- الإعلانات -

شاعر، افسانہ نگار پروفیسر عرش صدیقی کوہم سے بچھڑے 23برس بیت گئے

نامورماہر تعلیم ،افسانہ نگار، نقاد اور ”اسے کہنا دسمبرآگیاہے ”جیسی شہرہ آفاق نظم کے خالق پروفیسر عرش صدیقی کی 23ویں برسی 8 اپریل کو منائی جارہی ہے۔ عرش صدیقی کا اصل نام ارشاد الرحمن تھا۔ وہ 21 جنوری 1927ء کو گرداس پور بھارت میں پیدا ہوئے ۔میٹرک تک گورنمنٹ ہائی سکول گڑگائوں سے تعلیم حاصل کی۔ ایف اے گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے جبکہ قیام پاکستان کے بعدلاہور سے بی اے کے بعد ریلوے میں ٹکٹ چیکر بھرتی ہوگئے۔ 1955ء میں ایم اے انگریزی کے بعد لیکچررکے طورپر تدریس کاآغازکیا۔ایمرسن کالج ملتان میں طویل عرصہ خدمات کے بعد زکریایونیورسٹی میں شعبہ انگریزی کے سربراہ کے طورپرمنسلک ہوئے ۔بعدازاں رجسٹرارکے عہدے پرفائزرہے ۔عرش صدیقی نے ملتان میں رائٹرزگلڈکی سیکرٹری کی حیثیت سے فعال کرداراداکیا۔بعدازاںانہوںنے اردواکادمی کی بنیادرکھی ۔ان کے شاگردوں میں ڈاکٹرانواراحمد،محسن نقوی اوراصغرندیم سید جیسی نامورشخصیات شامل ہیں۔ان کے افسانوں کے مجموعے ”باہرکفن سے پائوں ”کوآدم جی ایوارڈسے نوازاگیا۔مختلف موضوعات پران کی دس سے زیادہ کتب شائع ہوئیں ۔8اپریل 1997ء کو وہ کینسرکے باعث انتقال کرگئے