- الإعلانات -

بحران در بحران اور حکومتی حکمت عملی

جب سے موجودہ حکومت آئی ہے بحرانوں کے طوفان میں گھری ہوئی ہے ۔ کبھی حلیفوں کے ساتھ تعلقات کا بحران،کبھی بےروزگاری اور روز مرہ اشیاء کی مہنگائی کا بحران ۔ لیکن سب سے بڑے دو بحران ایسے آئے ہیں کہ جنہوں نے حکمرانوں کی کرسیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ ایک بحران آٹے اور چینی کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ اور ناپید ہونا اور دوسرا بحران حکومتی اتحادیوں کی ناراضگی اور مطالبات ہیں ۔ پہلے بات کرتے ہیں گندم اور چینی کی ۔ جب آٹے کا بحران آیا اور عوام کو خوب رگڑا لگنا شروع ہوا تو سرکار کی طرف سے بیان آیا کہ ہ میں پتہ ہے کہ آٹے کے بحران کے پیچھے کون لوگ ہیں ۔ ابھی آٹے کا بحران جاری تھا کہ چینی کا بحران آگیا ۔ ان دونوں بحرانوں کے درمیان میں پھر حکومتی بیان آیا کہ آٹا اور چینی کے بحران میں جو مافیاز ملوث ہیں ہ میں معلوم ہے ۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس مصنوعی بحران کے پیچھے کون لوگ ہیں ۔ اب جب قوم کا کچومر نکل گےا تو جناب وزیراعظم نے اس پر حسب روایت سخت نوٹس لیا، کمیٹی بنائی گئی اور ہدایات کی کہ اس بحران میں ملوث افراد کا فوری سراغ لگایا جائے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اس مصنوعی بحران میں جو بھی ملوث پایا گیا اس کو نہیں چھوڑا جائےگا ۔ اپوزیشن جماعتوں کا اصرا ر ہے کہ آٹا چینی بحران میں ملوث وزیراعظم کے قریبی لوگ ہیں ۔ ان کی شوگر ملوں کی تلاشی لی جائے اور پاکستان سے جو پانچ لاکھ ٹن گندم جو برآمد کی گئی ہے وہ کس کس کے مشورے پر برآمد کی گئی اور اس کے برآمد کنندگان کون تھے ۔ نیز وہ کس قیمت پر برآمد کی گئی اور سرکاری خزانے میں فی ٹن کس حساب سے رقم جمع ہوئی ۔ یہ نہایت اہم سوالات ہیں جن کا ابھی تک سرکار کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے ۔ البتہ ایک بات وزیراعظم عمران خان نے صاف بتا دی ہے کہ آٹا اور چینی بحران کے بارے میں ابتدائی رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین اور خسرو بختیار بلکل ملوث نہیں ہیں ۔ اس کے بعد جو رپورٹ آئے گی اس کے مطابق ملوث مافیا کےخلاف کارروائی کی جائےگی ۔ اس دوران بعض گوداموں پر چھاپے مارے گئے ہیں اور وہاں سے سٹاک کی ہوئی چینی برآمد کی گئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب حکومت کو معلوم تھا کہ اس بحران کے پیچھے کون لوگ ہیں اور کون کون آٹا چینی بحران میں ملوث ہے تو پھر کمیٹی کمیٹی کھیلنے کی کیا ضرورت ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اسی وقت ان لوگو ں کے خلاف کاروائی ہوتی ۔ لیکن اگر حکومت نے تماشا دیکھنا تھا تو تماشا دیکھنے کے بعد ہی ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی جاتی ۔ سرکاری کمیشن اور کمیٹیاں اس وقت بنتی ہیں جب معاملے سے بڑے لوگوں کو نکال کر چھوٹے موٹے افسران اور اہلکاروں کو ملوث کرنا ہو اور یوں قصہ ختم کیا جاتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں بعض سیاسی مخالفین کا نام بھی رپورٹ میں شامل ہو جائے ۔ لگتا تو نہیں کہ اس بحران کے اصل کرداروں کے نام منظر عام پر لائے جائیں گے اور ان کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں گی ۔ محکمہ شماریات کے مطابق آٹا 24 فیصد،گھی اور تیل20فیصد اور چینی کی قیمت میں 26 فیصد اضافہ صرف اس سال جنوری کے مہینے میں ہوا ہے ۔ ایک بڑی عجیب بات اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ سال 2019 میں کپاس کی پیداوار میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ پڑوسی ملک میں کپاس کی پیداوار میں 15فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ اب حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ آٹا اور چینی بحران میں حکومتی کوتاہی بھی شامل ہے ۔ حکومتی کمیٹی کی تو جو رپورٹ آئے گی اور اس کے بعد کس کس کے نام اس رپورٹ میں شامل ہوں گے اور کیا کاروائی ہوگی لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس بحران کی جو سزا پوری قوم نے بھگتی بلکہ بھگت رہی ہے اس کا بھی حکومت ازالہ کر لے گی یا اس میں بھی قوم کو نہ گھبرانے کا سبق پڑھایا جائے گا ۔ سچ تو یہ ہے کہ جو لوگ بر سر اقتدار جماعت کے قریبی لوگوں میں شمار کیئے جاتے ہیں وہی لوگ موجودہ حکومت کے بھی کرتا دھرتا ہیں اور وہی لوگ ہیں جو شوگر ملوں کے مالکان ہیں ۔ حکومتوں کے لیئے کچھ درآمد کرنا ہو یا برآمد کرنا ہو یہی لوگ اس تمام کاروبار کے اہم کردار ہوتے ہیں ۔ تو پھر سزا کس کو ملنی ہے یہ سمجھنے والے خوب جانتے ہیں ۔ ایک طرف حکومت معیشت کی روز افزوں بہتری کو نوید سناتی ہے ۔ دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ روز افزوں مہنگائی ہو رہی ہے جس نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ اب یوٹیلٹی اسٹوروں اور راشن کارڈ کی قطاروں میں کھڑا کرنے کی خوش خبری سنا کر حکومت اس بے بس اور لاچار عوام پر احسان جتا رہی ہے ۔ دوسرا بحران اتحادی جماعتوں کی ناراضگیوں اور مطالبات کی شکل میں موجود ہے ۔ چونکہ اتحادی جماعتوں کو معلوم ہے کہ موجودہ حکومت ان ہی کی مرہون منت ہے ۔ اگر وہ سرک جائیں تو حکومتی عمارت دھڑام سے نیچے آجائے گی ۔ اس لیئے وہ اپنے مطالبات منوانے کے لیئے ناراضگی کا اظہار کر کے حکومت کی دوڑیں لگوا دیتے ہیں ۔ ان اتحادیوں میں شامل ایم کیو ایم کی اتنی اہمیت نہیں ہے کہ حقیقت میں حکومت کےلئے پریشانی کا باعث بن سکے ۔ ایم کیو ایم بے چاری کا تو یہ حال ہے کہ کراچی میں گھس کر جس تحریک انصاف نے ان سے اس کی سیٹیں جیت لی ہیں اسی جماعت کے ساتھ اتحادی بن کر رہنے پر مجبور ہیں ۔ ایم کیو ایم کچھ ملنا کچھ نہ ملنے سے بہتر ہے کہ اصول پر قائم ہے ۔ اسی طرح جی ڈی اے بھی گزارہ کرنے پر مجبور ہے ۔ اصل مسئلہ مسلم لیگ (ق) اور بی این پی مینگل کا ہے ۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت انتہائی زیرک ہے چوہدری برادران وہ سیاستدان ہیں کہ ہوا چلنے سے پہلے اس کے رخ کا اندازہ لگا لیتے ہیں ۔ اور اس کے مطابق اپنی سیاست کی پتوار استوار کرتے ہیں ۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت اس وقت بھی اس پوزیشن میں ہے کہ پنجاب حکومت تو کیا وفاقی حکومت کی چولیں ہلا سکتی ہے ۔ حکومت کے تمام تر منت ترلوں اور یقین دہانیوں کے باوجود ابھی تک معاملات طے ہو سکے ہیں نہ مسائل حل ہو سکے ہیں ۔ وہ فی الحال کچھ دن تازہ حکومتی وعدوں اور تسلیوں کا انتظار کریں گے لیکن اگلے ماہ یعنی مارچ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ جہاں تک بی این پی مینگل کا تعلق ہے تو وہ ایسی اتحادی جماعت ہے جس نے حکومت سے کوئی وزارت مانگی ہے نہ ہی کوئی مراعات طلب کی ہیں ۔ انہوں نے موجودہ حکومت کا ساتھ ذاتی مفادات کے حصول کیلئے نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کیلئے دیا ہے ۔ ان کے مطالبات کی تفصیل میں جائے بغیر بی این پی مینگل کے مطالبات پر بھی ابھی تک پوری توجہ نہیں دی گئی ہے ۔ ذاتی مفادات نہ ہونے کی وجہ سے یہ جماعت بھی کسی وقت بھی حکومت کےلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے ۔ اور عین ممکن ہے کہ مسلم لیگ (ق) کی قیادت کسی وقت اختر مینگل سے رابطہ کر لیں ۔ کچھ کھچڑی لندن میں بھی پک رہی ہے ۔ میاں شہباز شریف اسی ماہ وطن واپس آسکتے ہیں ۔ پھر صورتحال واضح ہو جائیگی ۔ حکومت مولانافضل الرحمان کے خلاف آرٹیکل چھ کی باتیں کر رہی ہے ۔ یہ عجیب و غریب سوچ ہے جس نے بھی یہ بات وزیراعظم کو سمجھائی ہے معلوم نہیں کہ وہ ان کے کتنے قریب اور ان کے کتنے ہمدرد ہیں ۔ اگر حکومت گرانے کی بات کرنا آٹیکل چھ کے تحت غداری ہے تو پھر موجودہ حکمرانوں کو بھی سوچنا چاہیئے ۔ یہ بہت خطرناک بات ہے ۔ غداری کا مقدمہ تو سندھ، بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد کے نامور سیاستدانوں پر بھی بنایا گیا تھا اور ان کو حیدر آباد جیل میں قید رکھا گیا تھا ۔ پھر نتیجہ کیا نکلا ۔ وہی سیاستدان پھر پارلیمنٹ میں آئے تھے ۔ غداری کا مقدمہ تو جنرل پرویز مشرف پر بھی بنایا گیا ۔ جس نے اس ملک کی خاطر جنگیں لڑیں ۔ دنیا کی بہترین فوج کی کمانڈ کی وہ بھی غدار ;238; اب اگر مولانا فضل الرحمن کو بھی غدار کہا جائے تو کیا بعید ہے ۔ لیکن پھر کیا ہوگا یہ سوچنے والی بات ہے ۔