- الإعلانات -

وزیراعظم کاتاریخی اقدام،چینی کمیشن رپورٹ سامنے آگئی

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی رپورٹ پبلک کردی گئی جس میں عنان اقتدار میں بیٹھے ہوئے با اثرافراد بھی شامل ہیں اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک اورواشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ چاہے کوئی جتنا ہی با اثرکیوں نہ ہو اگر جرم کیا ہے تو قطعی طورپرنہیں چھوڑاجائے گا ۔ اگر اسی طرح کے اقدامات سامنے آتے رہیں توپھرلامحالہ ہمارے ملک سے نہ صرف کرپشن ختم ہوگی بلکہ اگر کوئی ناجائزذراءع استعمال کرنے کاسوچے گابھی تو اسے معلوم ہوگا کہ آگے معافی کاخانہ بند ہے ۔ ماضی میں جو بھی کمیشن بنے ان کی آج تک رپورٹ عوام کے سامنے نہیں آئی یا تو وہ فائلوں کی نظرہوگئی یاپھر اپنوں کو بچانے اوراقرباء پروری کے تحت کہیں من وٹنوں فائلوں کی دھول میں دب گئی ۔ عوام آج تک انتظار ہی کرتی رہے کہ فلاں کمیشن میں کیا توفلاں کمیشن میں کیاہے لیکن اب وزیراعظم عمران خان کو یقینی طورپریہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ایک تاریخ رقم کردی ۔ عوام سے وعدہ کیاتھا کہ چینی کے حوالے سے کمیشن جوبھی رپورٹ مرتب کرے گا اس کو عوام کے سامنے رکھاجائے گا ۔ اگر کہاجائے مصداق اس کے کہ ’’ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودایاز،نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز‘‘اسی کو مساوات کہتے ہیں ۔ اب جہانگیرترین، پیپلزپارٹی نے رپورٹ کوبیک جنبش قلم مسترد کردیاہے جبکہ نون لیگ کاکہناہے کہ وہ پوری رپورٹ دیکھ کرپھراس پرلاءحہ عمل طے کرے گی ۔ واقفان حال تو یہ کہتے پائے گئے کہ جہانگیرترین وزیراعظم کے انتہائی قریب ہیں لہٰذا انہیں کچھ نہیں کہاجائے گا پھرپاکستان تحریک انصاف کی حکومت کومعرض وجود میں لانے کے حوالے سے بھی جہانگیرترین کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن اس رپورٹ کے آنے سے قبل ہی عمران خان اورجہانگیرترین کے درمیان دوریاں آگئی تھیں جس کاکہیں نہ کہیں بین السطور میں اظہارخیال بھی ہوتارہا لیکن کپتان کایہ خاصا ہے کہ وہ اگرکسی بات پرڈٹ جائے تو پھروہ کرگزرتاہے سویہاں پردوستیاں رشتے، ناطے، سیاسی مفاد پرستی ،سیاسی بلیک میلنگ ،تمام چیزوں کو عمران خان نے بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ اقدام اٹھایا ہے جس کو آنے والے وقت میں مورخ سنہرے حروفوں میں تحریر کرے گا ۔ اب بات رہ گئی کمیشن کے رپورٹ کی توظاہر ہے کہ جس جس نے بھی گاجریں کھائی ہیں اس کے پیٹ میں درد توہوگا وہ رپورٹ کومسترد بھی کرے گا الزام تراشیاں بھی کرے گا،دیگرپرکیچڑ بھی اچھالے گا محض اس نے اپنی تردامنی کوچھپاناہے لیکن یہاں پر ہم وزیراعظم پاکستان کواس عظیم فیصلے پرخراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ماضی میں کمیشنز کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں پروہ تاریخ رقم کی ہے جو آنے والے وقت میں مزیدایسے اقدامات کے لئے نقش راہ بنے گی ۔ ،چینی بحران سے متعلق انکوائری کمیشن رپورٹ میں حالیہ چینی کی قیمتیں بڑھنے کا ذمہ دار ریگولیٹرز کو قرار دے دیا گیا اور چینی بحران تحقیقاتی کمیشن نے کیسز نیب، ایف ;200;ئی اے اور اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش کردی ، رپورٹ میں بڑے حیران کن انکشافات ہیں ،تمام پہلوءوں کا احاطہ کیا گیا ، شوگر ملز کسانوں کو امدادی قیمت سے کم قیمت دیتے ہیں ، کس طرح کسانوں کو نقصان پہنچایا گیا، کسانوں کو گنے کے وزن میں 15 فیصد سے زیادہ کٹوتی کی جاتی ہے ، کچی پرچی اور کمیشن ایجنٹ کے ذریعے کم قیمت پر کسانوں سے گنا خریدا جاتا ہے، وزیراعظم ہمیشہ کہتے ہیں کہ کاروبار کرنے والا سیاست میں بھی کاروبار کرے گا، تاہم اب کی یہ بات سچ ہوگئی ہے ، کسان کو تسلسل کے ساتھ نقصان پہنچایا گیا، 2019 میں گنا 140 روپے سے بھی کم میں خریدا گیا، کسان سے کٹوتی کے نام پر زیادتی کی گئی، شوگر ملیں 15 سے 30 فیصد تک مقدار کم کرکے کسانوں کو نقصان پہنچاتی رہیں ، کابینہ نے دیگر ملز کا بھی فرانزک ;200;ڈٹ کرنے کی ہدایت دی، جبکہ کابینہ نے ریکوری کرکے پیسے عوام کو دینے کی سفارش کی ۔ کابینہ نے شہزاداکبر ذمہ داری سونپی ہے، عید کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر سفارشات تیار ہوں گی،ابھی کسی کا نام ای سی ایل پر نہیں ڈالا گیا،کوئی تحقیقاتی ادارہ کہے گا تو کابینہ نام ای سی ایل میں ڈالنے پر غور کرے گی ۔ بدھ کو وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز اور معاون خصوصی شہباز گِل کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رپورٹ جاری کی ۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مافیا کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے ۔ ان مافیاز کے خلاف لمبی جدوجہد کی ہے، اس سے کسی صورت موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ حکومت میں آکر پتا چلا کہ ملک مافیاز کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جس طرف دیکھو مافیا سرگرم ہیں ۔ کوئی چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے جرم کی معافی نہیں ملے گی ۔ ملک کو بری طریقے سے لوٹا گیا ہے، مگر اب قانون اپنا راستا اختیار کرے گا ۔ مجھے خوشی ہے کہ پوری کابینہ کرپشن کے خلاف جنگ میں میرے ساتھ ہے، میں وہی کام کر رہا ہوں جو عوام کیلئے بہتر ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت جب عنان اقتدار میں آئی تو عمران خان نے اس سے قبل اپنی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کے دوران ان کاسب سے اہم ترین منشورکانقطہ ہی کرپشن کاخاتمہ تھا اورآج وہ اس پرعملی طورپرعمل پیراہیں ۔ تھوڑاسا ہم یہاں حکومت سے یہ ضرورگزارش کریں گے کہ جیسا اس نے چینی بحران پرحتمی اقدامات اٹھائے ہیں اسی طرح ہونے والی دیگرکرپشن پربھی فیصلے صادرکرے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اس ملک اورقوم کے خزانے کولوٹنے کی جرات نہ کرسکے ۔

بھارتی سینئر سفارتکارکی پھر دفترخارجہ طلبی

دفتر خارجہ میں بھارتی سینئر سفارتکار کو طلب کرکے بھارتی قابض فوج کی جانب سے لائن ;200;ف کنٹرول کے چڑی کوٹ سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی اور اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری کے زخمی ہونے پر شدیداحتجاج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قابض بھارتی افواج کی جانب سے بے گناہ شہری ;200;بادی کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے، بھارت پر زوردیا گیا کہ بے حسی پر مبنی یہ اقدامات 2003کے جنگ بندی معاہدے، انسانی عظمت ووقار، بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین اور پیشہ وارنہ فوجی طرز عمل کے برعکس اور ان کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں ایل او سی پر کشیدگی بڑھانے کی مسلسل بھارتی کوششوں کا مظہر اور خطے کے امن وسلامتی کےلئے خطرہ ہیں ،ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر کشیدگی میں اضافہ کے ذریعے بھارت اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانہیں سکتا ۔ پاکستان نے بھارت پر زوردیا کہ 2003کے جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، تازہ ترین اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے ، ایل اوسی اور ورکنگ باونڈری پر امن قائم کرے ۔ واضح رہے کہ بھارت قابض افواج کی جانب سے بلا اشتعال اور بلا امتیاز فائرنگ کے نتیجے میں 45 سالہ محمد عارف ولد خادم حسین سکنہ گاءوں پوتھی شدید زخمی ہوگئے تھے ۔ پوری دنیا کورونا جیسی موذی وبا سے دوچار ہے اور بھارت آئے روزلائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کررہاہے ۔ 2003 کے سیز فائز معاہدے کے بعد کوئی دِن ایسا نہیں جاتا جب بھارت کی طرف سے اِس معاہدے کی دھجیاں نہ بکھیری جاتی ہوں ،رواں برس اب تک بھارت کی طرف سے 749 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی جس سے درجن سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی سو سے اوپر ہے اور شہری املاک کو پہنچنے والا نقصان اس کے علاوہ ہے، 2019ء میں بھارت نے لائن آف کنٹرول پر 3ہزار سے زائد مرتبہ لائن آف کنٹرول پر اپنی اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا جس سے 59 شہری شہید، 281 زخمی ہوئے جبکہ 105 گھر مکمل طور پر منہدم اور 622کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ۔ بھارت اِن اقدام سے 5 اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر میں جاری خوفناک انسانی المیے پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے لیکن بھارت سرکار کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کے عوام اور سیکورٹی ادارے امن کے خواہاں ضرور ہیں لیکن وہ وطنِ عزیز کی طرف دیکھنے والی ہر میلی آنکھ کا بھرپور جواب دینے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں ۔ اقوامِ عالم اور عالمی اداروں کو بھارت کے امن مخالف اقدام پر سختی سے ایکشن لینا چاہئے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے ۔