- الإعلانات -

کشمیر میں مودی سرکار کے غیر قانونی اقدامات

اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا نیا ڈومیسائل کا قانون مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیا ڈومیسائل قانون اوآئی سی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے لہذا اقوام متحدہ اورعالمی برادری ڈومیسائل قانون واپس لینے کے لیے بھارت پر دباوَ ڈالے ۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمد یقینی بنوائے ۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کورونا سے لڑ رہی ہے اور بھارت غیرقانونی اقدامات کر رہا ہے ۔ بھارت کا یہ اقدام مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے ۔ کشمیری عوام نے اس غیرقانونی اقدام کی سختی سے مذمت کی ہے جب کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (;8578737978; ;8469828273847982736983;) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا ۔ بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں ۔

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے ۔ آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے ۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے ۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے ۔ مودی سرکارمسلم دشمنی کی پالیسی پرکاربند ہے ۔ مودی سرکار نے 3 لاکھ غیرمقامی افراد کومقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل جاری کردیے ہیں ۔ ڈومیسائل حاصل کرنے والوں میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں ہے ۔ آنےوالے دنوں میں مزید 14 لاکھ افراد ڈومیسائل کے حامل ہوسکتے ہیں ۔ مودی سرکار کے فیصلے پرمقبوضہ کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔ کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں تعینات 8 لاکھ بھارتی فوجیوں اور 6 لاکھ دیگر غیرمقامی افراد کو بھی شہریت دے سکتی ہے ۔

مودی سرکار کے فیصلے پر مقبوضہ کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔ حریت قیادت اور کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ فیصلے کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں تعینات آٹھ لاکھ بھارتی فوجیوں اور 6 لاکھ دیگر غیر مقامی افراد کو بھی کشمیری شہریت دی جاسکتی ہے تاکہ مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جاسکے ۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی پیشکش پر گھبرا کر مودی سرکار نے فوری طورپر بلا سوچے سمجھے یہ قدم اٹھایا کہ اس کے ذریعے وادی سے باہر کے ہندو انتہا پسندوں کو یہاں بسایا جائے گا ۔ اگر کبھی استصواب رائے کروانا بھی پڑ گیا تو بھارت کے حق میں ووٹ آئے ۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے کشمیریوں کو سب سے زیادہ تحفظات غیر ریاستی باشندوں کو ان کی زمین خریدنے کی اجازت دیئے جانے پر ہیں جس کو اب تک مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے تحفظ حاصل تھا ۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بھی اسی حوالہ سے بیان دیا ہے کہ کشمیریوں کی شناخت پر سمجھوتے سے مقبوضہ خطے میں افراتفری اور خلا پیدا ہو جائے گا ۔ آئین کے آرٹیکل 35 اے کے تحت اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار کشمیری ریاست کو حاصل تھا کہ ریاست کا مستقل باشندہ کون ہے ۔ بھارتی آئین کا یہ آرٹیکل کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کے تحفظ کا سب سے بڑا ذریعہ تھا لیکن اب بھارتی شہری مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور یہاں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا سکتا ہے ۔ یہ ویسا ہی منصوبہ ہے جس پر اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر قبضے کے لئے استعمال کیا ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات لاکھوں بھارتی فوجیوں نے پہلے ہی اس متنازعہ علاقے میں زمین کے بڑے بڑے قطعات پر قبضہ کر رکھا ہے ۔

حریت رہنماؤں اور سکھ تنظیموں نے نوٹیفکیشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جموں و کشمیر کے عوام سے ان کی شناخت، زمین اور قدرتی وسائل سمیت سب کچھ چھیننے کے درپے ہے ۔ دنیا کرونا وائرس سے لڑ رہی ہے جبکہ بھارتی حکمران کشمیریوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں ۔ ڈومیسائل قانون میں تبدیلی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے بھارت کے اس اقدام کو جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا ۔

پاکستان نے بھی مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل کے حصول کےلئے نئے قانون کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دےتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں غیرقانونی ہیں ۔ بھارت کی جانب سے کشمیر میں غیرریاستی افراد کو آباد کرنے کے قانون کو مسترد کرتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل کے حصول کےلئے نیا قانون قابل مذمت ہے ۔ 5 اگست کے بعد بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں تمام اقدامات جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بھی بھارت کے نئے قوانین کو مسترد کردیا ہے ۔