- الإعلانات -

افغانستان امن معاہدہ ، پاکستان کے خاموش مجاہدین کا کلیدی کردار

دوحہ میں امن مذاکرات ہوئے تو مجھے وہ دن یاد آ گیا جب میں چہار آسیاب میں گلبدین حکمتیار کا مہمان بنا تھا اور وہ شام بھی یاد آگئی جب وادی پنج شیر میں کہیں احمد شاہ مسعود ہمارے میزبان تھے۔ تاریخ ایک کروٹ بدل رہی تھی اور سوویت یونین کو شکست ہو چکی تھی۔ افغان مجاہدین کے درمیان امن معاہدے اور اقتدار کے اشتراک کار کا فارمولاطے ہونا تھا اور اس سلسلے میں پاکستانی حکام اور افغان مجاہدین کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا۔[wp_ad_camp_1]
میں اور برادرم اعجاز الحق کابل پہنچے اور ان دو بڑے افغان رہنمائوں سے ملاقاتیں کی۔ہمارا وفد افغان قیادت سے ملا ، ان سے تبادلہ خیال ہوا۔ ان کی گرمجوش محبت اور مہمان نوازی آج بھی مجھے یاد ہے۔ ایک دلچسپ بات میں یہاں اپنے قارئین سے شیئر کرتا چلوں کہ جب وہاں معاہدہ ہو رہا تھا تو ہم سب بہت خوش تھے کہ اب افغانستان میں امن اور استحکام کا دور آئے گا۔ سوویت یونین یہاں سے نکل چکا ہے اور مجاہد قیادت شراکت اقتدار کے ایک فارمولے پر تیار ہو چکی ہے۔ لیکن وہاں موجود ایک میزبان نے مسکرا کر کہا کہ اتنے خوش نہ ہوں ۔آپ ہم افغانوں کو جانتے نہیں۔آپ نے ادھر پاکستان پہنچنا ہے ادھر ہم نے بندوقیں نکال لینی ہیں کیونکہ ہم فیصلے بندوق سے کرنے کے عادی ہیں ۔ان کی اس بات پر ایک قہقہہ سا پڑا اور ہم یہ بات بھول گئے۔ لیکن پھر وہی ہوا جو ہمارے میزبانوں کے ساتھی نے ہم سے کہا تھا۔ افغانستان میں ایک خانہ جنگی شروع ہو گئی اور گلبدین حکمتیار اور شمالی اتحاد کی لڑائی نے افغانستان کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان کیا۔

[wp_ad_camp_1]
اب پھر افغانستان کی قیادت کا امتحان ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ امریکہ کے نکل جانے کے بعد وہ مل بیٹھ کر آپس میں شراکت اقتدار کا کوئی فارمولا تیار کر سکتے ہیں یا نہیں۔کیا وہ فیصلہ مل بیٹھ کر کر لیں گے یا افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا۔اس بار البتہ امید زیادہ ہے کہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے گا اور افغان قیادت ماضی کے تلخ تجربات سے سیکھتے ہوئے کسی مہم جوئی کا حصہ بننے سے اجتناب کرے گی۔

[wp_ad_camp_1]
دوحہ امن معاہدہ پاکستان کی کامیابی ہے۔ وقت نے ثابت کیا کہ افغانستان میں امن کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر جاتا ہے اور ایک ذمہ دار پڑوسی ریاست ہونے کی وجہ سے پاکستان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان نے امن کے لیے بساط سے بڑھ کر کوششیں کیں اور آج پاکستان کامیاب ہے۔

[wp_ad_camp_1]
افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ بہت بڑھتا جا رہا تھا۔ انہی دنوں کی بات ہے مرحوم جنرل حمید گل صاحب میرے پروگرام سچی بات میں تشریف لائے اور انہوں نے کہا جس دن امریکہ افغانستان سے نکلے گا اس دن افغانستان میں بھارتی سرمایہ کاری غارت ہو جائے گی۔ آج بالکل ویسا ہی ہو رہا ہے۔ امریکہ نے ابھی افغانستان سے نکلنے کا اعلان کیا ہے اور افغانستان میں بھارتی پرچم جلانے اور بھارت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ بھارت نے سمجھ لیا تھا کہ افغانستان کو سکم اور بھوٹان یا نیپال سمجھ کر ایک باجگزار ریاست بنا لے گا اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائی کرے گا اور مذموم سرگرمیاں جاری رکھے گا۔ اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی۔ اجیت ڈول کا تزویراتی ڈول کابل کے کنویں میں گر گیا ہے۔ افغانستان پاکستان کا دوست ملک ہے اور بھارت کی پراکسی نہیں ہے۔ بھارت نے یہاں جتنی سرمایہ کاری ہے سب غارت ہو جائے گی۔

[wp_ad_camp_1]
افغانستان میں آج حالات سازگار ہو رہے ہیں اور پاکستان دشمن قوتوں کو منہ کی کھانی پڑی ہے تو یہاں پاکستان کے خاموش مجاہدین یعنی آئی ایس آئی کے جانبازوں کو یاد نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ ان لوگوں نے پاکستان کے مفاد کی یہ مشکل لڑائی لڑ کر ایک تاریخ رقم کی ہے۔افواج پاکستان کے سپہ سالار اور آئی ایس آئی کے سربراہان مبارکباد کے مستحق ہیں۔
چلتے چلتے یہاں مجھے جنرل حمید گل صاحب مرحوم کی ایک بات یاد آ رہی ہے کہ مورخ لکھے گا آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے روس کو شکست دی اور پھر مورخ ایک اور لائن لکھے گا کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دی۔مورخ کے لکھنے کا وقت آ پہنچا ہے۔

[wp_ad_camp_1]