- الإعلانات -

سلامتی کونسل : مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موَ قف کی چینی حمایت

اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے چین نے تین مرتبہ سلامتی کونسل میں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کی درخواست کی ہے ۔ ان میں میں گذشتہ سال اگست اور دسمبر جبکہ رواں سال جنوری شامل ہیں ۔ پاکستان میں چین کے سفیر یاوَ جنگ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو تاریخی طور پر نظر انداز کیا گیا ۔ یہ عالمی انصاف کا مسئلہ ہے ۔ چین مسئلہ کشمیر کے معاملہ اور کشمیر عوام کی جائز کازکےلئے ہمیشہ پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا ۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ طریقے سے حل ہونا چاہیے ۔ بھارت کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے اٹھائے جانے والے یکطرفہ اقدام پر بھی ہمارے تحفظات ہیں ۔ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی انصاف کا متقاضی ہے ۔ امید ہے کہ بین الاقوامی برادی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے انصاف پر مبنی فیصلہ کی حمایت کرے گی ۔ چین کو کشمیر میں بھارتی اقدامات کے حوالے سے بھی تشویش ہے ۔ اقوام متحدہ میں گزشتہ ہفتے ایک بار پھر کشمیر کا معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب سلامتی کونسل کے ایک بند کمرہ اجلاس میں اقوام متحدہ کے مبصرین نے کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کی حالیہ صورتحال پر بریفنگ دی ۔ گذشتہ پانچ ماہ کے دوران سلامتی کونسل میں چین کی درخواست پر کشمیر کے مسئلے پر دوسرا اجلاس ہے ۔ گذشتہ سال اگست کے دوران سلامتی کونسل کے اراکین نے کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت اپنے مسائل باہمی طور پر حل کریں ۔ چینی مندوب کا کہنا تھا کہ کشمیر پر ہمارا موقف واضح ہے ۔ امید ہے اس ملاقات سے دو فریقوں کے درمیان مزید تناوَ کے خطرات کے بارے میں سمجھنے میں مدد ملے گی اور مذاکرات کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ اس سے حل تلاش کیا جا سکے ۔ اس اجلاس کے بعد امریکہ میں ہی موجود پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے ملاقات میں بھی خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے انہیں بتایا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرہ لاحق ہے ۔ نہتے کشمیریوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری معصوم کشمیریوں کو نجات دلائیں ۔ ذراءع ابلاغ پر مکمل پابندی اور مواصلات کے بلیک آوَٹ کے ذریعے حقائق کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ پاکستان کی طرح چین نے بھی بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے جموں و کشمیر، لداخ، اکسائی چین کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لداخ کے حوالے سے بھارت نے ہماری خودمختاری خطرے میں ڈال دی ہے ۔ چین بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کا 60ء کی دہائی میں بھی بھرپور جواب دے چکا ہے جب بھارت نے لداخ سے ملحقہ چین کے علاقے اروناچل پردیش پر قبضہ جمانے کی نیت سے وہاں اپنی افواج داخل کیں اور چین کے بھرپور جوابی وار پر انہیں الٹے پاءوں وہاں سے بھاگنا پڑا ۔ پاک چین دوستی کی بنیاد بھی بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کے توڑ کی مشترکہ حکمت عملی کے تحت مستحکم ہوئی تھی ۔ اس تناظر میں ہی چین کشمیر ایشو پر نہ صرف پاکستان کے موقف کی ہر عالمی فورم پر حمایت کرتا رہا ہے بلکہ اس نے خود کو کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیکر کشمیریوں کیلئے ویزہ فری سہولتوں کا اہتمام کیا ۔ اس حوالے سے مودی سرکار کی جانب سے لداخ کو بھارت کا حصہ بنانے پر چین کی تشویش بجا ہے کیونکہ بھارت لداخ کے راستے چین میں مداخلت کی نئی سازش کر سکتا ہے ۔ اس تناظر میں چین نے کشمیر کے حوالے سے بھارتی اقدام کا فوری نوٹس لے کر پاکستان کے موقف کو تقویت پہنچائی ہے ۔ تنازع کو حل کرنے کےلئے بھارت اور چین کے درمیان برگیڈیئر سطح کے مذاکرات ہوئے جس میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ 15 اگست 2015 کو بھی دونوں ممالک کی افواج کے درمیان اسی علاقے میں ایک بڑی جھڑپ ہوئی تھی جس میں لاتوں ، گھونسوں اور سریوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا تھا جس سے متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے ۔ ایک اطلاع کے مطابق بھارتی فوج اگلے ماہ ریاست ارونا چل پردیش میں بڑی فوجی مشقیں ’ہم وجے‘ کرے گی جس میں اپنی نئے فورس انٹی گریٹڈ بیٹل گروپس آئی بی جیز کی جنگی صلاحیتوں کی آزمائش کی جائے گی ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان مشقوں میں 15 ہزار فوجی حصہ لیں گے جبکہ چین کو ان فوجی مشقوں سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا ہے ۔ چین اور بھارت کی2000 میل طویل مشترکہ سرحد ہے، جو کہ شمال مغرب میں جاکر پتلی سی راہداری کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور یہ راہداری ہی آج کل ایٹمی طاقت رکھنے والے دو پڑوسی ممالک کے درمیان تنازع کی وجہ بنی ہوئی ہے ۔ بھارت ، چین اور بھوٹان کی سرحد کے قریب ایک ٹرائی جنکشن پر سڑک کی تعمیر کے حوالے سے دو ایشیائی حریفوں کے درمیان تعطل برقرار ہے ۔ دونوں ہی ملک اپنی اپنی سرحدوں پر فوجیوں کی بنیادی سہولیات میں اضافہ کر رہے ہیں ، کیونکہ دونوں ہی اس علاقے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی چینی موَقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر چین کے پوزیشن نہ بدلنے اور بھارت کو سلامتی کونسل ارکان کو جواب دینے کے موقف کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نازی طرز کے حراستی مراکز بنانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اگر دنیا نے کشمیر میں بھارتی مظالم پر آواز نہیں اٹھائی تو تشویشناک صورتحال سے انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے ۔