسی اور فالس فلیگ ;200;پریشن کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ اس دعوے کو ایک تصدیق مل بھی چکی ہے کہ اگلے روز بھارت کے ایک سینئر بھارتی پولیس افسر دیوندر سنگھ نئی دہلی جاتے ہوئے مبینہ حریت پسندوں کے ساتھ گرفتار ہوئے ہیں ۔ اس گرفتاری نے بھارتی سیکیورٹی اداروں کا خود دہشت گردی کا ڈرامہ رچا کر اس کا الزام پاکستان پر لگانے کا کردار بری طرح بے نقاب کر دیا ہے ۔ عین ممکن ہے کہ 26 جنوری تک جس دہشت گردی کا شور مچایا جا رہا ہے دیوندر سنگھ نے ہی اسے عملی جامہ پہنانا تھا ۔ دیوندر سنگھ وہ ہیں جن کا نام 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کے وقت بھی سامنے ;200;یا تھا ۔ اس وقت افضل گرو نے ایک خط کے ذریعے الزام لگایا تھا کہ 2001 کے پارلیمنٹ حملے میں دیوندر سنگھ نے انہیں ملوث کیا تھا ۔ افضل گرو کو پارلیمنٹ حملے کے الزام میں 9 فروری 2013 کو پھانسی دے دی گئی تھی ۔ متنازعہ شہریت بل کا تنازعہ ابھی حل نہیں ہوا کہ مودی حکومت کےلئے یہ نیا تنازعہ جلتی پر تیل کا کام کررہا ہے ۔ اپوزیشن بار بار سوال اٹھا رہی ہے کہ دیوندر سنگھ کون ہیں ;238; ان کا پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے میں کیا رول تھا;238; پلوامہ حملے میں کیا کردار ہے جہاں وہ ڈی ایس پی کے طور پر تعینات تھے;238; اور یہ بھی پوچھا جا رہا کہ اگر وہ کوئی مسلمان ہوتے تو کیا ہوتا ۔ کہیں پولیس افسر دیوندر سنگھ کسی سازش کےلئے نئی دہلی تو نہیں جا رہے تھے ۔ کیا متنازع قانون کے خلاف جاری مظاہروں سے توجہ ہٹانے کےلئے اور پاکستان پر نئی الزام تراشی کےلئے کوئی کھچڑی پک رہی تھی ۔ جن سوالات کی گونج بھارت کے کوچہ و بازار میں سنائی دے رہی ہے دراصل یہ وہ حقائق ہیں جن کا مودی کو سامنا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ مودی اور اسکے حواری اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سبق نہیں سکھیں گے ۔ وہ بھارت کے اندر لگی ;200;گ کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال رہے ہیں ،خدشہ ہے کہ اسکا ردعمل پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام کی صورت دکھائی دے گا ۔ اس کے کچھ اشارے ابھی سے ملنا شروع بھی ہو چکے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں کوءٹہ اور پشاور میں دہشت گردی کے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کے تانے بانے انہی ماسٹر مائنڈ سے ملتے ہیں جو ماضی میں پاکستان کےخلاف متحرک رہے ۔ اگر بھارت کی داخلی بے چینی نے اسی طرح مودی کی ناک میں دم کئے رکھا تو پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر ;200; سکتی ہے جبکہ بعض ;200;لہ کار اور کٹھ پتلیاں بھی حرکت میں ;200;ئیں گی اور وہ مرغوب لسانی نعرہ پھر سے بلند کریں گے ۔ اسکی بھی ایک جھلک اگلے روزخیبر پختونخواہ کے علاقے بنوں میں دیکھنے کو ملی جہاں پی ٹی ایم نے اپنے ;200;قاؤں کی خوشنودی کے لئے پھر پشتون کا نعرہ بلند کیا اور نام نہاد محرومی اور حقوق کا شور مچاتے رہے ہیں ۔ ٹی ٹی پی کی بیخ کنی کے بعد بھارتی لابی نے پی ٹی ایم کے نام سے ایک نیا ورژن لانچ کر رکھا ہے جو قبائلی پٹی میں عدم استحکام کا باعث بنتا رہتا ہے ۔ ہ میں اپنے سکیورٹی اداروں پر کامل یقین ہے کہ وہ دشمن کے کسی بہروپ کو جڑ نہیں پکڑنے دیں گے،اور اس برائی کا قلعہ قمع بھی ;200;خر ایک دن ہو جائے گا ۔ بنوں جلسے میں جو زبان استعمال کی گئی وہ کسی طور بھی کسی پاکستانی کی زبان نہیں تھی ۔ کہا گیا کہ ہندوستانیوں کو مفت ویزہ جاری کرتے ہو مگر افغانیوں کی راہ میں باڑ لگاتے ہو ۔ یہ بکواس بھی کی گئی کہ جو تاریں جو زنجیریں تم نے ڈیورنڈ لائن پرلگائی ہیں ، اللہ کی قسم ایک دن تمہاری گردن میں لٹکائیں گے ۔ یہ گمراہ کن موقف کہاں سے اور کون ان پی ٹی ایم کی کٹھ پتلیوں کے منہ میں ڈالتا ہے ، ایک عام پاکستانی بھی اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہے ۔ علی وزیر اور منظور پشتین نہ خود گمراہ ہوں نہ سادہ لوح قبائلی عوام کو گمراہ کریں ۔ ہندوستان ہو چین ہو یا ایران سب راستوں سے مروجہ قانون کے تحت ;200;مدورفت ہوتی ہے ۔ افغانستان اور افغانیوں کےلئے بھی سب قانونی راستے کھلے ہیں اور کھلے رہیں گے ۔ صرف چوروں کو قانونی راستوں سے خوف ہوتا ہے اور وہی شور مچاتے ہیں ۔ باڑ کا مقصد ہر گز افغانستان کا راستہ روکنا نہیں ہے بلکہ غیرقانونی طریقے سے پاکستان میں گھسنے والے دہشت گردوں ، اسلحہ و منشیات کے اسمگلروں اور اغوا کاروں کی روک تھام کرنا مقصود ہے ۔ اس باڑ پر جرائم پیشہ نیٹ ورک کے سرغنوں کے علاوہ کسی عام افغان بھائی کو نہ کوئی مسئلہ ہے نہ تکلیف ۔ افغانستان کے راستے سے اکثر اسلحے کے ٹرک، منشیات اور بارودی مواد پکڑا جاتا ہے تو کیا کبھی پی ٹی ایم نے افغان سکیورٹی اداروں پر تنقید کی کہ وہ اُس پار کیا کر رہے ہیں ۔ افغان سکیورٹی اداروں نے سی ;200;ئی اے اور را کی سرپرستی میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے کتنے دہشت گردوں کو پناہ دی اس پر تو کبھی زبان نہیں کھولی گئی لیکن پاکستان کے سکیورٹی اقدامات پر انگاروں پر لوٹنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ;200;خر دال میں ضرور کوئی کالا ہے ۔ افغان اور قبائلی پٹی کے پشتونوں کو گمراہ کرنے کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔ وہ اچھی طرح تمہاری دکانداری کو سمجھتے ہیں کہ یہ شور شرابہ کیوں ہے ۔ ایک عام پشتون افغانی اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان اس کا دوسرا گھر ہے ۔ جب بھی اس پر اپنے ملک کے اندر زمین تنگ ہوئی اسے پناہ پاکستان میں ملتی ہے ۔ لاکھوں افغان مہاجرین ;200;ج بھی پاکستان میں موجود ہیں ۔