- الإعلانات -

سفید پوش دہشت گردوں کے گرد ۔ قانونی شکنجہ

ایک گل بخاری کے علاوہ خیبر پختونخواہ کی اپنی آبائی سیٹ گنوا نے کے بعد چین وسکون سے پانچ برس تک نچلا نہ بیٹھنے کی قسم کھائے نیم مذہبی اور نیم سیاسی شخصیت کے انتہائی نازیبا اور قابل گرفت بیانات کے اطوار ذراملاحظہ فرمائیے، گزشتہ ڈیڑھ برس میں کس کس کوجناب نے للکارانہیں ;238;ان دونوں صرف’’مس بخاری اور مولانا‘‘ پرہی کیا منحصر، اورکئی کتنے ان جیسے ملک میں موجود ہیں ، جو بول رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں ، کوئی میرہے،چیمہ ہے،سِرل ہے اور نجانے کتنے اور جانے انجانے میں بلکہ ہم تو کہیں گے جان بوجھ کر پاکستان کے ازلی وابدی علاقائی اور عالمی مخالفین کے مذموم مقاصد جارحانہ عزائم اور ناپاک ارادوں کی تکمیل اور بجا آوری کے لئے پاکستان کی مٹی میں جابجا زہربونے میں منہمک اورمگن‘ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کی سلامتی کی ضرورت ہی کیا ہے;238;قانون وآئین کے حدود اور پاسداری کا احترام کیوں کیا جائے;238; آئینی اخلاقیات کے اصول کیا ہوتے ہیں ;238;وہ جوقبلہ مولانا ہیں گزشتہ ہرپارلیمنٹ میں رکن منتخب ہوتے رہے ملکی آئین کا حلف نامہ جتنا ان مولانا کو ازبر ہوگا ،شائد کسی کو ملکی آئین کے حلف نامہ کے حرف بحرف نکات یاد ہونگے آئین کے حلف نامہ میں جگہ جگہ ملکی سلامتی سے متعلق نکات درج ہیں یہ مولانا تو دس برس تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے انکارکون کرئے گا کہ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی اور ملکی سلامتی کے مابین کتنا گہرا تعلق ہے پھر بھی وائے افسوس کہ اْن کی جانب سے یہ اعترافی بیان آیا ہے کہ اْنہوں نے اور بعض ناعاقبت اندیش سیاسی لیڈروں نے باہم مل کر عوام میں مقبول پی ٹی آئی کی حکومت کو گرانے کی سازش تیار کی تھی جس کے نتیجے میں گزشتہ برس اسلام آباد کشمیرہائی وے پراْنہوں نے مدرسوں کے طالب علموں کے جتھوں کی مدد سے دھرنا دیا تھا جس کی جوابدہی کے لئے ذمہ دار وفاقی سویلین اداروں کواب اپنی قومی ذمہ داری نبھانی چاہیئے جس کی جانب وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے توجہ دلائی ہے اگر وفاقی تفتیشی ادارہ ایف آئی اے محترمہ گل بخاری کو اْن کے سرکش افعال واعمال کی جوابدہی کے لئے قانونی نوٹس بھیج سکتا ہے تو یہ’’صاحب‘‘ کیوں جواب نہیں دے سکتے ملکی آئین وقانون کی نظر میں سب پاکستانی عوام یکساں ہیں ،ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ نے گل بخاری کو گزشتہ دنوں ریاست مخالف سرگرمیوں میں براہ راست ملوث ہونے پر نوٹس ارسال کیا جس میں معلوم اطلاعات کے مطابق اْنہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی صفائی دینے اور اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے ایف آئی اے میں مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش نہ ہوئیں تو ملک میں موجود اْن کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کرلی جائیں گی اْن کے خلاف ’’پی ای سی اے‘‘اور’’دہشت گردی ایکٹ‘‘ کے تحت مقدمہ درج ہوگا پتہ چلاہے کہ مس گل بخاری آج کل لندن میں مقیم ہیں اور یہ حیرت ہے پاکستانی فوج پر تیروبر اورتنقید کے نشتر برسانے میں بدنامی سمیٹنے والی گل بخاری کے بارے میں قارئین یہ پڑھ کر یقینا افسوس ہی کریں گے کہ ان صاحبہ کے والد ریٹائرڈ میجر جنرل رحمت علی شاہ بخاری نے اپنی عمرکا دوتہائی عرصہ پاکستان کی فوج میں گزارا ہے وہ میجرجنرل کی اہم پوسٹ تک پہنچے انیس سواکہتر کی پاکستان بھارت جنگ میں بہاولنگر کے محاذ پر اْنہوں نے مادروطن کے تحفظ کی پاسداری کی ایک’’ملٹری گھرانہ ‘‘کی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہونے کے ناطے نجانے وہ کیسے اور کیونکر عالمی خفیہ ایجنسیوں کے ’’این جی اوز‘‘گروپ میں چلی گئیں اور پیچھے مڑکر دیکھنے کی بجائے ریاست مخالف سرگرمیوں کا حصہ بن بیٹھیں ;238; ’’ایچ آئی اے‘‘ نامی این جی اوکے پیچھے چھپ کر ’’بدی اور برائی‘‘کے کلچر کو پاکستان جیسے خالص نظریاتی ریاست میں عام کرنے میں دیگر این جی اوز کی طرح ’’ایچ آئی اے‘‘کی مبینہ سرگرمیاں بھی کچھ کم نہیں ہیں جہاں تک ’’ایچ آئی اے‘‘ نامی این جی اوکا مقاصد کا اگر بغور جائزہ لیاجائے تو ہمارے قارئین خود سوال کریں گے جیسا اس این جی اوکا ماننا ہے کہ ’’اگردنیا کے کسی بھی ملک کاکوئی شہری اپنے ملک کے مفادات کے خلاف دشمن ملک کے ایجنڈوں کو تقویت پہنچائے اور فرار ہوکر’’ایچ آئی اے‘‘ نامی این جی او سے تحفظ کاطلب گار ہو اور دہائی دیتے ہیں کہ اپنے ملک میں اْن کی زندگی کو خطرہ ہے تو’’ایچ آئی اے‘‘نامی یہ این جی او ایسوں کی مددواعانت کرنے پہنچ جاتی ہے قارئین پوچھنا چاہتے ہیں کہ برطانیہ کی اس این جی اوکے دائرہ اختیار میں کیا امریکا اورمغربی ممالک کے وہ باشندے نہیں آتے جو برطانیہ،امریکا اور مغربی ممالک کی سلامتی اور مفادات کو چیلنج کرتے ہیں اْنہیں پھر کہاں پناہ ملے گی;238; صرف مسلم دنیا اور تیسری دنیا کے ’’نافرمانوں ‘‘کو پالنے پوسنے کے نام پر امریکا اور مغرب نے انسانی حقوق کے نام پر یہ ڈرامہ رچایا ہوا ہے جن کی آئے روز کی خفیہ ریشہ دوانیوں ،سربستہ منصوبوں ،درپردہ سازشوں اور زیر زمین مذموم کارروائیاں جب بے نقاب ہونے لگتی ہیں تو باہر بیٹھے ہوئے ان کے اقاوں کو بڑی بے چینی ہونے لگتی ہے پھر وہ باہر سے ان وکالتیں کرنے لگتے ہیں اور یقین دہانیاں چاہتے ہیں کہ ’’ایسے وطن مخالفین کے ساتھ وقار کا سلوک روا رکھاجائے;238;‘‘فی زمانہ پاکستان کی قومی سلامتی کو باہر سے زیادہ ملک کے اندر سے بڑے مہلک خطرات درپیش ہیں ، پاکستان میں افغانستان سے درآمد ہونے والا بھیانک قسم کی دہشت گردی کا بے قابو جن توہم پاکستانیوں نے اپنے ہزاروں ہم وطنوں کی قیمتی جانوں کی قربانیاں پیش کرکے بڑی ابتلاوں اور آزمائشوں کا جان لیوا امتحان دے کر دوبارہ بوتل میں بند کردیا ہے ،لیکن ان ’’سفید پوش دہشت گردوں ‘‘کاعلاج کیسے کیا جائے یہ بڑا اہم سوال ہے بہت قیمتی سوال ہے، ان سفید پوش دہشت گردوں میں یہ پوچھئے کون نہیں ہوسکتا;238; سماجی کارکنوں کی ایک طویل فہرست ہے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ گن لیں گنتی کئی اعداد تک جاپہنچے گی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام کا یہ کہنا ہے کہ مبینہ طور پر قومی سلامتی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات پر سماجی کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ گل بخاری سمیت اب تک 35 افراد کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں ایف آئی اے کے مطابق بیشتر تحقیقات کا تعلق سائبر دہشت گردی سے ہے جبکہ بلوچستان لبریشن آرمی اور حقانی نیٹ ورک کے علاوہ بیرون ملک بیٹھ کر مبینہ طور پر ملک میں اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے اب تیزرفتار انکوائریاں شروع کی جاچکی ہیں ظاہر ہے عوامی سطحوں میں اشتعال انگیزی پھیلانا جسے راقم نے’’سفید پوش دہشت گردی‘‘کانام دیا ہے دیکھا جائے تو یہ نام غلط نہ ہوگا عوامی ہجوم میں گھرے ہوئے ان لوگوں سے ریاستی طاقت کے ذریعے نمٹا نہیں جاسکتا ریاست میں قانون موجود ہے واضح رہے گذشتہ ماہ پارلیمانی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین نے ایف آئی اے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دنیا بھر میں اْن کے سکیورٹی اداروں اور ملک کے خلاف سوشل میڈیا پر مواد کو کنٹرول کیا جاتا ہے، جہاں سخت قوانین نافذ ہیں لیکن پاکستان میں ملکی مفاد اور قومی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر بولنے والوں کے خلاف کچھ نہیں کیا جا رہا ا س معاملے کو سنجیدہ لینے کی ضرورت پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے دفاعی پارلیمانی کمیٹی میں بتایا تھا کہ سوشل میڈیا پر ملکی مفاد اور سلامتی کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے اب تک 21 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ 61 شکایتیں درج کروائی گئی ہیں جن پر گہری تفتیش کاسلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔