- الإعلانات -

اندرونی دشمنوں کی سازشیں

آخر کارپاکستان میں دہشت گردی میں قابل ذکر کمی ہوئی ۔ پاکستان کی مسلح افواج ، پولیس اور عوام نے ملکر دہشت گردوں کا ایسا قلع قمع کیاکہ آج اقوام عالم بھی اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ ہمارے ہاں دہشت گردی بارے امریکی رپورٹ کے مطابق 2009سے 2019 تک پاکستان میں دہشت گردی میں 85 فیصد کمی ہوئی ۔ پاکستان میں جب دہشت گردی عروج پر تھی تو 2009 میں تقریباً2ہزار دہشت گرد حملے ہوئے جبکہ 2019 میں یہ تعداد 250رہ گئی جس میں نقصان کی شرح ماضی کی نسبت کم رہی ۔ گزشتہ دہائی میں پاکستان میں شدت پسند گروہوں کی بڑی تعدا د موجود تھی جو بم دھماکوں ، خود کش حملوں اور فائرنگ سے حکومت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے تھے جبکہ کچھ ایسی تنظی میں بھی تھیں جو افغانستان میں امریکی فوج کےخلاف لڑنے والی تنظیموں کی معاونت کرتی تھیں ۔ دہشت گردی سے بچاوَ کےلئے گزشتہ سال کے اوائل میں پاکستان نے 66تنظیموں پر مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے پابندی لگائی ان میں سے کئی تنظیموں کو دہشت گرد جبکہ دیگر کو ان کی معاونت کرنے والا قرار دیا گیا ۔ اس دوران کل سات ہزار چھ سو افراد کیخلاف بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی ۔ پولیس نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے القاعدہ کا ایک سیف ہاوَس سیل بھی پکڑلیا ۔ جو کراچی سے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں منتقل ہوا تھا ۔ اس سیل سے ہتھیاروں کے ساتھ نفرت انگیز لٹریچر اور دیگر پراپیگنڈا مواد بھی برآمدکیاگیا ۔ سیل سے گرفتار پانچ افراد سے جدید ہتھیار،خود کش جیکیٹس، پرنٹنگ مشین اور دیگر سامان برآمد ہوا ۔ دہشت گردی میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سال 2019 میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں نمایاں رہے اور انہوں نے بالترتیب 82 اور 27 دہشت گردانہ حملے کیے جن میں سے چند نہایت اہم نوعیت کے تھے ۔ 2019 میں مجموعی طور پر 2018 کے مقابلے میں 13 فیصد کم 229 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں 4 خود کش حملے بھی شامل ہیں ۔ ان حملوں میں 357 افراد جاں بحق ہوئے جو 2018 میں ان واقعات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد سے 40 فیصد کم ہے جبکہ 729 افراد زخمی بھی ہوئے ۔ دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں 164 شہری، 163 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 30 دہشت گرد شامل ہیں ۔ دہشت گردانہ حملوں میں سب سے زیادہ 52 فیصد حملوں میں سیکیورٹی اہلکار و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا ۔ 2019 میں ہونے والے 91 فیصد دہشت گردی کے واقعات کے پی کے اور بلوچستان میں ہوئے ۔ کے پی کے میں 125 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں 145 جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 249 زخمی ہوئے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں 99 سرچ و کامبنگ آپریشنز کے دوران 231 مشتبہ دہشت گردوں اور مسلح تنظیموں کے اراکین کو گرفتار کیا ۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے 2019 میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کےلئے نمایاں رہے جنہوں نے بالترتیب 82 اور 27 دہشت گردانہ حملے کیے جن میں سے چند نہایت اہم نوعیت کے تھے ۔ رپورٹ کے مطابق پاک انسٹیٹیوٹ فور پیس اسٹڈیز (پپز) کی سالانہ رپورٹ برائے سیکیورٹی کے مطابق گزشتہ سال کے دوران داعش کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی دیکھی گئی ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 2019 میں 2018 کے مقابلے میں 13 فیصد کم 229 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں سے 4 خود کش حملے بھی شامل ہیں ۔ ان حملوں میں 357 افراد جاں بحق ہوئے جو 2018 میں ان واقعات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد سے 40 فیصد کم ہے جبکہ 729 افراد زخمی بھی ہوئے ۔ تحریک طالبان پاکستان اور اور حزب الاحرار کی جانب سے 158 دہشت گردانہ حملے کیے گئے جن میں 239 افراد جاں بحق ہوئے ۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل اے) کی جانب سے 57 حملے کیے گئے جن میں 80 افراد جاں بحق ہوئے ۔ اس کے علاوہ سال 2019 میں رپورٹ ہونے والے 14 واقعات کا تعلق فرقہ وارانہ دہشت گردی سے تھا جس میں 38 افراد ہلاک ہوئے ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دہشت گردی کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں 164 شہری، 163 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 30 دہشت گرد شامل ہیں ۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں سب سے زیادہ 52 فیصد، 118 حملوں میں سیکیورٹی اہلکار و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا ۔ مجموعی طور پر 2019 میں ہونے والے 91 فیصد دہشت گردی کے واقعات خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے ۔ خیبر پختونخوا میں 125 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں 145 جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 249 زخمی ہوئے ۔ شمالی وزیرستان دہشت گردی کے واقعات میں سب سے گرم رہا جو ملک کا واحد ضلع ہے جہاں ں سال بھر میں سب سے زیادہ 50 واقعات رونما ہوئے ۔ سال 2019 میں سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ہونے والا صوبہ بلوچستان رہا جہاں 84 حملوں میں 171 افراد جاں بحق ہوئے اور 436 زخمی ہوئے ۔ سندھ میں 14 دہشت گردی کے واقعات ہوئے اور اسلام آباد میں ایک واقعہ رونما ہوا ۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 2019 میں سیکیورٹی آپریشنز سمیت دہشت گردوں سے جھڑپوں کے دوران 113 دہشت گرد ہلاک کیے جبکہ 2018 میں یہ تعداد 105 تھی ۔ افواج;223; ایجنسیوں نے ملک بھر میں 99 سرچ و کامبنگ آپریشنز کے دوران 231 مشتبہ دہشت گردوں اور مسلح تنظیموں کے اراکین کو گرفتار کیا ۔ عالمی برادری پاکستان کی جانب سے دہشت گردی پر قابو پانے کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے حوالے سے تحفظات کا اظہارکرتی ہے ۔ دہشت گردی کے حوالے سے ہی فروری میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہونے جا رہا ہے جس میں فیصلہ کیاجائے گا کہ پاکستان گرے لسٹ سے نکالا جائے یا پھر ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے ۔ بہرحال پاکستان دہشت گردی کیخلاف اپنے اقدامات کے باعث پرامید ہے کہ وہ گرے لسٹ سے نکل آئے گا ۔ پاکستان کا قریبی اتحادی چین اور امریکا اس بار پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے نکلنے کے حوالے سے مثبت اشارے دے چکے ہیں ۔