- الإعلانات -

’چائنیز گوگل‘ نے بھی ’بلاک چین‘ سروس شروع کردی

بیجنگ: اس وقت جبکہ پاکستان میں بلاک چین ٹیکنالوجی کو صرف کرپٹو کرنسی کی ٹیکنالوجی ہی سمجھا جارہا ہے، ’’چائنیز گوگل‘‘ کے نام سے شہرت رکھنے والے سرچ انجن ’’بیدو‘‘ (Baidu) نے ’’سوپرچین‘‘ (Xuperchain) کے نام سے آزمائشی بلاک چین سروس شروع کردی ہے جو فی الحال صرف کاروباری اور تجارتی اداروں کےلیے ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کا کام صرف کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن وغیرہ) تیار کرنا ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ درست بات یہ ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کو ’’مستقبل کا انٹرنیٹ‘‘ قرار دیا جارہا ہے جس کے ذریعے نہ صرف ڈیٹا کو شفاف انداز میں انٹرنیٹ پر رکھا جاسکے گا بلکہ یہ ڈیٹا (بلاک چین ٹیکنالوجی ہی کی بدولت) ہیکرز کی دست برد سے محفوظ بھی رہے گا۔

غرض کہ ایسی آن لائن سروسز جن میں سیکیورٹی سے متعلق معاملات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، ان سب میں بلاک چین ٹیکنالوجی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرسکے گی۔ مشرقِ وسطیٰ کے کچھ ممالک میں جائیداد کی رجسٹریشن سے لے کر صحت کی عوامی سہولیات تک، تقریباً ہر طرح کی خدمات کو بلاک چین کی مدد سے محفوظ تر، تیز تر اور پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنایا جارہا ہے؛ جس سے توانائی اور کاغذ کی بھی بڑے پیمانے پر بچت ہورہی ہے۔

البتہ ’’بیدو‘‘ کی ’’سوپرچین‘‘ (Xuperchain) سروس کو چینی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اور عملاً اس میں ’’عدم مرکزیت‘‘ نہیں ہوگی بلکہ ہر چیز پر چینی حکومت کا مرکزی کنٹرول ہوگا۔

سوپر چین سروس، جو فی الحال اپنی بی-ٹا ریلیز کی شکل میں ہے، چھوٹے اور درمیانی جسامت کے کاروباری اداروں کو بہت کم خرچ پر اپنی ڈی سینٹرلائزڈ ایپس (ڈی ایپس یا dapps) لانچ کرنے کی سہولت فراہم کرے گی۔

امریکی جریدے ٹیکنالوجی ریویو کے مطابق، بلاک چین سے استفادہ کرنے والے سیکڑوں دوسرے منصوبے بھی اس وقت چینی حکومت کی سرپرستی اور نگرانی میں کام کررہے ہیں کیونکہ گزشتہ سال اکتوبر میں چینی صدر شی جن پنگ نے واضح الفاظ میں اعلان کردیا تھا کہ ان کا ملک بلاک چین ٹیکنالوجی کے میدان میں ساری دنیا سے آگے رہے گا۔ تب سے چین نے بلاک چین ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بھی بڑھا دی ہے اور اب تک صرف بلاک چین کے حوالے سے چین میں 500 نئے منصوبے شروع کیے جاچکے ہیں۔