- الإعلانات -

بھارتی نوجوانوں کی بیروزگاری ، قومی سانحہ سے کم نہیں

ایک حالیہ سروے کے مطابق 18;245;2017 میں بھارت میں بے روزگاری کی شرح 45 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کیونکہ نوکریوں کے ڈیٹا پر نظر ثانی سے پتہ چلا کہ جان بوجھ کر اس میں تاخیر کی گئی ہے جس میں ریاست کے دیگر اداروں کی مداخلت شامل ہے ۔ نیشنل سیمپل سروے آفس کی تشخیص کو جولائی 2017 سے جون 2018 کے درمیان کیا گیا جس میں بے روزگاری کی شرح 6;46;1 فیصد بتائی گئی جو 73;245;1972 کے بعد سب سے زیادہ رہی ۔ 1972;245;73 کے درمیان جب بھارت پاکستان سے جنگ سے باہر آیا تھا تو بے روزگاری کی شرح 5;46;18 فیصد تھی ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت کی معیشت سالانہ 7 فیصد کی شرح سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن تنقید کاروں کا کہنا ہے کہ معیشت کے حوالے سے حکومتی دعوے کھوکھلے ثابت ہیں ۔ مودی کے ’بھارت بناوَ منصوبے، جس کا مقصد مقامی سطح پر پیداوار کو کو بڑھا کر جی ڈی پی کو 17 فیصد سے 25 فیصد تک لے جانا اور 12 لاکھ نوجوانوں کے لیے روزگار فراہمی ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جس میں 15 سے 29 سال کے شہری مرد 18;46;7 فیصد کے پاس کوئی کام نہیں اور اس ہی عمر کی شہری خواتین 27;46;2 فیصد بے روزگار ہیں ۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک سال میں روزگار کے دو ملین مواقع پیدا کریں گے لیکن حقیقت میں 2017 اور 2018 میں بے روزگاری کی شرح نے گزشتہ پینتالیس برسوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ اس وقت بھارت میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد 65 ملین ہو چکی ہے ۔ یہ معاملہ ایک ’قومی سانحہ‘ ثابت ہوا ہے ۔ روزگار کا بحران ہر جگہ نظر آرہا ہے ۔ ممبئی میں پی ایچ ڈی افراد کا ویٹر بننا یا گجرات میں چند ہزاروں روپے کی نوکری کے لیے لاکھوں افراد کا درخواست دینا یا ریلوے میں چند آسامیوں پر 1 کروڑ افراد کی درخواست دینے کی خبریں ثابت کرتی ہیں کہ روزگار کا مسئلہ ہر جگہ موجود ہے ۔ ہزاروں نوجوان ہندوستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ۔ احتجاج کرنے والوں میں نوجوان لڑکیوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کرکے مودی حکومت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ہزاروں مظاہرین نے 2014 میں مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کے پیش نظر ملازمتوں میں سات فیصد سالانہ اضافہ کرنے کے جھوٹے دعووں پر برہمی کا اظہار کیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مودی سرکار ان اعداد و شمار کوچھپا رہی ہے کہ گزشتہ پینتالیس برس میں ملک میں بے روزگاری کی شرح سب سے بلند ہوچکی ہے ۔ یہ شرح اس وقت چھ اعشاریہ ایک پرپہنچ چکی ہے ۔ مودی حکومت کاکہنا ہے کہ یہ اعدادوشمار درست نہیں ہیں ۔ مودی حکومت کے گزشتہ 5 سال میں کسی نئے ادارہ کو قائم نہیں کیا گیا ۔ یہ ایک ایسا دور رہا ہے جس میں قیمتی اداروں کو حسد کی وجہ سے تباہ کر دیا گیا اور ایسا کچھ بھی تیار نہیں کیا گیا جو اہمیت کا حامل ہو ۔ بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں جمعدار اور خاکروب کی ملازمت کےلئے جامعات کے فارغ التحصیل اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے درخواستیں دے رکھی ہیں ۔ تامل ناڈو اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جمعدار کےلئے 10 اور خاکروب کےلئے4 ملازمتوں کا اشتہار شاءع ہونے پر ایم ٹیک، بی ٹیک اور ایم بی اے سمیت پوسٹ گریجویٹ ہزاروں امیدواروں نے ملازمت کےلئے اپلائی کیا ۔ بھارت میں ایک طرف تو یہ حال ہے کہ کروڑوں افراد غربت کی بین الاقوامی لکیر سے نیچے ہیں ۔ بے روزگاری اور مہنگائی میں پس رہے ہیں تو دوسری طرف بھارت کے 119ارب پتی افراد کی جائیدادیں لاکھوں کروڑ تک جا پہنچی ہیں اور روزانہ ان کی جائیدادیں سوکروڑ روپے بڑھ رہی ہیں ۔ بھارت میں موجود کروڑ پتیوں کی جائداد میں 2018 میں روزانہ تقریبا2200کروڑ روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ ملک کی آبادی کے ایک فیصد لوگوں کی جائداد میں گزشتہ برس39فیصد کے حساب سے اضافہ ہوا ۔ بھارت کی تقریبا نصف آبادی کی آمدنی میں اضافہ گزشتہ سال سست رفتاری سے آگے بڑھی جبکہ 50فیصد سے زیادہ افراد کی جائداد میں 3فیصد کے حساب سے اضافہ ہوا ۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو دنیا کے کروڑپتیوں کی جائداد میں روزانہ 12 فیصد اضافہ ہورہاہے جبکہ دنیا بھر میں موجود غریب افراد کی جائیداد میں 11فیصدکمی ریکارڈ کی گئی ۔ ملک کے سب سے زیادہ9دولت مندوں کے پاس کل آبادی کے تناسب سے 50فیصد سے زیادہ جائیدادیں ہیں ۔ 13کروڑ 6لاکھ بھارتی افراد جو ملک کی آبادی کا10فیصد ہیں ، ابھی بھی قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ۔ ہندوستان میں 10فیصد افراد کے پاس ملک کی کل 77;46;4فیصد جائدادیں ہیں ۔ ان میں سے ایک فیصد کے پاس 51;46;53فیصد جائدادیں ہیں جبکہ 60فیصد لوگوں کے پاس صرف 4;46;8فیصد جائدادیں ہیں ۔ 2019 سے 2022کے درمیان بھارت میں روزانہ 70نئے دولت مندوں کا اضافہ ہوگا ۔ 2018 میں ہند میں تقریبا18نئے ارب پتی سامنے آئے ۔ ملک میں اب ان کی تعداد 119ہوگئی ہے جو 28لاکھ کروڑ روپے کی جائدادوں کی مالک ہیں ۔ مودی حکومت نے انتخابی مہم میں یہ وعدے کیے تھے کہ دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ، کسانوں کو ان کی پیدوار کی اچھی قیمت دینا، ہر شہری کے بینک کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے کا آنا اور مارے جانے والے ایک بھارتی فوجی کے بدلے میں دس پاکستانی فوجیوں کے سر لانا ۔ جہاں تک مودی کے آخری وعدے کا ذکر ہے یعنی ایک بھارتی فوجی کے بدلے دس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت تو گزشتہ ماہ مودی حکومت نے اسے پورا کرنے کی کوشش کی مگر باقی وعدوں کے برعکس یہ وعدہ پورا تو ہوا مگر خود بھارت کے خلاف ۔ یعنی پاکستانی چند درختوں کے عوض بھارتی دو مگ21 کی تباہی ۔ بہرحال زندگی کے ہر شعبے میں مودی حکومت کی یہی کارکردگی ہے ۔