- الإعلانات -

افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ میں پچاس فیصد اضافہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے پولیس سربراہ جنرل حسین اشتری نے یوم انسداد منشیات کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد سے اس ملک میں منشیات کی پیداوار میں پچاس گنا اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ اقوام متحدہ کو افغانستان میں منشیات کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے امریکی کردار پر ردعمل ظاہرکرنا چاہئے ۔ جنرل حسین اشتری کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس مہینے کے دوران مختلف قسم کی سات سو ٹن منشیات ضبط کی گئی جس میں گذشتہ برس کے مقابلے میں اٹھارہ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ بہتر فیصد منشیات ایران کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں ضبط کی گئیں ۔ اسی لئے مشرقی ایران میں منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے مافیا کا پتہ لگانے کے لئے انٹیلیجنس سرگرمیاں بڑھا دی گئی ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ ایران، منشیات کی روک تھام کے لئے اب تک تقریبا چار ہزار سیکورٹی اہلکاروں کی جان کا نذرانہ پیش کر چکا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ اقوام متحدہ ایران کو ، انسداد منشیات کا علمبردار سمجھتا ہے ۔ پاکستان ، افغانستان اور ایران نے افغانستان سے افیون اورمنشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے تعاون اور معلومات کے تبادلے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات وجرائم( یو این او ڈی سی) نے 2007ء میں تینوں ممالک کے درمیان تعاون اور معلومات کے تبادلہ کا یہ میکنزم متعارف کرایا تھا جس کا بنیادی مقصد افغانستان سے افیون اوردیگرمنشیات کی سمگلنگ کی روک تھام ہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ2018ء میں خشک سالی اور قیمتوں میں کمی کی وجہ سے افغانستان میں افیون کی کاشت میں تقریباً20 فیصد کمی ہوئی ہے ۔ منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام صرف ان تینوں ممالک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ افغانستان کی وزارت انسداد منشیات کے ڈائریکٹر جنرل محمد عثمان فروتن کے مطابق رواں سال افغانستان میں پیدا ہونے والی کل افیون کا89 فیصد ان علاقوں میں کاشت کی گئی ہے جہاں دہشت گردوں اورعسکریت پسندوں کی سرگرمیاں زیادہ ہیں ۔ گزشتہ سال کے دوران افغان حکام نے433 ٹن منشیات پکڑی اور منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں تقریباً4 ہزار مشتبہ افراد کے خلاف ملکی قوانین کے تحت کارروائی کی گئی ۔ افغانستان میں افیون کی پیداوار اور افیون و منشیات کی عالمی مارکیٹ میں سمگلنگ نے بین الاقوامی مسئلہ کی شکل اختیارکرلی ہے ۔ مسئلہ سے نمٹنے کیلئے تینوں علاقائی ممالک کے مابین تعاون اور رابطہ کاری احسن اقدام ہے تاہم جب تک افیون کی کاشت اور پیداوار کے حقیقی اسباب پر توجہ نہیں دی جاتی اس وقت تک یہ مسئلہ موجود رہے گا ۔ امریکا نے گذشتہ17 برسوں میں افغانستان میں افیون کی کاشت کے خاتمہ اور انسداد منشیات کی سرگرمیوں کیلئے افغانستان کو8 ارب ڈالر کے فنڈز فراہم کئے ہیں تاہم اس کے باوجود افیون کی پیداوار کے خاتمہ یا کیم کی کوششوں کو کامیابی نہیں ملی ہے ۔ کالعدم طالبان حکومت نے افغانستان میں پوست کی کاشت پر کافی حد تک قابو پا لیا تھا اور افغانستان سے دوسرے ہمسایہ ممالک کو ہیروئن، چرس اور افیوں کی سمگلنگ ختم کر دی تھی لیکن طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پوست کی کاشت پھر شروع ہو گئی ہے ۔ افغانستان میں اس سال پوست اور افیون کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے ۔ افغان کاشتکاروں نے وسیع رقبے پر پوست کاشت کیا اور اس طرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں افغانستان میں پوست کی پیداوار بھی بہت بڑھ گئی ہے ۔ گزشتہ سال افغانستان میں پوست کے زیر کاشت رقبے میں 240 فیصد اور پوست کی کاشت میں 73 فیصد فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اس کی وجہ بھارت کا افغانستان میں بڑھتا ہوا عمل دخل ہے ۔ بھارت افغانستان سے ہیروئن بیرون ممالک کو سمگل کر کے اربوں ڈالر کما رہا ہے ۔ اقوام متحدہ ڈرگ ایجنسی (آئی این سی بی) کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی خطے میں بھارت منشیات خصوصاً ہیروئن کے استعمال میں نمبر 1 ہے بلکہ افغانستان میں پیدا ہونے والی ہیروئن یورپ اور امریکہ تک سمگلنگ کرنے والا سب سے بڑا بین الاقوامی سمگلر بھی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق جنوبی ایشیاء میں 40 ٹن ہیروئن پیدا ہوتی ہے جس میں سے 17 ٹن بھارت میں استعمال ہوتی ہے ۔ بھارت کا ہیروئن کی مد میں تجارتی حجم 1;46;4 ارب ڈالر ہے ۔ بھارت اپنے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش ، نیپال اور سری لنکا میں بھی ہیروئن سپلائی کرتا ہے جبکہ پاکستان کے راستے افغانستان اور دیگرعلاقوں کو سمگل کرتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان کے کاشت کار افیون کی کاشت کیوں کر رہے ہیں ۔ افغانستان میں صرف 12 فیصد کے قریب زمین قابل کاشت ہے ۔ ملک میں 5 دریاؤں کی موجودگی کے باوجود آبپاشی کا نظام اتنا ترقی یافتہ نہیں ہے کہ جس سے قابل کاشت اراضی کو پانی کی فراہمی ممکن ہوسکے اگرچہ یو ایس ایڈ اور دیگر ادارے افغانستان کے کسانوں اور کاشتکاروں کو فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے اور زراعت اور لائیو سٹاک کے فروغ کیلئے امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم اس کے خاطرخواہ نتاءج برآمد نہیں ہوسکے ہیں ۔ صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی ایسے مسائل ہیں جس کی وجہ سے افغان کاشت کار فوری فائدہ کیلئے پوست کی فصل پر انحصارکرنے پر مجبور ہیں کیونکہ اس فصل سے انہیں کم وقت میں فصل کا اچھا نعم البدل مل جاتا ہے ۔ افغانستان میں افیون کی کاشت، پیداوار اور تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حجم اربوں ڈالر مالیت کا ہے مگر اس سے نہ تو افغانستان کی حکومت اور نہ ہی کاشتکاروں کو پورا معاوضہ مل پا رہا ہے ۔ اگر افغانستان سے ہیروئن، چرس اور افیون کی سمگلنگ بند نہ ہوئی تو پھر چند برسوں میں یورپ منشیات استعمال کرنے والے ملکوں میں سرفہرست آجائے گا ۔ اس لیے اقوام متحدہ، امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک کو افغانستان میں پوست کی پیداوار کے خاتمہ کےلئے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے جس میں سب سے پہلے بھارت کا افغانستان میں عمل دخل ختم کرنا ہوگا اور خود بھارت جو اپنے یہاں منشیات پیدا اور سمگل کررہا ہے ، اس پر پابندیاں لگانی ہوں گی ۔