- الإعلانات -

اسلام آباد: لاک ڈاؤن کے دوران انسان گھروں تک محدود، جانور بے فکر گھومنے لگے

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مارچ کے وسط سے پاکستان میں نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے دوران جہاں ملک میں ماحولیاتی بہتری دیکھی گئی، وہیں ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران انسانوں کے گھروں تک محدود رہنے کے دوران جانوروں کو باہر گھومتے دیکھا گیا۔

پاکستان کے متعدد علاقوں اور شہروں میں لاک ڈاؤن کے باعث انسانوں کے گھروں تک محدود رہنے کے دوران اگرچہ جانورون کو سڑکوں پر دیکھا گیا مگر سب سے زیادہ جانور پارکس میں دیکھے گئے اور ایسے پارکس میں دارالحکومت اسلام آباد کا مارگلہ ہلز پارک بھی شامل ہے۔

مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں اگرچہ پہلے بھی جانوروں کی نقل و حرکت کو دیکھا گیا مگر وہاں جانورون کی نقل و حرکت میں لاک ڈاؤن کے بعد اضافہ ہوا اور کئی سال بعد پہلی بار چیتے، گیدڑ اور سور کی خاص نسلوں سمیت تیندوے اور دیگر طرح کے جانور اور پرندوں کو دیکھا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے جیسے ہی مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں انسانوں کے جانے پر بندش لگ گئی، ویسے ہی وہاں موجود جانور آزادی سے باہر گھومنے کے لیے نکل آئے۔

رپورٹ کے مطابق مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں محکمہ جنگلی حیات اسلام آباد اور پارک انتظامیہ کی جانب سے نصب کیے کئے کیمروں میں جانوروں کی نقل و حرکت کو دیکھا جا سکتا ہے۔

پارک میں جگہ جگہ نصب کیے گئے کیمروں میں گیدڑ، چیتے، تیندوے، سور اور سانپ سمیت دیگر جانوروں اور پرندوں کی نقل و حرکت کو دیکھا جا سکتا ہے۔

مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں جانوروں کی چہل قدمی، نقل و حرکت اور انسانوں سے بے خوف ہوکر گھومنے پھرنے کی تصاویر اور ویڈیوز ابتدائی طور پر گزشتہ ماہ اپریل میں اس وقت وائرل ہوئی تھیں جب پارک انتظامیہ نے وہاں نصب کیمروں کی تصاویر اور ویڈیوز کو شیئر کیا تھا۔

پارک میں ڈیوٹی کرنے والے عملداروں نے جانوروں کے باہر آنے کو خوش آئندہ قرار دیا ہے—فوٹو: اے ایف پی
جانوروں اور ماحولیات کے ماہرین نے طویل عرصے بعد مارگلہ ہلز پارک میں جانوروں کی نقل و حرکت کو نہ صرف ماحول بلکہ پارک کے لیے بھی اچھا قرار دیا ہے اور کہا کہ لاک ڈاؤن سے ثابت ہوا کہ اگر پارک میں انسانوں کا رش کم ہو تو جانوروں کو بھی آزادی سے گھومنے کا موقع مل سکتا ہے۔

اسی حوالے سے مارگلہ ہلز پارک کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اے ڈی) نے اے ایف پی کو بتایا کہ لاک ڈاؤن کے باعث لوگوں کے یہاں نہ آنے سے پارک کے عملے کی ڈیوٹی میں کچھ کمی ہوئی ہے اور وہ اب مکمل طریقے سے جانوروں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ملک میں لاک ڈاؤن کے باعث دکانوں میں بند پرندے و جانور ہلاک
ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے قبل پارک کا زیادہ تر عملہ جانوروں کے بجائے انسانوں کا خیال رکھنے میں مصروف ہوتا تھا مگر لاک ڈاؤن نے عملے اور یہاں کے جانوروں کو اچھا موقع فراہم کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں 38 اقسام کے بڑے جانور (ممالیہ) پائے جاتے ہیں جب کہ پارک میں رینگنے والے جانوروں کی 34 اور پرندوں کی 350 قسمیں پائی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں رینگنے والے 34 اقسام کے جانوروں میں 27 اقسام سانپ اور اژدھے کے ہیں اور ان میں سے کچھ نایاب نسلیں بھی ہیں۔

مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دینے والے رینجرز اہلکار عمران خان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن ہونے کے باعث لوگوں کے یہاں نہ آنے سے جانوروں کے لیے آسانی ہوئی ہے اور وہ خوشی سے کھل کر پارک میں گھوم رہے ہیں۔

انہوں نے جانوروں کے بے فکر ہوکر گھومنے کو مارگلہ ہلز پارک کے لیے خوش آئندہ قرار دیا۔

جانوروں کا آزاد ہوکر باہر آنا جنگل کے لیے اچھا ہے، پارک عہدیدار—فوٹو: اے ایف پی