- الإعلانات -

پاکستان پر مقبوضہ وادی میں دراندازی کا بھارتی الزام

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ بھارت نے کبھی بھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ۔ اس لئے اس نے پاکستان کے خلاف اپنے مذموم پروپیگنڈے کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے ۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان سے درانداز آرہے ہیں اور بھارتی فورسز کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے اب تک پاکستان کی طرف سے 135 در اندازوں کو بھیجا گیا ۔ یہ درانداز کشمیریوں کی اخلاقی، مالی اور فوجی امداد کرتے ہیں اور کشمیریوں میں بھارت کے خلاف جذبات ابھار رہے ہیں ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر آئینی قبضے کے بعد بھارت نے پاک سرحد پر 25 سے زائد جگہ پر باڑ کے ساتھ ساتھ رکاوٹوں کا نظام اور دو سے تین درجے کی سیکورٹی بھی کر رکھی ہے ۔ یہ وہ جگہیں تھیں جہاں سے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں داخل ہوا جا سکتا تھا ۔ فوج اور بی ایس ایف کی حفاظت کے پہلے درجے کے علاوہ کنٹرول لائن اور آئی بی کے ساتھ ساتھ گاؤں کی دفاعی کمیٹیوں کے علاوہ پولیس بھی الرٹ کر دی گئی تھی ۔ سرحد کے آس پاس چوکیاں بھی بن گئی تھیں ۔ پھر پاکستانی درانداز کیسے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو گئے ۔ یہی سوال آج کل بھارتی میڈیا بھی اپنی حکومت اور فوجی قیادت سے پوچھ رہا ہے ۔ لیکن حکام اس کا جواب دینے سے کترا رہے ہیں ۔ اگر واقعی درانداز مقبوضہ علاقے میں داخل ہوئے ہیں تو پھر آپ کی سیکورٹی کہاں گئی ۔ کیا فوج، پولیس اور دیگر ایجنسیز اتنی بوگس ہیں کہ وہ چند دراندازوں کو نہیں روک سکتیں ۔ یہ سب پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے ہیں تاکہ دنیا میں پاکستان کا امیج خراب کیا جا سکے ۔ حالانکہ مودی سرکار نے کشمیر میں جو کچھ کیا ہے اس پر دنیا جہاں سے مذمت کی جا رہی ہے اور بھارتی حکومت کوہر محاذ پر ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی زہرافشانی اور بے جا پروپیگنڈا کی روداد ہماری سوچ سے بھی زیادہ وسیع ہے کیونکہ چند روز قبل پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنیوالی سیکڑوں جعلی بھارتی ویب ساءٹس کا انکشاف بھی ہوا ہے ۔ یورپی یونین کی ایک کمپنی نے 256 سے زائد ایسی جعلی ویب ساءٹس کا انکشاف کیا ہے جو پاکستان کے خلاف مواد شاءع کرتی رہی ہیں ۔ یہ بھارتی ویب ساءٹس دنیا کے 65 ممالک سے کام کررہی تھیں ۔ جعلی خبروں کی تلاش اور نشاندہی کرنے والے ایک ادارے ’ ڈس انفو لیب‘ نے دنیا کے 65 ممالک میں کم ازکم 256 ایسی ویب ساءٹس کا انکشاف کیا ہے جو مقامی طور پر جعلی خبریں گھڑنے میں مصروف تھیں ۔ یہ تمام ویب ساءٹ بھارت کے زیرِ اثر کام کررہی تھیں اور ان کا مقصد یورپ اور اقوامِ متحدہ میں بھارتی اثرورسوخ بڑھانا اور پاکستان کے خلاف منفی خبریں نشر کرنا تھا ۔ مثال کے طور پر یورپی پارلیمنٹ ایک ماہانہ رسالہ ای پی ٹوڈے نکالتی ہے جس کے بھارتی تنظیموں اور تھنک ٹینک سے گہرے تعلقات ہیں ۔ ای پی ٹوڈے وائس آف امریکا اور رشیا ٹوڈے سے ایسے مواد لے کر انہیں دوبارہ شاءع کرتی ہیں جن میں پاکستان میں اقلیتوں کے مسائل نمایاں ہوتے ہیں ۔ ای پی ٹوڈے کے دہلی ٹائمز اور دیگر بھارتی میڈیا ہاوَسز سے بہت گہرے تعلقات بھی ہیں ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ای پی ٹوڈے میں پاکستان مخالف مواد بعد میں کئی جعلی ویب ساءٹ نے من و عن لیا اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ۔ ان میں ٹائمز آف جینیوا نامی جعلی ویب ساءٹ بھی شامل ہے ۔ اس کے بعد یورپی کمپنی نے آئی پی ایڈریس کا سراغ لگانے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ کل چار نیوز ایجنسیاں سوئزرلینڈ، بیلجیئم، تھائی لینڈ، ابوظہبی میں واقع ہیں اور ان کے 100 نمائندے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح ایک ہی مضامین کا سلسلہ بار بار کئی ویب ساءٹس میں شاءع کیا گیا جس میں بھارت کو اچھا دکھانا اور پاکستان کا منفی چہرہ ظاہرکرنا تھا ۔ اس پورے کھیل میں ہر مقام کے مشہور اخبار یا میڈیا ہاوَس سے ملتے جلتے نام رکھے گئے ۔ مثلاً لاس اینجلس ٹائمز کی طرح لاس اینجلس ٹائمز نامی ایک ویب ساءٹ بنائی گئی ۔ اس طرح آسٹریلیا، میامی اور ڈبلن کے نام استعمال کرکے جعلی خبروں کی بے بنیاد ویب ساءٹس بنائی گئیں ۔ ان ویب ساءٹس کو ایک جانب پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تو دوسری جانب بطورِ خاص مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے اور اس سے بالخصوص یورپی عوام کو بھی گمراہ کیا گیا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی بھارت کو سپورٹ کرنے والی 265 جعلی ویب ساءٹس کے ثبوت منظر عام پر لانے کی رپورٹ پر کہا ہے کہ عالمی سطح پر ثابت ہو گیا ہے کہ 265جعلی ویب ساءٹس بھارت کو سپورٹ کر رہی ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار نان الائنڈ سٹڈیز یورپی ممبران پارلیمان کے 27 رکنی گروپ کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر خصوصی دورے پر لے گیا ۔ اس دورے کے دوران ان کی ملاقات وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی کروائی گئی ۔ اس دورے کو ذراءع ابلاغ میں کوریج دی گئی اور بعد ازاں صحافی ان ویب ساءٹس کو اس ;39;متنازعہ دورے;39; کے منتظمین کے ساتھ جوڑنے لگے ۔ اتنی کثیر تعداد میں جعلی ویب ساءٹس بنانے کے مقاصد کیاہو سکتے ہیں ۔ ایک تو مخصوص پروگراموں اور مظاہروں کی کوریج کے ذریعے بین الاقوامی اداروں اور منتخب نمائندوں کی رائے پر اثر انداز ہونا ۔ این جی اوز کو ایسا مواد فراہم کرنا جو ان کی ساکھ میں بہتری کا باعث ہو ۔ سرچ انجنز پر دستیاب ایک ہی جیسا مواد فراہم کر کے پاکستان کے حوالے سے عوام کے تاثرات کو متاثر کرنا ۔