- الإعلانات -

عزت مآب جناب چیف جسٹس صاحب کے نام

عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد خان صاحب نے سرکلر ریلوے کے حوالے سے جو فیصلہ دیا ہے وہ اس قابل ہے کہ اسے آب زر سے لکھا جائے۔ چونکہ عدالتی فیصلوں کے حوالے سے بعض اوقات حکومتی سطح پر عملد درآمد کے اعتبار سے ایک تساہل سا پایا جاتا ہے اس لیے خوش آئند امر ہے کہ اس فیصلے میں اس امکان کا بھی تدارک کر دیا گیا ہے۔عدالت نے اپنے اس غیر معمولی فیصلے میں نہ صرف بنیادی مسئلے کو نبٹایا ہے بلکہ ساتھ ہی ایک ٹائم فریم بھی دے دیا ہے اور اس ٹائم فریم میں حکم پر عملدر آمد نہ کرنے کا جو نتیجہ ہو سکتا ہے وہ بھی بیان کر دیا ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق اگر مقررہ مدت میں سرکلر ریلوے نہیں چلتی تو وزیر اعظم کو توہین عدالت کا مرتکب سمجھتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔وزیر اعظم کے معاملے میں توہین عدالت کی کارروائی بہت اہم ہوتی ہے اور اس میں کم تر سزا بھی مل جائے یعنی یہ صرف یہ کہہ دیا جائے کہ Till rising of the court ملزم کو سزا دی جاتی ہے اور ساتھ ہی عدالت برخواست ہو جائے تو یہ سزا تو دس سیکنڈ کی ہوتی ہے۔بلکہ شاید اس سے بھی کم لیکن اس کا نتیجہ بڑا معنی خیز ہوتا ہے اور اس صورت میں وزیر اعظم اپنے منصب سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ آئین پاکستان میں اہلیت کے حوالے سے جو آر ٹیکل موجود ہے اس کی روشنی میں وزیر اعظم اس منصب سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔اس قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایک انتہائی بھر پور فیصلہ ہے اور مجھے پورا یقین ہے مقررہ وقت سے پہلے اس پر عمل ہو چکا ہو گا اور اگر اس پر عمل ہوتا ہے تو کراچی کا نقشہ ہی بدل جائے گا۔
عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان نے جس طرح درد دل کے ساتھ یہ فیصلہ دیا ہے اسے دیکھتے ہوئے میرے اندر ایک امنگ جاگ پڑی ہے اور میں ان سے یہ درخواست کرنے پر مجبور ہوں کہ جناب عالی، اس نیک اور مبارک سلسلے کو یہاں روکیے مت، اسے آگے بڑھائیے ۔ مخلوق خدا حکومتی اداروں کے انتظامی مسائل اور بیوروکریسی کے رویوں سے نالاں ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ۔ان کی التجائوں کو سنیے اور انصاف کی نعمت اللہ کی مخلوق میں تقسیم کیجیے۔ یہی آپ کے منصب جلیلہ کا تقاضا ہے اور یہی آپ سے عوام الناس کی توقع اور خواہش ہے۔
میں ان سطور کے ذریعے عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ چونکہ عام آدمی کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیں اور وہ ان کی طرف دیکھ رہا ہے اس لیے اگر حقوق انسانی سیل اور پبلک انٹرسٹ لٹی گیشن یعنی مفاد عامہ کے معاملات کو جناب چیف جسٹس صاحب اہمیت دیں تو یہ ایک ایسی نیکی ہو گی کہ لوگوں کے دلوں سے ان کے لیے دعائیں نکلیں گی۔ سپریم کورٹ سے لوگوں کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ پارلیمان نے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اور دیگر کئی قوانین اس وقت بنائے جب معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا گیا۔ تو جناب جسٹس گلزار احمد سے درخواست ہے کہ جن معاملات سے خلق خدا تنگ ہے اور حکومت ان کی طرف توجہ نہیں کر رہی اگر جناب والا ان معاملات کو دیکھیں تو یہ انصاف کے مبارک تقاضوں کے عین مطابق ہو گا۔
گیس اور بجلی کے بلوں کے معاملے میں عوام کی کوئی سننے والا نہیں۔ گیس کے میٹر خراب نکلیں یا کسی کو شکایت ہو کہ ان کی ریڈنگ درست نہیں تو یہاں کوئی غیر جانبدارفورم نہیں جو میٹر کے درست ہونے یا خراب ہونے کا فیصلہ کر سکے۔جو کمپنی گیس فراہم کرتی ہے میٹر کو جانچنے
کی لیبارٹری صرف اسی کے پاس ہے۔یعنی جس کے خلاف عوام شکایت کرتے ہیں وہی ملزم فریق فیصلہ کرتا ہے کہ اس کا لگایا میٹر درست ہے یا خراب۔ ملزم فریق جو رپورٹ پیش کر دے اس رپورٹ کو جانچنے کے لیے ہمارے ہاں کوئی ایسا ادارہ یا لیبارٹری نہیں جو دیکھ سکے کہ آیا اس رپورٹ میں جو کہا گیا ہے وہ درست ہے یا غلط رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ایک صارف کتنا بے بس ہے۔ کنزیومر کی اس طرح کی بے بسی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔
یہی معاملہ بجلی وغیرہ کا ہے۔ الجھا دینے اور پریشان کر دینے والے ضابطے واپڈا نے بنا رکھے ہیں۔ غلط بل آ جائے تو کہا جاتا ہے شکایت تب سنی جائے گی جب پہلے بل جمع کرائو گے۔ غریب آدمی کا بل لاکھوں میں آ جائے تو وہ کہاں سے دے۔ اسے کہا جاتا ہے پہلے بل دو بعد میں دیکھیں گے غلط تھا یا درست تھا۔ ایک کنزیومر کے ساتھ اس طرح کا سلوک کہاں کا انصاف ہے۔ عام آدمی کی سہولت کی بجائے ان اداروں نے اپنے مفاد کے لیے ضابطے بنا رکھے ہیں ۔ عام آدمی بے چارہ دفتروں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک جاتا ہے کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔
اسلام آباد میں سرکاری پلاٹوں پر پلازے اور پارکنگز بن چکیں ، سرکاری زمینوں پر قبضے ہو چکے۔اتنا بڑا ادارہ ہے سی ڈی اے لیکن پارکس بھوت بنگلا بن چکے ہیں۔ پارکوں میں قائم پبلک ٹوائلٹس ناقابل استعمال ہیں۔ الاٹیز فائلیں پکڑ کر دھکے کھا رہے ہیں۔ جڑواں شہر روالپنڈی میں رہائشی علاقوں کو کمرشل بنا دیا گیا ہے۔ رہائشی علاقوں میںسکول کالج اور پلازے اور دفاتر قائم ہو رہے ہیں۔لوگوں کا یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے لیکن کسی کو پرواہ نہیں۔
بہت سارے مسائل ہیں اور ان کے حل کی امید صرف ملک کی سب سے بڑی عدالت کے قابل احترام قاضی سے ہے۔ لوگ اپنے چیف جسٹس کی طرف دیکھ رہے ہیں اور انہیں بڑی امید ہے ان کی بات اور کوئی نہیں سنتا تو جناب چیف جسٹس ضرور سنیں گے۔