- الإعلانات -

کورونا وائرس: بھارت نے سنیما، شاپنگ مال، میوزیم و تاریخی مقامات بند کردیے

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے باعث بھارت نے یورپی یونین کے ارکان ممالک سمیت مجموعی طور پر 30 ممالک کے شہریوں کے داخل ہونے پر عارضی پابندی عائد کردی ہے۔

علاوہ ازیں بھارت میں ہر سال ہونے والے بولی وڈ کے بڑے فلم فیسٹیول میں سے ایک ’انٹرنیشنل انڈین فلم فیسٹیول اکیڈمی ایوارڈز‘ (آئیفا) کی تقریب کو بھی ملتوی کردیا تھا۔

اسی طرح بھارت میں ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کو بھی مؤخر کردیا گیا تھا اور اب آئی پی ایل اپریل کے وسط میں منعقد کیا جائے گا۔تحریر جاری ہے‎

اور اب بھارت نے ملک بھر کے سینما ہالز، شاپنگ مالز، میوزیم و تاریخی تفریحی مقامات کو بند کرنے سمیت عارضی طور پر ڈراموں اور فلموں کی شوٹنگ بھی مؤخر کردی۔

آئیفا فلم ایوارڈ کی تقریب کو بھی ملتوی کردیا گیا ہے—فائل فوٹو: فیس بک/ ٹوئٹر
آئیفا فلم ایوارڈ کی تقریب کو بھی ملتوی کردیا گیا ہے—فائل فوٹو: فیس بک/ ٹوئٹر

انڈیا ٹوڈے کے مطابق ریاست کرناٹکا، مقبوضہ جموں و کشمیر، کیرالہ اور دہلی کے بعد ریاست مہارا شٹر نے بھی عارضی طور پر سنیما ہالز، شاپنگ مالز اور دیگر تفریحی مقامات کو عارضی طور پر بند کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دارالحکومت نئی دہلی میں تقریبا 150 سنیما ہالز ہیں جنہیں فوری طور پر بند کردیا گیا اور اندازے کے مطابق ان سینما ہالز کو یومیہ 10 لاکھ روپے نقصان اٹھانا پڑے گا۔

نئی دہلی کی طرح ریاست کیرالہ اور کرناٹکا میں بھی سنیما ہالز و شاپنگ مالز سمیت دیگر تفریحی مقامات کو عارضی طور پر بند کرنے سمیت ان ریاستوں میں ڈراموں و فلموں کی شوٹنگ بھی روک دی گئی۔

دیگر ریاستوں اور شہروں میں سنیما اور شاپنگ مال بند کیے جانے کے بعد ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت اور کورونا وائرس سے اب تک سب سے زیادہ متاثرہ بھارتی شہر میں بھی سنیما ہالز اور شاپنگ مالز کو بند کرنا شروع کردیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت بھر میں 31 مارچ تک سینما ہالز، شاپنگ مالز و تفریحی مقامات کو بند رکھا جائے گا جب کہ اسی عرصے کے دوران ڈراموں اور فلموں کی شوٹنگ بھی بند رہے گی اور جن ڈراموں اور فلموں کی شوٹنگ جاری ہے، انہیں 3 میں اسے بند کرنے کی ہدایات کردی گئی ہیں۔

آئی پی ایل کا بھی نیا شیڈول جاری کیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
آئی پی ایل کا بھی نیا شیڈول جاری کیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسی حوالے امریکا کی شوبز ویب سائٹ ‘ڈیڈ لائن’ نے بتایا کہ بھارت کی فلم اور ٹی وی کی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے پیش نظر عارضی طور پر فلموں اور ڈراموں کی شوٹنگ روک دی گئی ہے جب کہ ملک بھر میں سینما ہالز کو بھی بند کردیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد پروڈکشن ہاؤس کی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ انہوں نے کورونا وائرس کے پیش نظر شوٹنگ کو روک دیا ہے اور جن ڈراموں اور فلموں کی شوٹنگ کے لیے ٹیم دوسرے ممالک یا شہروں میں موجود ہیں انہیں بھی 3 دن کے اندر شوٹنگ بند کرکے گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات کردی گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جہاں فلموں اور ڈراموں کی پروڈکشن روک دی گئی وہیں سنیما ہالز کی بندش کی وجہ سے بڑی فلموں کی نمائش کو بھی روک دیا گیا جب کہ بولی وڈ شخصیات مداحوں کو کورونا وائرس کے پیش نظر گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

تاج محل سمیت دیگر تاریخی مقامات بھی بند

کسی بھی بیماری کی وجہ سے تاج محل کو پہلی بار بند کیا گیا ہے—فائل فوٹو: فیس بک
کسی بھی بیماری کی وجہ سے تاج محل کو پہلی بار بند کیا گیا ہے—فائل فوٹو: فیس بک

کورونا وائرس کے پیش نظر جہاں سینما ہالز اور شاپنگ مالز کو بند کردیا گیا ہے، وہیں دنیا بھر میں سیاحت کے لیے مشہور تاج محل کو بھی عارضی طور پر بند کردیا گیا۔

دی اکانامکس ٹائمز کے مطابق انتظامیہ نے کورونا وائرس کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے تاج محل اور دہلی میں واقع تاریخی لال قعلے کو بھی عارضی طور پر بند کردیا۔

رپورٹ کے مطابق ثقافت کے وفاقی وزیر نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر تاج محل اور لال قلعہ سمیت تمام عوامی و تفریحی مقامات کو رواں ماہ 31 مارچ تک بند کردیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت بھر میں تقریبا 3700 تاریخی تفریحی مقامات ہیں جنہیں عارضی طور پر بند کردیا گیا اور ان مقامات میں میوزیم بھی شامل ہیں۔

کورونا وائرس کے پیش نظر بھارت کی ریاستی و مقامی حکومتوں نے تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کردیا ہے۔

تاریخ میں یہ تیسری بار ہے کہ تاریخی تاج محل کو بند کیا گیا ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اسے کسی بیماری کے پھیلنے کے خوف سے بند کیا گیا ہے۔

اس سے قبل تاج محل کو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1971 میں لگنے والی جنگ اور بعد ازاں 1978 میں بھارت میں آنے والے سیلاب کے دوران بند کردیا گیا تھا۔

تاج محل سمیت دیگر تاریخی و تفریحی مقامات کو ایسے وقت میں بند کیا گیا ہے جب کہ بھارت میں کورونا وائرس میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بھارت میں گزشتہ تین دن میں کورونا وائرس کے کیسز زیادہ تیزی سے سامنے آئے اور 17 مارچ کی صبح تک وہاں کیسز کی مجموعی تعداد 200 تک جا پہنچی۔

بھارت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے کیس ریاست مہاراشٹر میں ہیں جہاں مریضوں کی تعداد 40 تک ہے جن میں سے 3 غیر ملکی شہری ہیں۔

مجموعی طور پر اس وقت تک بھارت کی 15 ریاستوں اور وفاقی علاقوں میں کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ 17 مارچ کی صبح تک کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر تین تک جا پہنچی تھی۔

بھارت میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 30 جنوری 2020 میں ریاست کیرالہ میں رپورٹ ہوا تھا۔

جنوبی ایشیائی خطے میں کورونا وائرس کے حوالے سے بھارت پہلے نمبر پر ہے جب کہ پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔

بھارت کی طرح پاکستان میں بھی رواں ہفتے کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور محض 2 دن میں 150 نئے کیسز سامنے آ چکے ہیں تاہم پاکستان میں تاحال کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

17 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 82 ہزار 407 تک جا پہنچی تھی جن میں سے 7 ہزار 157 افراد ہلاک ہوچکے تھے۔

دنیا بھر میں تصدیق شدہ کورونا وائرس کے مذکورہ مریضوں میں سے لگ بھگ 80 ہزار مریض صحت یاب ہوچکے تھے۔