- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر ، درانداز پاکستان نہیں بھارت ہے

بھارت نے پاکستان کی طرف سے مبینہ دراندازی روکنے کےلئے کئی طرح کے انتظامات کر رکھے ہیں ۔ ایک طرف تو ساڑھے تین میٹر تک بلند خاردار باڑ لگا رکھی ہے ۔ ساتھ ہی موشن سینسرز بھی ہیں ، تھرمل امیجنگ ڈیوائسز بھی ہیں ۔ الارمز بھی لگا رکھے ہیں ۔ یعنی اگر کنٹرول لائن پر کوئی معمولی سی بھی حرکت ہو تو جدید ترین آلات کی مدد سے اْن کا فوری پتا چل جاتا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان جو زمین ہے، اس پر بھی جگہ جگہ بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں ۔ پھر کیسے در اندازی ہو جاتی ہے ۔ گزشتہ ماہ بھارت نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے راستے 60 کے قریب افغان دہشت گرد بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاک بھارت سرحد پر بی ایس ایف کے جوانوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے ۔ جس کا جواب پاک فوج کے سابق ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے یوں دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہرقسم کی بھارتی جارحیت کا جواب دینے کےلئے تیار ہیں ۔ بھارتی سرکار اور آرمی چیف صرف اپنے عوام کو خوش کرنے کےلئے بیان بازی کر رہے ہیں ان کے یہ بیانات معمول کی ہرزہ سرائی ہے ۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ بھارتی آلات بھارتی اسلحہ کی طرح ناقص ہوں ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان جدید ترین آلات کو آپریٹ کرنے والے تجربہ کار لوگ ہی نہ ہوں ۔ بہر حال دو باتوں میں سے بھارت کی ایک بات تو جھوٹ ہے ۔ یا پاکستان سے مقبوضہ کشمیر میں دراندازی نہیں ہو رہی یا بھارت کے پاس اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کی اہلیت ہی نہیں ۔ مقبوضہ کشمیر پر کسی بھی بیرونی حملے کا کوئی فوری خطرہ بھی نہیں ۔ پھر بھارتی حکومت کو ایسی کیا ضرورت پیش آگئی ہے کہ وہاں سات لاکھ سے زائد فوجیوں کو تعینات رکھا جائے ۔ ایک طرف تو بھارت کہتا ہے کہ یہ اس کا حصہ ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان سے دراندازی کا خطرہ موجود رہتا ہے ۔ بھارت کی قیادت کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے دراندازی کے باعث جموں و کشمیر میں معاملات پیچیدہ ہو جاتے ہیں ۔ وہ پاکستان کی طرف سے دراندازی یا حملے کے خطرے کو ہمیشہ توانا بتا کر عالمی برادری پر یہ جتانے کی کوشش کرتا رہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ سے زائد فوجی تعینات رکھنا انتہائی ضروری اور درست ہے ۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارت کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان کی طرف سے دراندازی ہوتی رہتی ہے تو پھر بھارتی قیادت ایسا کیوں نہیں کرتی کہ بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن کی نگرانی اقوام متحدہ کے غیر جانب دار مبصرین کے حوالے کر دے;238;کشمیر کا مسئلہ اب تک زندہ ہے اور اس مسئلے کے زندہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے چھوٹے سے خطے میں سات لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں ۔ جب عراق پر امریکا کی لشکر کشی نقطہ عروج پر تھی، تب بھی وہاں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ66 ہزار سے زائد نہ تھی ۔ مقبوضہ کشمیر میں کون سی جنگ ہو رہی ہے جو وہاں اِتنے بڑے پیمانے پر فوجی تعینات کیے گئے ہیں ;238; بھارتی افواج نے کشمیر میں داخل ہوکر غاصبانہ قبضہ کرکے معصوم و مظلوم کشمیریوں پرظلم و بر بریت کے پہاڑ توڑ ڈالے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے نریندر مودی کے دور حکومت میں مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب مثبت پیش رفت کی توقع رکھنا فضول ہے ۔ نریندر مودی ہندوستان کو تباہی کی طرف لے کر جارہا ہے ۔ نریندر مودی کے نظریات دوسرے مذاہب کے لوگوں کا بھارت میں رہنا ناممکن بنانا ہے ۔ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات کو ابھار کر ان کے قتل و غارت کیلئے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو اس نے فروغ دیا ہے ہندوستان کی حکومت اور فوج کشمیریوں کے قتل عام میں مصروف ہے ۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے اس پار کشمیریوں کو نشانہ بنارہے ہیں تو ہندوستان کی اس پالیسی کو تبدیل کرانے کیلئے اور اس کے اصلی چہرے کو دنیا کے سامنے لانے کیلئے ضروری ہے کہ تمام کشمیری و پاکستانی کمیونٹی ملکر مظاہرہ کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ جب تک بھارت کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر حل نہیں کرتا یہ پرامن جدوجہد جاری رہے گی ۔ بھارت کی بد فطرت سب کے سامنے ہے لیکن ہر کوئی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے وہ خود سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے اور پھر سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے جس میں اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے ۔ گزشتہ 6 ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اس کو دنیا کی سب سے بڑی جیل قرار دیا جارہا ہے ۔ اہل کشمیر کی زندگی اجیرن ہے عورتیں اور بچے بھی ان کے ظلم سے محفوظ نہیں یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس بھی منقطع ہے جس کے باعث ان کا دنیا سے کوئی رابطہ نہیں اور کاروباری زندگی بھی مفلو ج ہے ۔ اب ایک ہفتہ قبل بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو ایک ہفتے کے اندر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا یہ ایک اہم اقدام ہے ۔ کورٹ نے واضح کیا کہ انٹرنیٹ سروس بند کرنا آزادی اظہار رائے کے منافی ہے اور کسی کو بھی اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی;46; بھارتی عوام سیاسی جماعتیں عدالت بھی حکومت کے ہم خیال نظر نہیں آتے ۔ کسی بھی جمہوریت کے دعویدار سیکولر ملک میں اس سے زیادہ بدتر صورتحال اور کیا ہوگی بھارتی حکومت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ترمیمی شہریت بل بھی پاس کر دیا یہ بل اب قانون بن کر دس جنوری سے بھارت میں نافذ ہو چکا ہے اس قانون کی رو سے مسلمانوں کے سوا دوسری تمام اقلیتوں کو شہریت حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے ۔ بھارت معلوم نہیں کونسی دنیا میں رہ رہا ہے اس کے اپنے اندرونی حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں پھر بھی وہ پاکستان کےخلاف محاذ کھولنے کی خواہش میں مبتلا ہے ۔