- الإعلانات -

پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام سے تبدیلی آئیگی

بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتا ہے ۔ بلدیاتی نظام ایک ایسا نظام ہے جس میں عوام براہ راست منسلک ہوتے ہیں ۔ عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب خود کرتے ہیں اور انہیں نہ صرف وہ عرصہ دراز سے جانتے ہیں بلکہ ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں ۔ بلدیاتی نظام میں نمائندوں کا اپنے علاقہ سے منتخب ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت پر مامور رہتے ہیں ۔ اس نظام کی ایک اور اہم خوبی خواتین کی انتخابات میں شمولیت ہے ۔ یہ عوام کو ریلیف دینے کا فوری اور مضبوط ذریعہ ہے ۔ عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب حکومت امسال بلدیاتی انتخابات منعقد کروانے جا رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام عوام کی امنگوں کا ترجمان ہوگا ۔ نئے بلدیاتی نظام میں عوام حقیقی معنوں میں با اختیار ہوں گے ۔ اس نظام سے پنجاب میں نئی تبدیلی آئے گی ۔ سٹیٹس کو ختم کر کے نیا نظام راءج کریں گے ۔ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اور بروقت تکمیل کے لئے ٹھوس میکنزم بنایا گیا ہے ۔ وزارت اعلی کا منصب عوام کی خدمت کے لئے وقف ہے ۔ عوام کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ عوامی خدمت کا سفر پوری قوت سے جاری و ساری رہے گا ۔ ماضی میں سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر مفلوج بلدیاتی ادارے تشکیل دیے جاتے رہے جن کے پاس نہ کوئی اختیارات ہوتے تھے اور نہ ہی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے فنڈز ۔ پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام میں نہ صرف اختیارات بلکہ 30 فیصد ترقیاتی بجٹ بھی گاؤں کی سطح تک پہنچائے جائیں گے ۔ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف جاری پروپیگنڈہ بارے واضح الفاظ میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہور کے بعد پچھلے کچھ دنوں سے جاری افواہوں کا قلع قمع ہو گیا ہے ۔ اس بارے میں کوئی شکوک و شبہات نہیں رہنے چاہئیں کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار ہی رہیں گے ۔ پنجاب کی ترقی بارے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کو سیاحت اور سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک قرار دیا ہے ۔ دہشت گردی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔ کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ تقریباً ختم ہو گیا ہے ۔ تمام بڑے قومی اداروں کا ریونیو بڑھ گیا ہے ۔ میکرو لیول انڈیکیٹرز بہتر ہو گئے ہیں ۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے ۔ اگلا سال پاکستان میں مہنگائی کے خاتمے، بے روزگاروں کو نوکریاں دینے اور بہتر ہوتی معیشت کے اثرات مائیکرو لیول تک پہنچانے کا ہے ۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملتان سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے ملاقات میں اربوں روپے کے ترقیاتی پیکیج کی منظوری دی ۔ ان اراکین اسمبلی میں وفاقی و صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی شامل تھے جنہوں نے پیکج پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وزیراعلیٰ کا ہونا ہماری خوش قسمتی ہے ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور ہمارے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ موجود ہے ۔ ہ میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے ۔ وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا کہ ملتان میرا دوسرا گھر ہے، ان کا جنوبی پنجاب کے بڑے شہر ملتان سے دلی لگاوَ کا نتیجہ ہے ۔ ملتان کے ترقیاتی پیکیج پر عملدرآمد کی نگرانی خود کریں گے ۔ ملتان میں سیوریج اور پینے کے پانی کے مسائل حل کئے جائیں گے ۔ اراکین اسمبلی کے حلقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائیں گے ۔ ملتان میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کا منصوبہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا ۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات ملتان ترقیاتی پیکیج کا جائزہ لے کر ترجیحات کا تعین کرے گا ۔ ملتان میں تعلیم اور صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے نئے پراجیکٹس شروع کریں گے ۔ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے حوالے سے بھی ملتان شہر کی ضروریات کے مطابق اقدامات کئے جائیں گے ۔ ملتان وہاڑی روڈ کو دو رویہ کرنے کے منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیا جائے گا ۔ ملتان شہر کے اندر ٹریفک کے مسائل کے حل کیلئے ضروری اقدامات اٹھائیں گے ۔ ملتان میں سپیشل اکنامک زون کے قیام کے منصوبے کیلئے وفاقی حکومت سے بات کی جائے گی ۔ ناردرن اور سادرن بائی پاس کو مکمل کرنے کیلئے فوری اقدامات کریں گے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ پنجاب میں پہلی بار ارکان اسمبلی کی مشاورت سے ترقیاتی منصوبے تشکیل دیئے جا رہے ہیں ۔ پنجاب میونسپل سروسز پروگرام کے تحت ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی تکمیل سے عوام کے بنیادی مسائل حل ہوں گے ۔ جنوبی پنجاب کیلئے مختص فنڈز جیو فینسنگ کے بعد اب کسی اور جگہ منتقل نہیں ہوسکتے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کی ترقی کو سابق دور میں بری طرح نظر انداز کیا گیا پر تحریک انصاف کی حکومت نے آپ کی قیادت میں پہلی بار جنوبی پنجاب کو اس کا حق دیاہے ۔ جنوبی پنجاب کی ترقی اور خوشحالی کے لئے مختص فنڈز کسی اور مقصد کے لئے ا ستعمال نہیں ہوں گے ۔ مرحلہ وار پروگرام کے تحت ہر ضلع میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہو ئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جس ضلع میں یونیورسٹی موجود نہیں ،وہاں یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ دریائے سندھ کے کٹاوَ کے باعث لیہ اور راجن پور کے علاقوں کو بچانے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت بھی کی ۔ اس ضمن میں محکمہ آبپاشی میں فوری طورپر ماڈل سٹڈی کرا کر اقدامات کرے گی ۔ سابق دور میں نمائشی منصوبوں کے فیتے کاٹے گئے ہماری حکومت نے اس غلط روایت کا خاتمہ کیاہے محکمہ آبپاشی کے موجودہ انفراسٹرکچر کو بحال کریں گے ۔ اْمید کی جاتی ہے کہ یہ نظام اپنی اَصل شکل میں راءج کیا جائیگا جس سے نہ صرف ملکی سطح پر عوامی نمائندگی ہوسکے گی بلکہ عام لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے بھی خاطر خواہ کام کیا جائے گا ۔ پنجاب میں پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے مختص فنڈز کو کسی دوسرے علاقے یا منصوبے کیلئے منتقل کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ محکموں کو واضح ہدایات دی ہیں کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت سکیموں پر کام کی رفتار تیز کی جائے ۔ جاری ہونے والے فنڈز کا بروقت استعمال یقینی بنایا جائے گا ۔