- الإعلانات -

کرونا اور قیدی۔۔۔۔۔جناب چیف جسٹس کا رہنما فیصلہ

حلقہ احباب
ایس کے نیازی
کرونا اور قیدی۔۔۔۔۔جناب چیف جسٹس کا رہنما فیصلہ
کرونا کے ساتھ کچھ اور چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں جو دور رس اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے بارے میں جو بھی فیصلہ ہو گا وہ ایک نظیر کے طور پر زندہ رہے گا۔ چنانچہ جب عزت مآب جناب چیف جسٹس آف پاکستان نے سندھ میں قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کو منسوخ قرار دیا تو یہ ایک ایسا ہی فیصلہ تھا ۔ اس فیصلے نے اضطرار کی دہلیز پر اصول کو قربان ہونے سے بچا لیا ہے۔ معزز عدالت نے دو اصول طے کر دیے ایک یہ کہ قیدی اس طرح رہا نہیں ہو سکتے اور دوسرا یہ کہ ہائی کورٹ کے پاس سوموٹو نہیں۔ یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک دوررس اور خوش آئند فیصلہ ہے۔یہ انتظامی طور پر بھی ایک اعلی فیصلہ ہے کیونکہ کراچی میں جرائم کی شرح ان قیدیوں کی رہائی کے ساتھ ہی بڑھ گئی تھی اور قانونی طور پر بھی ایک اہم فیصلہ ہے کہ ایک بنیادی اصول پوری قوت سے طے کر کے لاگو کر دیا گیا ہے۔
اس وقت پوری دنیا کو کورونا جکڑ کر رکھا ہوا ہے ، پاکستان میں بھی یہ وبا قابو سے باہر ہوتی نظر آرہی ہے ، آئے دن اس سے متاثرین اور اموات میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے ، اب جب کہ پنجاب میں تمام صوبوں سے سے زیادہ سنگین صورت حال ہے یہاں پر کرونا کے سب سے زیادہ متاثرہ مریض ہیں ، حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات بھی ناقابل تسلی بخش ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ صرف دکھاوے کے سطحی اقدامات میڈیا پروجیکشن کیلئے کیے جا رہے ہیں تو غلط نہ ہو گا ، یہ بات چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے بھی قیدیوں کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہی ، عزت مآب جناب چیف جسٹس صاحب کے ریمارکس تھے کہ حکومت صرف اجلاسوں میں مصروف ہے کام کوئی نہیں ہو رہا ہے یہ کیسی ہیلتھ ایمرجنسی ہے جس میں تمام ہسپتال اور او پی ڈیز بند پڑے ہیں، کرونا کے مریضوں کا اگر علاج ہو رہاہے تو دیگر مریض کدھر جائیں ، وزراء اعلیٰ گھروں سے آرڈر دے رہے ہیں، وفاق تو کچھ کر ہی نہیں رہا سب کو پیسوں کی پڑی ہے ، حکومت تو لوگوں کو پیسے لینے کا عادی بنا رہی ہے ، مشیر صحت ظفر مرزا کی کیا قابلیت ہے ؟، ہر ہسپتال اور کلینک لازمی کھلا رہنا چاہیے ، یہ واقعی حقیقت ہے کہ حکومت کو کرونا وائرس کو جس طرح سنجیدہ لینا چاہیے تھا اس طرح نہیں لیا گیا،۔
محترم چیف جسٹس صاحب کو اس حوالے سے خراج تحسین پیش کر تے ہیں کہ وہ حکومت کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلا رہے ہیں، وہ ایک انسان دوست شخصیت کے حامل ہیں، اور اسی وجہ سے موجودہ حالات میں جو لوگوں کا درد ہے اس کی وہ عکاسی کر رہے ہیں، یہ کتنا بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ عوام کرونا کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں سے بھی بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رہی ہے مگر کوئی پرسان حال نہیں ہے ،کرونا کے علاوہ جو اور مریض ہیں اور در بدر کے دھکے کھا رہے ہیں، چیف جسٹس صاحب نے یہ بھی ریمارکس کے دوران کہا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو چیک اپ کرانا تھا تو ایک بڑا ہسپتال کھول کر چیک اپ کیا گیا،چیف جسٹس صاحب انتہائی فہم و فراست کی حامل شخصیت ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب حکومت کو معلوم تھا چین جوکہ ہمارا دوست بھی ہے اور پڑوس بھی ہے وہاں پر ووہان سے یہ وبا چلی اور دیکھتے دیکھتے چین کو اس نے لپیٹ میںلے لیا ، ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے ، مگر اس کے پاس وسائل تھے تو اس پر قابو پالیا ، یہ بیماری وہاں سے نکلی تو اب اس وقت دنیا بھر میں پھیل چکی ہے مگر ہم نے اس دوران کیا کیا، سکھ چین کی بانسری بجاتے رہے ، پہلے سے ہی حفاطتی اقدامات کرنے چاہیے تھے ، قرنطینہ،ہسپتال اور دیگر طبی سہولیات کے حوالے سے ہمیں ہر طرح تیار رہنا چاہیے تھا، لیکن حالت یہ ہے کہ ملک میں ڈاکٹر حفاظتی سامان فراہم نہ کرنے کی وجہ سے احتجاج کررہے ہیں ان پر لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے ان کو گرفتار کیا جا رہا ہے کیا ایسے میں ایسا کرنا چاہیے ، حکومت کا فرض ہے کہ وہ کم از کم ڈاکٹروں کو تو حفاظتی ماسک ، خصوصی لباس ، دستانے اور دیگر ضروی اشیاء فراہم کرے لیکن ایسا کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آرہا ہے
اسی وجہ سے چیف جسٹس صاحب جو کہ انتہائی دور اندیش اور بالغ نظر شخصیت ہیں، نے کہا کہ حکومت صرف میٹنگ میٹنگ ہی کر رہی ہے ، زمین پر کوئی کام نظر نہیں آرہا ، ساتھ ہی ہم یہ بھی بتاتے چلے کہ سپریم کورٹ میں خود حکومت نے رپورٹ جمع کراتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ 25اپریل تک کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 50ہزار تک ہو سکتی ہے جبکہ دوسری جانب حالت یہ ہے کہ ملک میں اتنی تعداد میں وینٹی لیٹر نہیں ہیں کہ مریضوں کی فی الفور طبی سہولت فراہم کی جائے ، اس وبا کے ساتھ ساتھ دیگر امراض سے متاثرین کو بھی علاج معالجے کی ترجیحی بنیادوں پر ضرورت ہے ، لیکن جب تمام ہسپتال اور او پی ڈیز بند ہونگے تو پھر کون چیک اپ کرے گا ، چیک اپ کرنے والوں پر بھی لاٹھی چارج کیا جا ئے اور وہ لوگ جو مسیحا ہیں ان کو زدو کوب کیا جائے تو پھر علاج ندارد ہی رہے گا ، پھر کرونا وائر س کے ٹیسٹ کے انتظامات بھی نہ ہونے کے برابر اور بہت مہنگے ہیں، اس حوالے سے بھی حکومت نے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ، نہ معلوم وقت کا انتظار کرتے رہے ، اب حالات قابو سے باہر ہوتے نظر آرہے ہیں، اس وقت عوام کے سامنے کرونا سے متاثرین کی تعداد رکھی جا رہی ہے وہ تعداد اصل تعداد سے کئی گنا کم ہے جبکہ اصل حقیقت اس کے برعکس ہے ، صرف اجلاس کرنے اور میڈیا پر رپورٹ دینے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے جب تک عوام کو سہولیات نہ پہنچائی جائیں ، جناب چیف جسٹس صاحب نے ریمارکس دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وزارت صحت نے تو سپریم کورٹ کا کلینک بھی بند کرنے کا حکم جا ری کیا تھا ، حکومت ڈلیور نہیں کر رہی ٹی وی پر بیٹھ کر ہاتھ دھونے اور گھر رہنے کی باتیں کی جار ہی ہیں ،جیلوں سے انڈر ٹرائل قیدیوں کی رہائی کے کیس میں چیف جسٹس صاحب نے یہ بھی کہا کہ جیلوں سے زیادہ گھر خطرناک ہو گئے ہیں،کوئی بندہ کام نہیں کر رہا ہے سب فنڈز کی بات کررہے ہیں، پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ پارلینٹ جانے سے کیوں ڈرتے ہیں، چیف جسٹس نے معاون خصوصی برائے صحت کی قابلیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کی ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا قابلیت ہے ؟،انہوں نے کہا کہ امریکہ جیسا ملک بھی ہلا ہوا ہے ہم کرونا اسپیشلسٹ نہیں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ شہریوں کے آئینی دفاع ہو رہا ہے کہ نہیں ،ہم جناب چیف جسٹس کی اس بات سے قطعی طور پر 100%متفق ہیں کہ بنیادی اور آئینی حقوق ہر شہری کا حق ہے لیکن بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ حقوق خال خال ہی نظر آتے ہیں،دیگر ممالک میں کرونا وائرس سے متاثرہ شہریوں اور دیگر افراد کو سہولیات فراہم کی جار ہی ہیں لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ روزانہ خبر یہ چلتی ہیں کہ آج ورلڈ بینک نے اتنے پیسے دے دیئے، آئی ایم ایف سے یہ مدد آئی گی ، ملک کے قرضے معاف کر دیئے جائیں ، یہ باتیں درست ہیں ہمیں اس پر اعتراض نہیں یہ بھی ضروری چیزیں ہیں لیکن اس وقت عوام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، حکومت ٹامک ٹویاں مارنے کے بجائے صحیح سمت میں کام کرے ، کرونا کے ساتھ اس وقت جو دیگر سیاسی بحران آٹا چینی کی صورت میں سامنے آرہا ہے اس کا بھی سد باب لازمی ہے لیکن غریب عوام کی زندگیاں سب سے اعلیٰ ہونی چاہئیں ، وبا کے ٹیسٹ کے ملک بھر میں مفت ہوں ، اس حوالے سے کٹس اور لبارٹریوں کی وافر مقدار میں موجودگی بھی انتہائی ضروری ہے ، چونکہ ہم اتنے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اس وجہ سے اس وبا سے نقصانا ت کا زیادہ احتمال ہیں اب جبکہ ملک کی سب سے اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ جناب چیف جسٹس صاحب لگا تا ر حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرا رہے ہیں تو پھر تمام کام چھوڑ کر حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ایشو کو سنجیدگی سے لے ۔