- الإعلانات -

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کےلئے پاکستان کی کلیدی کوششیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے خطے میں امن وامان کے لئے پاکستان انتہائی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اس سلسلے میں وزیرخارجہ نے پہلے دیگرممالک خصوصی طورپرعراق اورایران کے سفراء سے ٹیلی فونک رابطے کئے اوراس کے بعد وہ ایران کے خصوصی دورے پرگئے وہاں پران کی متعلقہ حکام سے ملاقات کے علاوہ ایرانی صدرحسن روحانی سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں موجودہ صورتحال پرتفصیلی بات چیت کی گئی،اس ملاقات کے دوران انہوں نے کشمیرکے حوالے سے بھی ایران کوبریفنگ دی ۔ واضح رہے کہ پاکستان پہلے ہی فریقین کوصبروتحمل کی تلقین کے علاوہ کہہ چکا ہے کہ کسی بھی مسئلے کاحل فوجی یاجنگ نہیں ہوتا ، مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کئے جاتے ہیں لہٰذا امریکہ، ایران کو اس سلسلے میں باہمی گفت وشنید سے درپیش غلط فہمی یاممکنہ جنگ سے بچنے کے لئے مسئلے کو حل کرناہوگا ۔ اس سلسلے میں پاکستان بہت زیادہ ممدومعاون ثابت ہوسکتاہے ۔ امیدواثق ہے کہ وزیرخارجہ کے دورے کوئی نہ کوئی مثبت نتاءج کے حامل ہوں گے ۔ اِدھردفتر خارجہ کے مطابق ایران، امریکہ کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ایران اور سعودی عرب کے دورہ پر ہیں ۔ مشہد پہنچنے پر ڈپٹی گورنر جنرل صوبہ خراسان رضاوی محمد صادق باراتی، مشہد میں پاکستان کے قونصل جنرل عرفان محمود بخاری اور پاکستان قونصل خانے کے حکام نے وزیر خارجہ کا پرتپاک خیر مقدم کیا ۔ شاہ محمود قریشی نے مشہد میں روضہ امام رضا علیہ السلام پر حاضری دی ۔ انہوں نے پاکستان کی سلامتی اور مسلم امہ کے اتحاد و یگانگت کیلئے خصوصی دعائیں کیں ۔ جاری کئے گئے ایک اعلامیے کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں ایران امریکہ کشیدگی، خطے میں امن و امان کی صورتحال اور پاک ایران کثیرالجہتی، تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے مابین گہرے، تاریخی، مذہبی اور ثقافتی برادرانہ تعلقات ہیں ، پاکستان ، ایران کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے ۔ اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ نے حالیہ صورتحال پر پاکستان کا موقف ایرانی صدر کے سامنے رکھتے ہوئے، خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے معاملات کو سفارتی ذراءع بروئے کار لا کر افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے پاکستان کی طرف سے قیام امن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کشیدگی میں اضافے کا متمنی نہیں ۔ حالیہ پیش آنے والے واقعاتِ کے تناظر میں ، خطے کے امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے ، کشیدگی میں کمی لانے اور مسائل کے پرامن حل کے لئے فوری اور اجتماعی کاوشوں کی ضرورت ہے ۔ وزیرخارجہ نے ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ و دیگر رہنماءوں کے ساتھ ہونیوالی ملاقاتوں میں انہیں حالیہ صورتحال پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تناءو کی اس کیفیت کو اعتدال پر لانے، کشیدگی میں کمی لانے اور سفارتی ذراءع سے مسائل کا حل تلاش کرنے کی جملہ کوششوں کی حمایت کی جائے ۔

ایم کیوایم ناراض۔۔۔حکومت

کی منانے کی کوششیں

ملک بھر میں اس وقت موسم سرد ہے بلکہ یخ بستہ ہواءوں کاراج ہے ،ملکہ کوہسار،چترال اوربلوچستان کے مختلف علاقوں میں برفباری جاری ہے کے پی کے میں بھی شدیدسردی ہے لیکن وفاقی دارالحکومت کاسیاسی موسم انتہائی گرم ہے ایم کیوایم کے کنوینئراوروفاقی وزیرخالد مقبول صدیقی کے وفاقی کابینہ سے مستعفی ہونے کے بعد سیاسی ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ اگرایم کیوایم حکومت سے ناراض ہوتی ہے تو ایوان میں نمبرآف گیم کامسئلہ درپیش ہوسکتاہے پھرساتھ ہی مینگل گروپ بھی کچھ ناراض ناراض نظرآتا ہے اگر اس نے بھی راہیں جداکیں تو پھرپی ٹی آئی حکومت ایوان میں اپنی اکثریت کھودے گی لہٰذا ا س وجہ سے حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ ایم کیوایم کے تحفظات کو دورکیاجائے وزیراعظم بھی اس حوالے سے ذاتی طورپر حالات کو مانیٹر کررہے ہیں ہم یہاں حکومت کو یہ ضرورکہیں گے کہ موجودہ صورتحال کے درپیش ہونے سے پہلے بہترتھا کہ عوام اورمتعلقہ سیاسی پارٹیوں خصوصی طور پر جو اتحادی ہیں اُن سے جوعدے وعیدکئے تھے ان کو پورا کردیاجاتاتو پھریہ صورتحال پیدانہ ہوتی ۔ متحدہ قومی مو ومنٹ پاکستان وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کر تے ہوئے حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے استعفیٰ دیدیا جبکہ بلوچستا ن نیشنل پارٹی (مینگل)نے بھی حکومت کیساتھ مزید چلنے یا نہ چلنے پر غور کیلئے کورکمیٹی کا اجلاس بلا لیا ۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ہمارے ایک بھی نکات پر پیش رفت نہیں ہو رہی ، اب وزارت میں بیٹھنا بے سود ہے، تاہم حکومت سے تعاون جاری رکھیں گے،فروغ نسیم ایم کیو ایم کے کوٹے پر کابینہ میں نہیں ہیں ۔ خالد مقبول کے استعفے کے بعد وفاقی حکومت وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کی دوڑیں لگ گئیں ، وزیراعظم کی ہدایت پر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایم کیوایم کے رہنماءوں فیصل سبزواری اور خواجہ اظہار الحسن سے رابطہ کرکے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی کے لوگوں نے تحریک انصاف پر جو اعتماد کیا اسے کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے ۔

ملک بھر میں بارشوں

نے تباہی مچادی

امسال سردی اوربارشوں نے ملک میں بہت زیادہ تباہی مچاہی ہے گوکہ یہ قدرتی آفت ہے لیکن کیا حکومت نے قبل ازوقت حفاظتی انتظامات کئے تھے یانہیں ;238; سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہرسال سیلاب بھی آتے ہیں ، بارشیں بھی ہوتی ہیں ، شدیدگرمی بھی پڑتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس حوالے سے کبھی بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، گرمیوں میں بجلی کابحران سردیوں میں گیس کابحران ، بارشوں اوربرفباری میں نظام زندگی معطل ہونے کابحران مگرباقاعدہ حل کبھی نہیں نکالاگیاچونکہ اب سردی واپس دوبارہ آگئی ہے اور ملک کے بیشتر علاقوں میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیاہے، برفباری اوربارشوں کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا کوءٹہ، قلات اور زیارت سمیت بلوچستان کے اکثر علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے ۔ کمروں کی چھتیں گرنے سے اب تک بچوں سمیت 11افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے کئی اضلاع میں ایمرجنسی نافذ ہے ۔ کوءٹہ سمیت مستونگ،کچلاک چمن، کان مہترزئی ، مسلم باغ ، ماشکیل ، توبہ کاکڑی ، توبہ اچکزئی ،ہرنائی، زیارت ، گوادر، لسبیلہ، قلات، کچھی ، مچھ و دیگر علاقوں میں برف باری اوربارش کے باعث اکثر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع اور بعض علاقو ں میں برفباری کے باعث قومی شاہراہوں کی بندش کے باعث سیکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں پھنس گئی ہیں ۔ بارش کی وجہ سے پاک ایران ریلوے لائن اور آر سی ڈی شاہراہ بھی متاثر ہوئی ہے، شدید برفباری کی وجہ سے کوءٹہ میں بجلی کا طویل ترین بریک ڈاءون ہے بلکہ مختلف اضلاع میں تو بجلی بھی بند ہے رہی سہی کسر گیس پریشر کی کمی اور انٹرنیٹ نظام کی خرابی نے پوری کر دی ۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ

کی ہٹ دھرمی

خطے کی صورتحال کوکھیلوں پراثراندازنہیں ہوناچاہیے، یہ وہ صحت مندانہ سرگرمیاں ہوتی ہیں جن سے مختلف ممالک ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں بلکہ آپس میں ثقافت کاتبادلہ ہوتاہے مختلف ممالک کے شہریوں کوایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کاموقع ملتاہے اس سے قربتوں میں اضافہ ہوتاہے لیکن بنگلہ دیش کی عجیب منطق ہے کہ اس نے کھیل کوبھی سیاست کادیدیا ہے جوکہ انتہائی غلط اقدام ہے اس سلسلے میں آئی سی سی کونوٹس لیناچاہیے اوربنگلہ دیش کو پابندکرناچاہیے کہ وہ اپنی ٹیم پاکستان بھیجے ورنہ اس کاقطعی طورپربائیکاٹ کردیاجائے گا، کھیلوں کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوناچاہیے لیکن اس کے باوجود بنگلہ دیش کرکٹ بورڈنے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے سے پھرانکار کر دیا ۔ بی سی بی کے صدر ناظم الحسن چوہدری نے کہا ہے کہ حکومتی ایڈوائس کے مطابق پاکستان میں صرف ٹی ٹوئنٹی کھیل سکتے ہیں ۔ فیصلہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال دیکھتے ہوئے کیا،صورتحال بہترہوئی تو بعد میں ٹیسٹ میچز کھیل سکتے ہیں پی سی بی کو جلد باضابطہ آگاہ کر دیں گے ۔