- الإعلانات -

قارونی نظام کی کڑیاں

بظاہر جمہوری نظام قائم ہے انتخابات بھی ہوتے ہیں جیت اور ہار بھی ہوتی ہے لیکن مخصوص چہرے ہی سامنے آتے ہیں جس کی جاگیر ہو اور یا اس کے پاس سرمایہ ہو وہی الیکشن لڑسکتا ہے اور جو معیشت میں غلام ہو اسکی سیاسی آزادی کی کوئی معانی نہیں ہے کیونکہ جو معیشت میں دوسرے کا غلام ہوجاتا ہے تو پھر زندگی کے ہر شعبہ میں اسکی آزادی ختم ہوجاتی ہے اور بھلاغلام کی کیا رائے ہوتی ہے اسکو تو روٹی کی فکر ہوتی ہے، وہ تو ہمیشہ نوالے کے چکر میں اپنی زندگی گزارتا ہے،قارون ایک ایسا کردار ہے جو کسی معاشرے کے تمام وسائل پر قبضہ کرکے اسے اپنی تحویل میں لے لیتا ہے اور اپنی اجارہ داری قائم کرکے معاشرے میں فساد اور محرومی پیداکرتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بیک وقت دو قوتوں سے مقابلہ کرنا پڑا تھا ایک طرف انہوں نے فرعون کی سیاسی قوت سے مقابلہ کیا اور دوسری طرف انہیں قارون کی سرمایہ دارانہ قوت سے بھی مقابلہ کرنا پڑا، قارون کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسل سے تھا اور فرعون نسلی طور پر مصری تھا اس سے اس نظریہ کی نفی بھی ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جدوجہد صرف بنی اسرائیل کی آزادی کیلئے تھی دراصل انکی جدوجہد ظالمانہ نظام کے خلاف تھی کیونکہ اسلام ظلم کا خاتمہ چاہتا ہے، ظالمانہ نظام چلانے والا اپنی نسل سے تعلق رکھتا ہو اور یا کسی اور نسل سے اسکا تعلق ہو اس کا خاتمہ اسلامی تعلیمات کے اعتبار سے ضروری قرار پاتا ہے، قارون نے جو نظام قائم کیا تھا وہ ظالمانہ تھا اور عدل کے خلاف تھا کیونکہ معاشرے کے تمام وسائل پر اس نے قبضہ کرکے سرمایہ دارانہ طبقہ پیدا کیا تھا اگرچہ اس کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنی نسل بنی اسرائیل سے تھا لیکن انہوں نے اسکے خلاف جدوجہد کی اور اور اس قوت سے مقابلہ کیا ۔ قارونی نظام کی بنیاد اس نظریہ پر قائم ہے کہ معاشرے کو تقسیم کرکے اس میں بگاڑ پیدا کیا جائے اور اور روٹی کا محتاج بناکر انسان کو انسان سے لڑایاجائے اور معاشرے کے وسائل پر ایک چھوٹاسا گروہ قابض ہو جائے اورسیاہ وسفید کا مالک بن کر لوگوں کاخون اور معاشرے کا رس نچوڑے اور ان کی سفلی جذبات کی تسکین ہوتی رہے اور ان کے سرمایہ میں اضافہ ہوتا رہے اور ان کی جاگیر کی حدیں وسیع سے وسیع تر ہوتی ہوتی رہے ۔ آج دنیا جہاں بھی سرمایہ داریت اور جاگیرداریت ہے یہ سب قارونی نظام کی کڑیاں ہیں یعنی قارونیت سامایہ داریت کا دوسرا نام ہے ۔ سرمایہ داریت نے آج جمہوریت کا روپ دھارا ہوا ہے اور ظاہر یہ کیا جارہا ہے کہ یہ نظام لوگوں کی رائے اور ووٹ کے نتیجے میں سامنے آتا ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے ۔ یہ صرف سرمایہ کی جنگ ہے اور لوگ ووٹ کسی نظریہ کیلئے نہیں دیتے بلکہ وہ اس لیئے ووٹ دیتے ہیں کہ ان کی بنیادی ضرورت ووٹ سے پوری ہوسکے گی،اسکی روٹی کا مسئلہ حل ہوگا اور اسے پینے کیلئے صاف پانی دستیاب ہوسکے گا ووٹر کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ کونسا لیڈر ملک اور قوم کیلئے مفید ہے اور کس پارٹی کے پاس اچھا پروگرام ہے،یہ صرف سرمایہ داروں کا کھیل ہے جو سرمایہ کی بنیاد پر کھیلا جاتا ہے اور سرمایہ داروں کیلئے بڑا مفید ہے اس لیئے جو منتخب ہوجاتے ہیں وہ اپنی بولی لگاتے ہیں اور ان کی خوب آءو بھگت ہوتی ہے ۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ایک مخصوص طبقہ نے ہر دور میں جبہ اور دستار کی آڑ میں سرمایہ داریت کا دفاع کیا ہے اور دین کو دنیا اور آخرت میں تقسیم کرکے سرمایہ داروں کیلئے راستہ کھلا چھوڑدیا ہے اور سیاست کا مذہب میں کیا مقام ہے اور معیشت کے حوالے سے دین کاکیا کردار بنتا ہے;238;اور معاشرتی زندگی میں مذہب کی کیا تعلیمات ہیں ;238; اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ سب دنیا داری ہے اور ایک مسلمان کی شان کیخلاف ہے جیسے جیسے انسان معاشی معاملات میں الجھتا جاتا ہے تو اسکی روحانیت کادرجہ بھی کم ہوتا جاتا ہے کیونکہ جو معاشی ضروریات میں الجھا ہواہو اس کو روحانی ترقی کی کیا فکر ہوسکتی ہے;238; ایک حدیث مبارکہ میں اشارہ ہے کہ ’’اندیشہ ہے کہ فقرفاقہ، کفر بن جائے‘‘ ۔ اصل بات یہ ہے کہ جہاں طبقاتی نظام ہوگا اور تمام وسائل پر ایک چھوٹے طبقہ کا تسلط قائم ہوجائے تو پھر معاشرے کے تمام شعبے فیل ہوجاتے ہیں وہاں کا پورا نظام درہم برہم ہوجاتاہے اور پھر وہاں پر جمہوریت، اختیارات کی نیچے سطح تک منتقلی اور اسلامائزیشن کے دعوے صرف سیدھے سادھے عوام کو دھوکہ دینے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ہے ۔