- الإعلانات -

پنجاب بار سے ینگ وکلاء کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے

گجرات (ڈسٹرکٹ رپورٹر) پنجاب بار سے ینگ وکلاء کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے

ینگ وکلاء کو فوری طور پہ پنجاب بار کی ممبر شپ دی جائے تاکہ وہ اپنا با عزت روزگار کمانا شروع کردیں ۔ کرونا وائرس کی وجہ سے لاء گیٹ میں تاخیر کا
نقصان ان وکلاء کو اٹھانا پڑے گا جو ابھی تک پنجاب بار کی ممبر شپ حاصل نہیں کر سکے ۔ اگر ان کو لائسنس نہیں ملے گا تو وہ اپنا روزگار کیسے حاصل کریں گے حالانکہ انہوں نے اپنی نصف سال کی پریکٹس مکمل کر لی ہے جبکہ کرونا وائرس کی وجہ سے لاء گیٹ مزید 5 سے 6 ماہ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے حالانکہ لاء گیٹ کا امتحان۔ ایچ ای سی کے وعدے کے مطابق مارچ کے آغاز میں ہونا تھا ۔ اسی پریشانی کے پیش نظر کچھ ینگ وکلاء نے تو باقاعدہ دوسری نوکری شروع کر دی ہے تاکہ کم سے کم دو وقت کی روٹی کے پیسے تو حاصل کر سکیں لیکن افسوس کے پنجاب بار کونسل کو اس بات کا ذرا برابر بھی احساس نہیں ہو رہا ۔ ینگ وکلاء کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب بار کونسل نے ینگ وکلاء کے ساتھ اسی طرح ظلم و ستم کرنے ہیں تو پھر اس بار کو ختم کر دیا جائے تاکہ پھر ینگ وکلاء کسی بھی مسئلہ میں ان سے امید نہ رکھیں ۔ ینگ وکلاء کا کہنا ہے کہ ہم جائیں تو جائیں کہاں کوئی ہائی کمان نہیں جو بات کو سنے اور اس کے حل کی طرف آئے یہاں تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے ۔ہمیں کیا معلوم تھا کہ وکالت کا یہ پیشہ ان کے لیے آغاز میں ہی وبال جان بن جائے گا ۔ ینگ وکلاء نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ خدا کے لیے ینگ وکلاء کے لیے فوری اقدامات کریں اور ان کے حقوق انہیں دیے جائیں کیونکہ ینگ وکلاء اپنی اپنی بارز سے مکمل طور پہ مایوس ہو کر غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں