- الإعلانات -

چینی والدین کو 32 سال قبل اغوا ہونے والا بیٹا دوبارہ مل گیا

بیجنگ: چینی والدین کو 32 سال قبل اغوا ہونے والا ان کا بیٹا مل گیا اور اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔

ماؤ ین دو سال می عمر میں اس وقت اپنے والد سے بچھڑ گیا تھا جب نرسری اسکول سے واپسی پر اس کے والد پانی لینے کے رکے تھے۔ اس بچے کے اغوا ہونے کے بعد ماؤ کے والدین نے پورے چین میں اشتہارات لگوائے اور ایک لاکھ سے زائد پمفلٹ تقسیم کئے۔

23 فروری 1986 کو پیدا ہونے والا ماؤین شانکسی صوبے کے شہر زیان سے تعلق رکھتا تھا اور ایک روز اسکول سے واپسی پر اس نے والد سے پانی مانگا تو وہ اسے ایک ہوٹل کے دروازے پر روک کر اندر پانی لینے گئے اس دوران بچہ غائب ہوچکا تھا۔

بچے کی محبت سے بے قرار والد نے اپنی ملازمت چھوڑدی اور دس صوبوں اور شہروں میں ایک لاکھ سے زائد اشتہارات تقسیم کئے لیکن کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔ اس کے بعد والدین اپنے بچے کی تلاش کے لیے کئی ٹی وی شوز میں گئے اور دیگر اداروں سے کچھ بچے بھی ملے لیکن وہ ان کا بیٹا نہ تھا۔ 2007 میں انہوں ںے گمشدہ بچوں کے والدین کی تنظیم میں شمولیت کی۔ اس گروپ کا نام ’بے بی کم بیک ہوم‘ تھا۔ اس طرح کل 29 بچے اپنے والدین سے ملے لیکن اب تک ان کا بچہ نہیں مل سکا تھا۔

اس سال اپریل میں پولیس نے سچوان صوبے سے ایک 34 سالہ شخص کا سراغ لگایا جس کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے گئے کہ آیا وہ اپنے اصل والدین ماؤ زین جنگ اور لائی جنگ زائی کی اولاد ہے یا نہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ درست ثابت ہوا۔ اب اس بچے کا نام ماؤ ین سے گو ننگ ننگ تھا جو گھروں کی سجاوٹ کا کام کرتا ہے۔

پولیس کے مطابق اغوا کار نے بچے کو اس وقت 800 ڈالر میں بے اولاد جوڑے کو فروخت کیا تھا اور 10 مئی کو چینی یومِ والدہ پر یہ خوشخبری اس کے اصل والدین کو دی گئی تھی۔ لیکن پولیس نے گود لینے والے جوڑے کی معلومات نہیں دی ہیں حالانکہ چین میں بچوں کا اغوا اور اسمگلنگ بہت عام ہے۔ 2015 کے مطابق ہر سال وہاں 20 ہزار بچے اغوا ہوتے ہیں۔

پولیس نے اس عمل میں مصنوعی ذہانت سے بھی کام لیا اور بچے کی کئی تصاویر کو سافٹ ویئر کے ذریعے مختلف عمروں کے درمیان ممکنہ چہرے کے ساتھ دیکھا۔ حیرت انگیز طور پر 32 سال کی تصویر عین اسی شخص جیسی نکلی اور اس کے بعد ڈی این اے سے تصدیق کی گئی۔

جب والدہ اپنے بیٹے سے ملی تو وہ مامتا کے ہاتھوں روتی رہی اور اس نے اپنے بیٹے کو دیر تک سینے سے لگایا۔ اس موقع پر پولیس اور دیگر متعلقہ اراکین موجود تھے۔