- الإعلانات -

مقبوضہ وادی میں اسرائیلی کمانڈوز کی موجودگی

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور لاک ڈاءون کے بعد بڑی تعداد میں اسرائیلی مقبوضہ کشمیر پہنچ گئے ہیں ۔ علاقے میں دیکھا جا رہا ہے کہ اسرائیلی سیاحوں کی کثیرتعداد اب لیہہ کے سارے علاقہ میں سڑکوں سے لے کر ہوٹلوں تک اور ریستورانوں سے بودھ راہبوں کی خانقاہوں تک ہر جگہ موجود ہیں ۔ لیہہ کے بازاروں اور عام مقامات پر جگہ جگہ لداخی اور عبری (اسرائیلی) زبانیں بولی اور سنی جارہی ہیں ۔ اکثر دکانوں کو بھی اسرائیلی سیاحوں اور گاہکوں کے مزاج ھو گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 170 ویں روز بھی سخت کرفیو اور مواصلاتی ذراءع کی معطلی کے باعث وادی کشمیر اور جموں خطے کے پانچ اضلاع میں معمولات زندگی مفلوج ر ہے ۔ 5اگست سے وادی کشمیرکا رابطہ باقی دنیا سے منقطع ہے جب بھارت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی ۔ اس وقت سے انٹرنیٹ، موبائل اورلینڈ لائن سروسز معطل اورٹی وی نشریات بند ہیں ۔ مودی حکومت نے اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ہندو آبادکاری کا منصوبہ تشکیل دیا ہے ۔ بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما رام مادھو نے کہا ہے کہ منصوبے کے مطابق جموں و کشمیر میں دو سے تین لاکھ ہندوَوں کو ناصرف رہائش بلکہ مکمل سیکیورٹی بھی فراہم کی جائے گی ۔ مقبوضہ وادی کے مسلم اکثریتی علاقے میں ہندو بستیاں آباد کی جائیں گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں 1990ء سے ہی اسرائیل فورسز کی تربیت ، سراغرساں امور میں تعاون اور کشمیری حریت پسندوں کے خلاف آپریشن کیلئے بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کررہا ہے ۔ اسرائیلی حکومت نے اپنے اس تعاون کو اب مزید مضبوط اور موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسرائیلی کمانڈوز کی سیاحوں کے روپ میں مقبوضہ کشمیر آمداسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ کشمیری عوام یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ بھارتی حکمران اسی طرح کشمیر میں مسلمانوں کو بے بس اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جسطرح اسرائیل نے فلسطین میں کیا ہے ۔ بھارتی حکمران کشمیر یوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے اور اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی سے دستبردار کرنے کیلئے مکمل طور پراسرائیل کی رہنمائی میں کام کرنا چاہتے ہیں ۔ اب بھارت بھی چاہتاہے کہ کشمیر میں اسرائیل کی موجودگی کو تعلیم، طب، کلچر اور تجارت کی شکل میں مضبوط اور موثر بنایا جائے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کا خون پانی کی طرح بہانا شروع کردیا اور گزشتہ دنوں مختلف علاقوں میں بیسیوں نوجوانوں ریاستی طاقت کے استعمال سے ابدی نیند سلادیا اور اب انکشاف ہوا ہے کہ پیلٹ گنز اور دیگر ہتھیاروں کے بعد اب بھارت نے مقبوضہ وادی میں اسرائیل ساختہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال شروع کردیا جو گھروں کو سیکنڈز میں جلا کر راکھ کردیتے ہیں ۔ پلوامہ میں تین نوجوانوں کی لاشیں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں جلے ہوئے گھروں کے ملبے سے ملی ہیں ، جو جلنے کی وجہ سے شناخت کے قابل بھی نہ رہیں ۔ بھارت اور اسرائیل جموں و کشمیر اور فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر اپنا اپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے کے لئے کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کا خون بہانے میں کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں اور انتہا پسند ہنود و یہود کے اس ظالمانہ کھیل میں انہیں امریکہ کی اشیرباد بھی حاصل ہے ۔ غزہ میں جدید ترین اور مہلک ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی فوج نے30ہزار فلسطینیوں کے پرامن مارچ پر آتش و آہن کی بارش کر کے متعددافراد کو شہید کر دیا تو اس سے شہہ پا کر بھارتی فو ج نے مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشن کے نام پر ضلع شوپیاں اور اسلام آباد میں حملے کر کے کشمیری نوجوانوں کو شہید اور دو سو سے زائد کو لہولہان کر دیا جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے ۔ بی جے پی بظاہر قوم پرست جماعت ہے‘ مگر اس کے بیشتر رہنما انتہا پسند ہندو تنظیم’’ آر ایس ایس‘‘ (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس تنظیم کے بانی مثلاً دمودر ساورکر‘ ڈاکٹر مونجے‘ ڈاکٹر کیشوہیڈ گوار‘ ایم ایس گوالکر وغیرہ ان یہودی رہنماؤں کے خیالات و نظریات سے متاثر تھے جنہوں نے صہیونیت کی بنیاد رکھی ۔ جس طرح صہیونیت کے بانیوں نے یہ وکالت کی کہ فلسطین صرف یہود کا ہے‘ چنانچہ عربوں کو وہاں سے نکل جانا چاہیے ۔ اسی طرح آر ایس ایس کے رہنماؤں کی بھی خواہش چلی آ رہی ہے کہ مسلمان بھارت سے نکل جائیں یا ’’ہندوسپرمیسی‘‘ قبول کر لیں ۔ یہی نظریاتی مطابقت اسرائیلی اور بی جے پی حکومتوں کو قریب لے آئی ۔ 2014ء میں جب پہلی مرتبہ مودی حکومت برسراقتدار آئی تو اسرائیلی حکمران طبقہ خوشی سے کھل اٹھا ۔ وجہ یہی کہ کانگریس کی بہ نسبت بی جے پی اسرائیلی حکومت کے زیادہ قریب ہے ۔ اس قربت کا عیاں مظاہرہ حالیہ غزہ جنگ کے دوران ملا ۔ کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیاں فلسطینیوں پہ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف پارلیمنٹ میں قرارداد لانا چاہتی تھیں ، مگر بی جے پی سے تعلق رکھنے والے اسپیکر نے اجازت نہ دی ۔ پچھلے 63 برس میں یہ پہلا موقع تھا کہ بھارتی حکمران طبقہ ظاہری طور پر بھی مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی نہ کرسکا ۔