- الإعلانات -

وہ وقت جب امریکی فوجیوں نے ایران کا مسافرطیارہ مارگرایا

ایران کی جانب سے دعویٰ کیاجارہاہے کہ اس نے یوکرائن کا طیارہ غلطی سے مارگرایاہے، تاہم کسی بھی مسافر طیارے کا غلطی سے میزائلوں کی زد میں آنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔اگر ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں ہی دیکھا جائے تو اس سے قبل تین جولائی 1988کو امریکی فوجیوں نے بھی ایران کے ایک مسافر طیارے کو ‘غلطی ‘ سے مار گرایا تھا۔

الجزیرہ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں گشت کرتے امریکیوں نے ایرانی شہر بندر عباس سے دبئی جانے والی یرانی فضائیہ کی پرواز کو خلیج فارس پر ہی میزائل مارکرتباہ کردیاتھا۔امریکی فوجی اہلکاروں نے اس واقعہ کو ایک ’غلطی‘ قرار دیا تھا۔ایرانی فضائی کمپنی کے اس ایئر بس 300طیارے پر 66 بچوں سمیت200 افرادسوار تھے جو لقمہ اجل بن گئے۔

ایران کی جانب سے شدید ردعمل اور عالمی عدالت انصاف میں طویل قانونی کارروائی کے بعد امریکا کومتاثرین کو ایک سو ایک اعشاریہ آٹھ ملین ڈالرز ہرجانہ اداکرنا پڑاتھا۔تاہم امریکا نے اس واقعے پر معافی مانگنے سے انکار کردیا تھا۔بعدازاں امریکا نے مسافر طیارے کو نشانہ بنانے والے یو ایس ایس میرین ول سی راجرز کو لیجنڈ آف میرٹ کے ایوارڈ سے بھی نوازاتھا۔

امریکا ہی نہیں یوکرائن سے بھی یہ’ غلطی‘ سرزد ہوچکی ہے۔اکتوبر دوہزارایک میں اسرائیلی مسافروں سے بھرے ایک جہاز کو اس وقت میزائل مارکراڑادیاگیاجب وہ بلیک سی پر پرواز کررہا تھا۔یہ بدقسمت طیارہ تل ابیب سے نووسبرک جارہا تھا کہ میزائل کا نشانہ بن گیا۔واقعے میں اٹہتر افراد ہلاک ہوئے۔واقعے کے ایک ہفتے بعد کیف حکومت نے تسلیم کرلیا کہ طیارہ ’حادثاتی‘ طورپر میزائل فائر ہونے سے نشانہ بنا۔

مذکورہ واقعات کے علاوہ ملائیشین پرواز ایم ایچ سترہ کے 298، صومالیہ کی کارگو پرواز کے11،جنوبی کورین پرواز کے269اور لیبین پرواز کے 112افراد مختلف واقعات میں’غلطی‘ سے فائر ہونے والے میزائلوں یا راکٹوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔