- الإعلانات -

یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی

دو روز قبل مقبوضہ کشمیر میں کشمیری رہنما محمد افضل گورو کی شہادت کی پانچویں برسی پرمکمل ہڑتال کے باعث نظام زندگی ابھی تک مفلوج ہے ۔ سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یٰسین ملک سمیت تقریباً تمام حریت رہنماءوں کو گھروں میں نظر بند یا زیر حراست رکھا گیا ۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد بھی سیل کر دی گئی اور لوگوں کو وہا ں نمازجمعہ ادا نہیں کرنے دی گئی جبکہ ریل سروس بھی معطل رہی ۔ احتجاج سے روکنے کیلئے سرینگر اور سوپور سمیت کئی شہروں میں پابندیاں ، فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی مگر مقبوضہ کشمیر ابھی تک ہڑتالی پوزیشن میں ہے ۔ اب 11 فروری کو فرزند کشمیر شہید مقبول بٹ کی برسی ہے جس پر ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے ۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں 11 فروری 1984کو تختہ دار پر چڑھائے گئے فرزند کشمیر شہید مقبول بٹ کی برسی مقبوضہ کشمیر میں عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے ۔ نثر نگار مضامین لکھتے ہیں شاعر شاعری لکھتے ہیں اور سیاسی کارکنان اور لیڈر شہید مقبول بٹ کے قدموں کے نشان پر چلتے ہوئے وطن کی آزادی کیلئے تختہ دار پر جھول جانے کا عزم دہراتے ہیں ۔ 11 فروری 1984ء کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ایک ایسے کشمیری مجاہد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ۔ جس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ بھارت کے زیر قبضہ اپنی مادر وطن کی آزادی کیلئے مسلح جدوجہد پر یقین رکھتا تھا ۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں گوریلا جنگ کے داعی تھے اور کشمیری نوجوانوں کی اس مسلح تحریک میں بھرتی کیلئے وہ کئی مرتبہ سرحد پار کرکے وہاں جاتے رہے ۔ ایک مرتبہ جب اپنے 3 ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئے تو جیل کی بلند دیواریں بھی انکی راہ میں مزاحم نہ ہو سکیں اور وہ جیل توڑ کر فرار ہوئے ۔ دوسری مرتبہ اسی طرح کی ایک کوشش میں گرفتار کیا گیا اور دہلی کی تہاڑ جیل میں بند کیا گیا ۔ بھارتی عدالتوں کی طرف سے پھانسی کی سزا کے بعد بھارتی حکومت نے 11 فروری 1984ء کو مقبول بٹ کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا اور مقبوضہ کشمیر میں گڑبڑ کے خوف سے نعش تہاڑ جیل میں ہی دفنا دی گئی ۔ آج بھی مزار شہدا سرینگر میں جہاں ہزاروں شہدا دفن ہیں مقبول بٹ شہید کی آخری آرام گاہ انکے جسد خاکی کی منتظر ہے اور کشمیریوں کا مطالبہ ہے کہ بھارت ان کا جسد خاکی انکے سپرد کرے تاکہ وہ اسے مزار شہدا میں دفن کریں ۔ بھارتیوں نے مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد یہ سمجھ لیا تھا کہ اب کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد کو ترک کر دیں گے لیکن ان کی یہ سوچ غلط تھی جبکہ شہادتیں تاریخ کے دامن میں عارضی اور غیرمستقل مزاج واقع نہیں ہوتیں بلکہ شہادتیں آنے والے دور میں شعور و آگہی کو ابھارتی ہیں شہادتیں آزادی پسندوں کوشہید ہونے کا درس دیتی ہیں ۔ شہادتیں تحریکوں کوجنم دیتی ہیں ۔ شہید زندہ ہوتا ہے کیونکہ وہ شہید ہو کر تاریخ کے صفحات میں دائمی حیات حاصل کر لیتا ہے ۔ شہادتیں کسی قوم کے اجتماعی شعور اور خودداری کی عکاسی کرتی ہیں ۔ شہید شہادت کے بعد ایک سوچ بن کر قوم کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرتا ہے ۔ مقبول بٹ کی روح آج بھی ہندو حکمرانوں کے اعصاب پر خوف کے سائے کی طرح منڈلا رہی ہے جس سے وہ پیچھا چھڑانے کی جتنی بھی کوشش کر لیں یہ سایہ انکا پیچھا نہیں چھوڑے گا ۔ مقبوضہ کشمیر میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے محمد مقبول بٹ کو تحریک آزادی کشمیر کا بنیادی ستون اور آزادی کی علامت قراردیتے ہوئے کہاہے کہ انکی جدوجہد ہر مظلوم انسان کی نمائندگی کرتی ہے ۔ محمد مقبول بٹ ایک نظریہ ساز قائد، ایک مخلص مزاحمت کار اور ایک اعلیٰ دانشور تھے جنہوں نے اپنے جموں وکشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کا خواب دیکھا ، اس خواب کی تکمیل کیلئے جدوجہد کی اور اسی راہ عزیمت میں اپنی جان کانذرانہ پیش کیا ۔ مقبول بٹ کی جدوجہد و قربانی ہماری تاریخ کا تابناک باب ہے جو مزاحمت کے جاری سفر میں ہماری رہنمائی کرتا رہے گا ۔ محمد مقبول بٹ کی برسی کے سلسلے میں ’ہفتہ شہادت ‘کے دوران منعقد کئے جانیوالے پروگراموں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہاکہ دنیا بھر میں مقبول بٹ کی شہادت کی36ویں برسی کے حوالے سے مختلف احتجاجی پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں اور 11 فروری یوم مقبول کو ایک قومی دن کے طور پر منایا جا رہا ہے ۔ یوم مقبول کے سلسلے میں دنیا بھر میں مقیم کشمیری بڑے شہروں میں پْرامن دھرنے، جلسے ، جلوس، ریلیاں ،سمینار اور سمپوزیم منعقد کررہے ہیں ۔ اسی سلسلے کے پروگرام امریکہ، برطانیہ، یورپ، کینیڈا، جرمنی،متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے شہروں میں بھی منعقد ہونگے ۔ لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہرایک دھرنا دیا جائےگا اور ایک یادداشت بھی پیش کی جائے گی جس میں بھارتی حکومت پر محمد مقبول بٹ اورمحمدافضل گورو کی میتوں کی واپسی کیلئے زور دیا جائے گا ۔ دونوں شہداء کی میتوں کو واپس نہ کرنا دراصل دنیا کے ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے جو آج تک کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ تک میں ناکام رہی ہے ۔ 11فروری کو یوکے میں مقیم کشمیری بڑی تعداد میں بھارتی سفارتخانے کے باہر شدید احتجاج کریں گے ۔ یورپ سمیت دیگر ملکوں میں موجود کشمیریوں سے رابطے جاری ہیں اور 11فروری کو دیگر یورپی ممالکوں میں بھی بھارتی سفارتخانے کے باہر احتجاج ہوسکتا ہے، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے مقبول بٹ کی 36ویں برسی کے موقع پر آزاد کشمیر کے دس اضلاع، گلگت بلتستان، پاکستان میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں ۔