- الإعلانات -

افغانستان کی پاکستان مخالف کارروائیاں

کابل کئی سالوں سے شاکی ہے کہ کئی افغان طالبان رہنما پاکستان کے شہر کوءٹہ اور اْس کے گردو نواح میں رہائش پذیر ہیں ۔ جب اِس بارے میں سوال کیا جائے تو پاکستان کے فوجی حکام کہتے ہیں کہ پاکستان میں 30 لاکھ افغانی شہری رہتے ہیں ۔ اْن کی موجودگی میں یہ معلوم کرنا انتہائی مشکل ہے کہ کون کہاں رہتا ہے ۔ جب افغانستان میں اشرف غنی اقتدار میں آئے تو اْن کا کہنا تھا کہ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانا ان کی اولین ترجیح ہے ۔ اگر اسلام آباد افغان طالبان سے اپنے رابطے ختم کرتا ہے تو کابل پاکستان مخالف گروہوں کو روکنے اور افغانستان میں اْن کی محفوظ پناہ گاہوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اْنھوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک میں استحکام اْسی وقت آ سکتا ہے جب ساتھ مل کر کام کیا جائے ۔ افغانستان میں بھارتی مسلسل دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت یہاں اپنا اثر رسوخ بڑھا رہا ہے ۔ اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ دیگر چیزوں کی طرح دہلی افغانستان میں اپنی موجودگی کو استعمال کرتے ہوئے بلوچ علیحدگی پسندوں کےساتھ تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے ۔ بلوچ علیحدگی پسند ایک دہائی سے پاکستان سے الگ ہونے کی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ یہ معاملہ خاص طور پر حساس ہے کہ کیونکہ پاکستان کا پاک چین اقصادری راہداری کی تعمیر کا منصوبہ ہے ۔ یہ تجارتی راہداری افغانستان کی سرحد کے قریب بلوچستان سے ہوتی ہوئی گوادر کی نئی بندرگاہ تک جائیگی ۔ پاکستان کو امید ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے اربوں امریکی ڈالر کی آمدنی ہو گی ۔ بھارت کے انٹیلی جنس افسران بلوچ علیحدگی پسندوں کیساتھ ملکر چینی تجارت کو روکنا چاہتے ہیں ۔ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے انفراسٹر کچر اور اس کے تمام مضبوط ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے اس آپریشن کے دوران اس نے بری فوج کے ساتھ ساتھ فضائیہ کو بھی استعمال کیا ہے جن علاقوں میں بری فوج کا پہنچنا مشکل تھا وہاں پاک فضائیہ نے بمباری کر کے دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں ملیامیٹ کیا ۔ جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان کے شہروں اور علاقوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے ۔ اس کے برعکس طالبان کے خلاف افغان حکومت کا کوئی آپریشن یا موثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی چنانچہ افغان طالبان کسی خوف کے بغیر افغانستان کے اندر جہاں چاہتے ہیں کارروائی کر ڈالتے ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان انتظامیہ نے کبھی بھی پاکستان کیخلاف کارروائیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی ۔ پاکستان کیخلاف کارروائی ملا فضل اللہ گروپ کی طرف سے ہوتی ہے جنہیں بھارت کے آشیر واد حاصل ہے ۔ افغانستان میں امن کےلئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے سلسلے میں پاکستان کا کر دار قابل تحسین ہے لیکن اگر بھارتی سرپرستی میں دہشت گردوں کے حملے یونہی جاری رہے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں ۔ اس طرح قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف براہ راست کارروائیاں کر کے سرحدی کشیدگی کو بڑھاوا دے رہا ہے وہاں بلوچستان ، کراچی اورسرحدی علاقوں میں بھی اس کی مداخلت جاری ہے ۔ کچھ عرصہ قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے نے افغانستان سے چمن کے راستے بلوچستان میں داخل ہونےوالے ایک اور افغان انٹیلی جنس افسر کو گرفتار کیا تھا ۔ تفتیش میں اس نے انکشاف کیا کہ وہ دراصل افغان فوج کے انٹیلی جنس یونٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ ہے ۔ مذکورہ شخص کے پاس پاکستان میں داخل ہونے کیلئے سرکاری دستاویزات موجود نہیں تھی جسے ایف آئی اے نے گرفتار کرنے کے بعد وزیر داخلہ کی ہدایت پر حساس اداروں کے حوالے کر دیا ۔ گرفتار افغان فوجی افسر کی شناخت روزی خان کے نام سے ہوئی ۔ افغان سرحدی علاقہ سے اپنے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان مخالف اس کی کارروائیوں کو افغان حکومت کی شہ حاصل ہے یا یہ اس کی کمزوری، غفلت اورلاپرواہی کا نتیجہ ہیں بہر صورت امریکہ کو اس کا نوٹس لینا ہوگا بصورت دیگر پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا کہ وہ افغانستان میں ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک ان کا تعاقب کرے اور انہیں ختم کر دے ۔ افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اپنی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے ۔