- الإعلانات -

بھوک وافلاس عالمی مسئلہ

کرہ ارض پر 6ارب انسانوں میں سے ایک ارب بھوک اور افلاس کا شکار ہے ۔ اگر ہم افریقی ممالک پر نظر ڈالیں تو افریقی ممالک میں بھوک اور افلاس کی شرح اور بھی زیادہ ہے یعنی وہاں پر 4 میں سے ایک انسان انتہائی بھوک اور افلاس کا شکار ہے ۔ بد قسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں 100 ملین بچے کم وزن کے پیدا ہوتے ہیں اور 66 ملین سکول کے ایسے بچے بھی ہیں جنکو مناسب خوراک کی عدم دستیابی کا سامنا ہے ۔ اگر ہم نے ان 66 ملین یعنی 6;46;6 کروڑ بچوں کو مناسب خوراک دینی ہے تو اس کام کےلئے 3;46;2 ارب ڈالر درکار ہوں گے ۔ اگر ہم غُربت کو ایک ڈالر کی شرح سے تصور کر تے ہیں تو جنوبی ایشیاء جو ڈھائی ارب لوگوں کا مسکن ہے اور جس میں بھارت، پاکستان ، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ شامل ہیں تو اس وقت بھارت میں 44 فیصد لوگ خطر ناک غُربت کی سطح سے نیچے رہنے پر مجبو ر ہیں ، نیپال میں 38 فیصد ، پاکستان میں 31 فیصد، اور بنگلہ دیش میں 29 فیصد لوگ بالفاظ دیگر 6 ارب انسانوں کی آبادی میں 1;46;4 ارب انسان انتہائی غُربت کا شکار ہے ۔ اگر ہم غُربت کی شرح کو دو ڈالر کی تناسب سے کرتے ہیں تو پھر چین میں غُربت کی لکیر سے نیچے رہنے لوگوں کی تعداد 30 فیصد، بنگلہ دیش میں 77 فیصد، بھارت میں 69 فیصد، سری لنکا میں 29 فیصد ، نیپال میں 57 فیصد فلپائن میں 41 فیصد اور پاکستان میں 70 فیصد لوگ انتہائی غُر بت کا شکار ہے ۔ دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ خوراک کا ضیاع ہے ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ دنیا میں خوراک بڑی وافر مقدار میں ضائع ہو تی ہے ۔ امریکہ خوراک ضائع ہو نے کی فی کس شرح 760 کلوگرام ، آسڑیلیا میں 690 کلوگرام فی کس، ڈنمارک میں 660 کلوگرام فی کس، سوئزر لینڈ میں 650 کلوگرام فی کس اور ہالینڈ میں 610کلوگرام سالانہ خوراک فی کس ضائع کیا جا رہا ہے ۔ اگر ان خوراک کو ضا ءع ہونے سے بچایا جائے تو اس سے اُن غریبوں کی خوراک کی ضرو ریات پو ری کی جا سکتی ہیں جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں ۔ اگر ہم غذا کی سیکیو رٹی یعنی ذخیرہ کرنے کے نظام کو دیکھیں تو پاکستان اپنی ضروریات کا خوراک ذخیرہ کرنےوالے 105 ممالک میں 77ویں نمبر پر ہے جبکہ اسکے بر عکس سری لنکا خوراک ذخیرہ کرنےوالے ممالک میں 105 ممالک میں 60 ویں نمبر پر ، بھارت 67 ویں نمبر پر شامل ہے ۔ پاکستان میں غُربت بھوک اور افلاس کو دیکھیں تو ان مسائل میں پاکستان کی فضول پالیسیاں ، کرپشن اور بد عنوانی، زمینوں کی نا مناسب تقسیم، ملاک جمع کر نے کی سعی، علم اور تعلیم کی کمی، بڑے پیمانے پر امپورٹ ، لیڈر شپ کی کمی اور نج کا ری جیسے مسائل شامل ہیں ۔