- الإعلانات -

نیپا ل تاکشمیر،بھارتی شر انگیزی جاری

دہلی کی ریاستی دہشت گردی پہلے سے بھی بھیانک شکل اختیار کر تی جارہی ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کشمیری حریت رہنما اشرف صحراحی کے دو جواں سال بیٹے شہید کر دئیے گئے ،یاد رہے کہ ریاض نائیکو سمیت کشمیر کے کئی فرزندوں نے بھی اپنی جان راہ حق میں نچھا ور کر دی ۔ برہان وانی ،افضل گرو اور مقبول بٹ اسی صف میں شامل ہےں ۔ دوسری جانب سبھی جانتے ہےں کہ دہلی کے حکمران ٹولے نے پاکستان سمیت اپنے سبھی پڑوسی ملکوں کےخلاف سازشوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری رکھا ہے ۔ بھارت اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے خلاف ہمیشہ سے سازشیں کرتا رہا ہے اور اسی وجہ سے یہ خطہ پائیدار امن کی جانب نہےں بڑھ سکا اور ’’سارک تنظیم ‘‘تاحال نتیجہ خیز نہےں ہو سکی کیوں بدقسمتی سے بھارت کی سرحدیں تمام سارک ملکوں سے متصل ہےں ۔

ایک طرف دہلی سرکار کی تازہ ترین منفی روش کا شکار نیپال بنا ہوا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ جموں کشمیر ۔ بھارت نے اپنے نئے جاری کردہ نقشوں میں نیپال کے کئی علاقوں کو بھارت کا حصہ دکھایا ہے جس پر نیپال کے وزیر اعظم ’’کے پی شرما اولی‘‘ نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کا یہ طرز عمل نیپال کے عوام اور حکومت کے لئے قابل قبول نہےں ہے ۔ یاد رہے کہ دو ہفتے قبل بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے نیپال کے اندر ایک نئی سڑک کا افتتاح کیا اور نیپال کے کئی علاقوں مثلا کالا پانی،جھیل مان سروراور لیپو لیک کو بھارت کا حصہ بتایا ۔ چین اور نیپال نے اس بھارتی اشتعال انگیزی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے اس موقف کو یکسر رد کر دیا اور کہا کہ دہلی سرکار کو اس کے نتاءج بھگتنا ہوں گے ۔ نیپالی وزیر اعظم نے 19مئی 2020کو یہ بھی کہا کہ کرونا وباء کے پھیلاو کے حوالے سے دہلی سرکار ذمہ دار ہے ۔

نیپال کی سول سوساءٹی اور عام لوگوں نے بھی بھارتی اشتعال انگیزی پر سخت ردعمل دیا ۔ بالی ووڈ اور نیپال نژاد فنکارہ مانیشا کورالا نے بھارتی نقشوں میں نیپال کے بہت سے حصوں کو بھارت کا حصہ ظاہر کرنے پر شدید غم و غصہ کا ظہار کیا اور کہا کہ نیپال کبھی بھی نہ تو بھارت کا حصہ تھا اور نہ ہے ۔

یہ امر غالباً کسی تعارف کا محتاج نہےں کہ ہندوستان اور امریکہ نے عرصہ دراز سے اپنے طور پر یہ وطیرہ اپنا رکھا ہے کہ کسی بھی طرح پاک چین دوستی کو حرف تنقید بنایا جائے ،ان دونوں (یعنی امریکہ اور بھارت) کو نہ تو کسی اخلاقی ضابطے کی پرواہ ہے اور نہ ہی مروجہ سفارتی روایات کا احترام ۔ تبھی تو بھارتی اور امریکی میڈیا نے چین کےخلاف جھوٹی اور بے نبیادخبروں پر مشتمل طوفان بدتمیزی بر پا کیا ہوا ہے اور ’’کار خیر‘‘ میں دہلی سرکار کوخطے کے بعض دیگر ممالک کی معاونت بھی حاصل ہے ۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اپنے عناد کو بنیاد بنا کر کرونا وائرس جیسی خطرناک وبا کی آڑ میں کسی قسم کی اشتعال انگیزی کسی طور قابل رشک قرار نہیں دی جا سکتی ۔ دوسری جانب بھارتی اور امریکی حکمران یوں تو ایک دوسرے کی دوستی کا دم بھرتے نہیں تھکتے لیکن دونوں فریق ایک دوسرے کیخلاف بھی ریشہ دوانیوں سے باز نہیں آتے ۔ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات ان دنوں خاصی کشیدگی کا شکار ہیں اور بھارتی میڈیا نے ہندوستانی مسلمان، پاکستان اور چین کے ساتھ ساتھ اب امریکہ کو بھی اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 25 فروری کو ٹرمپ نے بھارت کا دورہ کیا تھا جسے مبینہ طور پر انتہائی کامیاب قرار دیا گیا تھا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اور امریکی صدر مزاج کے اعتبار سے خاصی مطابقت رکھتے ہےں اور اکثر اوقات بے سروپا باتیں کرنے کی خصوصی مہارت سے لیس ہےں ۔

اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ ایک طرف کورونا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر اس مرحلے پر بھی امریکہ نے اس خونی وبا کے خاتمے کے حوالے سے چین کے خلاف خاصی منفی روش اپنا رکھی ہے تو دوسری جانب بھارت اپنی ازلی جبلت کے تحت مسلم دشمنی کی دیرینہ روش پر رواں دواں ہے ۔ یوں بھی بھارتی میڈیا کی مسلم دشمنی اب کسی دلیل کی محتاج نہےں رہ گئی ہے ،الیکٹرانک میڈیا سے پرنٹ میڈیا تک کھل کر مسلم دشمنی کا ایجنڈا چلایا جارہا ہے ۔ کانگریسی حکومتوں میں قدرے جھجھک تھی لیکن گزشتہ دو پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کی لگاتار کامیابی کے بعد زیادہ تر بھارتی میڈیا ہاوسز اور اینکرز نے وہ تکلف بھی بالائے طاق رکھ دیا ، اب تو ڈنکے کی چوٹ پر بغیر دھوئیں کے آگ لگانے کا کھیل سرعام کھیلا جارہا ہے ۔

کورونا جیسی مہلک بیماری پر بھارتی میڈیا کو مودی سرکار کے اقدامات کی لاپرواہی پر اگرچہ سوال اٹھانے چاہیے تھے لیکن ہفتوں تک بھارتی میڈیا میں سناٹاچھایا ہوا تھا لیکن تبلیغی جماعت کا قصہ سامنے آتے ہی ان کے تن مردہ میں گویا جان پڑ گئی ۔ ایک ساتھ کئی بھارتی نیوز چینلوں نے تبلیغی جماعت کے نام پر مسلمانوں پرہلہ بول دیا ۔ اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی،اس کے بعد آر ایس ایس کے شرپسندوں کے آئی ٹی سیل نے اپنا کام شروع کر دیا ۔ سالوں پرانے ویڈیوز نکال کر انہےں مسلمانوں سے منسوب کرکے ہندواکثریت کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے کی پوری کوشش کی گئی کہ مسلمان سازش کے تحت کورونا وائرس پھیلانے میں لگے ہوئے ہےں ۔ اس شرا نگیزی کی وجہ سے بھارت کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملے شروع ہوگئے ہےں ۔

گزشتہ چند روز میں کچھ بھارتی حلقے اس سارے معاملے کو بھی ہندو مسلم منافرت کا نام دینے پر تلے ہوئے ہےں اور اس قسم کے دوسرے واقعات بھی روز بروز بڑھ رہے ہےں ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ دہلی کا حکمران ٹولہ اور امریکی سربراہ کم از کم کورونا کے معاملے اور ناتواں کشمیریوں کی حالت زار کو مدنظر رکھتے ہوئے مثبت رویہ اپنائیں گے تاکہ کورونا جیسی مہلک وبا کے خاتمے کیلئے اپنا انسانی فریضہ نبھا سکیں اور دنیا اس آسمانی آفت سے قدرے مناسب انداز سے نمٹ سکے ۔ علاوہ ازیں یہ امید بھی کی جانی چاہیے کہ حالیہ دنوں میں چین اور پاکستان کی بابت جو منفی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے اس کے پس پردہ محرکات کو سمجھتے ہوئے بین الاقوامی برداری مثبت طرز عمل اپنائے گی اور سی پیک اور چین کے خلاف جاری سازشوں کا سلسلہ بند کرانے کی جانب سنجیدہ توجہ دے گی ،یہ بات بھی ذہن نشین ر ہنی چاہیے کہ پاک چین تعلقات کسی وقتی مصلحت کا نتیجہ نہےں بلکہ ان کی اپنی تاریخ ہے ۔ یوں بھی جس موثر ڈھنگ سے چین نے کورونا پر قابو پایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔