- الإعلانات -

بھارتی فوجی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج 7سے10دن میں پاک فوج کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ بھارتی فوج کی سرجیکل اسٹرائیکس کی بدولت جموں کشمیر اور دیگر علاقوں میں امن قائم ہوا ۔ پاکستان جموں کشمیر میں بھارت کیخلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہے ۔ دو ایئر سٹرائیکس سے نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی امن قائم ہوا ۔ پاکستان نے بھارتی وزیراعظم کے غیرذمہ دارانہ اور جنگ بھڑکانے سے متعلق روایتی ہرزہ سرائی کومکمل طورپر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی قیادت پر انتہاپسندانہ سوچ کا غلبہ ہے جو ریاستی اداروں میں بھی گھس چکی ہے ۔ گزشتہ برس بالاکوٹ میں بھارتی مس ایڈونچر، بھارتی طیارے مارگرانے اور بھارتی پائلٹ کی گرفتاری پاکستان کی مسلح افواج کی ہمہ وقت تیاری،ہر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ اور موثر جواب دینے کی صلاحیت و استعداد کے اظہار کے لئے کافی ہونے چاہئیں ۔ کسی بھی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کیلئے ہماری مسلح افواج کی صلاحیت اور عزم کے بارے میں کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے ۔ مودی نے الزام لگایا کہ پاکستان نے دہائیوں سے (مقبوضہ)جموں و کشمیر میں بھارت کیخلاف سازشی جنگ چھیڑ رکھی ہے جس سے ہمارے سینکڑوں لوگ اور سیکیورٹی اہلکار ہوئے ۔ ماضی میں بھارتی فوج نے متعدد بار اپنی حکومت سے بارڈر پر دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کرنے کی اجازت مانگی، لیکن نہیں دی گئی ۔ جموں وکشمیر میں آزادی کے بعد سے ہی مسئلہ برقرار ہے، کچھ خاندانوں اور سیاسی جماعتوں نے خطے میں اس مسئلے کو زندہ رکھا، جس کے نتیجے میں وہاں دہشت گردی پروان چڑھ رہی ہے ۔ بھارتی وزیراعظم کی دھمکیاں اور اشتعال انگیز بیانات اس امر کو مزید واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے متعلق انڈیا کے ناقابلِ علاج خبط کا عکاس ہیں اور بی جے پی کی قیادت کی متعصبانہ، کشمیر اور اقلیت مخالف پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی اندرونی اور بیرونی تنقید پر سے توجہ ہٹانے کی ایک مایوس کن کوشش ہے ۔ یہ بیان ایک طرف پاکستان کے بارے میں ناقابل علاج جنون کی عکاسی ہے تودوسری جانب بی جے پی حکومت اور قیادت کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیر مخالف، اقلیت مخالف امتیازی ومتعصبانہ پالیسیوں پربھارت پر ہونے والی تنقید سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے ۔ بھارتی حکومت اور ملٹری قیادت غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہے ہیں ۔ جو فوج 80 کشمیریوں کو 71سال سے شکست نہیں دے سکی وہ207 ملین پاکستانیوں کو کیسے شکست دے سکتی ہے ۔ کہ جنگ شروع آپ کریں گے اور ختم ہم کریں گے ۔ پاکستانی سول و ملٹری لیڈر شپ خطے میں امن کی خواہاں ہے ۔ انڈین سول ملٹری لیڈر شپ کو بھی خطے میں امن کی اہمیت کا ندازہ ہونا چاہیے ۔ افواج اسلحے کے زور پر نہیں ، جذبہ ایمانی اور عوام کی حمایت سے لڑتی ہیں ۔ بھارتی وزیراعظم جیسے ذمہ دارافرادایسے بیانات نہیں دیتے ۔ بھارتی لیڈر شپ کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کو بند کریں کیوں کہ وہاں لگی آگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے اور دنیا کو بھی اس خطرے کا ادراک ہونا چاہیے ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فروری 2019 میں پاک بھارت جنگ دستک دے چکی تھی تاہم افواج پاکستان کی تیاری اور موثرجواب نےامن کاراستہ ہموارکیا ۔ پاکستان اورافواجِ پاکستان ہمیشہ بھارت کوسرپرائز کریں گی ۔ پاکستانی قیادت نے اس خطرے کواحسن طریقے سے نمٹایا اور جنرل قمرباجوہ کی سپیریرملٹری اسٹریٹیجی نے جنوبی ایشیا کوتباہی سے بچایا ۔ جنگ میں کسی کی ہار جیت نہیں ہوتی ۔ انسانیت ہارتی ہے ۔ کامیاب ملٹری ڈپلومیسی نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو نمایاں کیا ۔ آرمی چیف نے پاکستان کی سلامتی و ترقی کو ہمیشہ مقدم رکھا ۔ پاکستان کو سنگین نتاءج کی دھمکیاں ، دباءو میں لانے کیلئے، سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ، دہشت گردی کے الزامات ، شرانگیز پراپیگنڈہ اور اس کیخلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے پیچھے ایک ہی ذہنیت کارفرما ہے کہ اس نے ابھی تک تقسیم ہند کو دل سے نہیں تسلیم کیا ۔ اس نے پاکستان کی آزادی خود مختاری اور سالمیت کا کبھی احترام نہیں کیا ۔ بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی اب بھارت کا معمول بن چکا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے ۔ بھارت کے دھمکی آمیز لہجے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید نقصان پہنچائے گا ۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کیخلاف اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔ بھارتی الزامات قبل از وقت اور نامناسب ہیں ،بالخصوص بھارت خود تسلیم کرتا ہے کہ آپریشن اب بھی جاری ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔ ہم بارہا دیکھ چکے ہیں کہ بھارت خود ہی منصف اور جلاد کا کردار ادا کرتا ہے ۔ ہم بین الاقوامی برادری پر زوردیتے ہیں کہ بھارتی قیادت کے جنگی جنون اوراشتعال انگیز غیرذمہ دارانہ بیانات کا نوٹس لے جس کے جارحانہ اقدامات اور رویہ سے خطے کے امن وسلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ ہ میں امید ہے کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے جس سے جموں وکشمیر کے تنازعہ کے پرامن حل کی راہ ہموار ہوگی تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن وسلامتی قائم ہوسکے ۔ جہاں ہ میں اپنے آپ کو متحد کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جیتنا ہے وہاں ہ میں اس بات پر بھی توجہ دینی ہوگی کہ یہ دہشت گردی پیدا کون کر رہا ہے ۔ اس ضمن میں مودی کی دھمکیاں اور بڑھکیں بھی پیش منظر رکھنی ہوں گی کہ بھارتی سرکار انتخابات جیتنے کےلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی کرنا چاہتا ہے تو کر لے، ہم جواب دینگے ، بھارت طالبان کی سرپرستی کررہا ہے ۔ ابھی حال ہی میں بھارت کو ہمارے جواب کا مزہ چکھنا پڑا ہے آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا ۔