- الإعلانات -

اٹھارویں ترمیم

جب اٹھارویں ترمیم پاس ہوئی اس وقت سے ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کی کچھ شقیں نقصان دہ ہیں۔ میں دیکھ رہا تھا آنے والے دنوں میں کیا ہوناہے اور پاکستان کن مسائل کی دلدل میں اتر سکتا ہے۔ اسی لیے میں نے بنیادی حقوق کے تحت ایک صحافی اور ایک عام شہری ہونے کے ناطے سے نہ صرف اس کے عیوب پر بات کی بلکہ سپریم کورٹ بھی گیاجس کے نتیجے میں فل کورٹ بینچ بنا اور میں اس کے سامنے پٹیشن نمبر 21/2010کے تحت ان پرسن پیش ہو کر دلائل دیتا رہا ،آج وہی مسائل ہمیں حصار میں لے چکے ہیں جن کا ڈر تھا اور جو اس ترمیم کے منطقی نتیجے کے طور پر دیوار پر لکھی تحریر کی طرح نظر آ رہے تھے۔
جب یہ ترمیم پاس کی گئی تو اس کے عیوب و محاسن پر درست اندازے سے تجزیہ ہی نہیں کیا گیا۔ نواز شریف کے لیے ایک ہی بات سب سے اہم اور کافی تھی کہ ان کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے میں جو رکاوٹ تھی وہ ا س ترمیم نے دور کر دی۔بظاہر خوبصورت نظر آنے والی باتیں ڈال کر اپنے اپنے مفاد کی تکمیل کے لیے ترمیم تو کر دی گئی لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ یہ کس حد تک قابل عمل ہے اور اس سے کیا نقصانات ہوں گے۔
صوبوں کو طاقتور کرنا اچھی بات ہے لیکن وفاق کو سی ڈی اے بنا کر وزیر اعظم کو چیئر مین سی ڈی اے یا میئر اسلام آباد بنا دینا پاکستانی فیڈریشن کے لیے ایک اچھی بات نہیں تھی۔ چند چیزیں مسائل پیدا کر رہی ہیں اور مسائل بڑے خوفناک ہیں۔ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
1۔ فیڈریشن صوبوں اور وفاق کے اشتراک عمل کا نام ہے۔ اٹھارویں ترمیم نے ” کنکرنٹ لسٹ” کو ختم کر کے اس اشتراک کا بنیادی فارمولا ہی تباہ کر دیا۔ چنانچہ اب اس بات پر بھی صوبے باہم لڑ رہے ہوتے ہیں کہ آئی جی لگانے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ وفاق کے پاس یا صوبوں کے پاس۔
2۔ کہا جاتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کر دیا گیا ۔یہ بات بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کیونکہ 1973 کے مسودے میں ” کنکرنٹ لسٹ” موجود تھی۔اس کو یکسر ختم کر کے آئین کو اصل شکل میں بحال نہیں کیا گیا بلکہ اس کے بنیادی ڈھانچے کو خراب کر دیا گیا اور فیڈریشن کی اکائیوں میں موجود توازن ختم کر دیا گیا ہے۔
3۔تعلیم ملکی وحدت کی بنیاد فراہم کرتی ہے اور معاشرے کی فکری ساخت کا تعین کرتی ہے۔ تعلیم کا شعبہ صوبوں کو دے کر گویا اس وحدت کو پارہ پارہ کر دیا گیا۔
4۔صحت بھی اب ایک صوبائی معاملہ ہے۔ اب دیکھ لیجیے سندھ میں صحت کے میدان میں کیا صورت حال ہے۔ کیا وجہ ہے کہ وسائل لینے کے باوجود صحت کا شعبہ اس حال میں ہے؟
5۔اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ براہ راست غیر ملکی قرضے لے سکیں۔ یہ چیز بھی وفاق کی اکائی کے لیے اور معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔
6۔وسائل میں وفاق کا شیئر اب 42 اعشاریہ 5 فیصد رہ گیا ہے۔صوبوں کا شیئر 47 اعشاریہ 5 فیصد ہے۔ کیا ملک اس طرح چل سکتا ہے۔
7۔ وسائل میں سے تو صوبے زیادہ حصے لے گئے لیکن بیرونی قرض کا سارا بوجھ وفاق پر ہے اور صوبے اس میں کچھ بھی بوجھ نہیں اٹھا رہے۔ اعشاریہ 5 فیصد شیئر کے ساتھ وفاق یہ قرض کیسے اتارے گا۔اور اسے مزید قرض دے گا کون؟
8۔جی ایس ٹی اب صوبے لیں گے تو نیا بحران پیدا ہو گا۔ سندھ کو تو کافی کچھ مل جائے گا لیکن بلوچستان کو جی ایس ٹی میں کیا ملے گا۔ وفاق جی ایس ٹی لیتا تھا تو سب صوبوں کو کچھ حصہ مل جاتا تھا۔ اب بلوچستان کو کیا ملے گا؟
9۔ان معاشی حالات کے ساتھ ساتھ آئین کا آرٹیکل 160 جو اٹھارویں ترمیم نے دیا وہ یہ کہہ رہا ہے کہ کسی این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا شیئر پچھلے سال کے شیئر سے کم نہیں ہو گا۔ وفاق یہ سب کہاں سے دے گا۔ اور دے گا تو خود کیا کرے گا؟ دفاعی بجٹ تو وفاق نے دینا ہے، کہاں سے دے گا۔ قرض واپسی وفاق نے کرنی ہے آئی ایم ایف کو قرض واپس کیسے کرے گا؟
اس طرح کے بہت سے سوالات ہیںاور ملک چلانا ہے تو ایک ہی حل ہے۔ حل یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں مزید ترامیم کی جائیں۔اٹھارویں ترمیم میں کچھ شقوں کو تبدیل نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں پاکستان کو مزید مشکلات کا سامنا کر نا پڑسکتا ہے ، پارٹی کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے متعلق قانون سازی سمیت بہت ساری چیزیں ہیں جن کے حوالے سے میں پٹیشن دائر کر چکا ہوں ، اب سوچ رہا ہوں کہ فیصلے کے ریویو میں جائوں تاکہ مزید جو سقم رہ گئے ہیں ان کی نشاندہی کر سکوں ۔