- الإعلانات -

کورونا وائرس: 6 کروڑ افراد کے انتہائی غریب ہونے کا خطرہ ہے، عالمی بینک کا انتباہ

عالمی بینک کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے 6 کروڑ افراد ‘انتہائی غربت’ کی سطح پر پہنچ جائیں گے۔

اپنے بیان میں عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ میلپاس نے کہا کہ چونکہ تمام ممالک اس وبا سے لڑ رہے ہیں اس لیے رواں سال عالمی اقتصادی ترقی کی شرح 5 فیصد کم ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائرس کی وجہ سے پہلے ہی لاکھوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں اور کاروبار بند ہورہے ہیں۔

ڈیوڈ میلپاس نے کہا کہ ‘دنیا بھر میں اس وقت لاکھوں لوگوں کا روزگار ختم ہوچکا ہے اور صحت کے نظام پر شدید دباؤ ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا اندازہ ہے کہ وبا کی وجہ سے 6 کروڑ لوگ انتہائی غریب ہوجائیں گے جس کی وجہ سے غربت ختم کرنے کے لیے گزشتہ تین سالوں میں ہونے والی پیشرفت ختم ہوجائے گی۔’

عالمی بینک کی تعریف کے مطابق یومیہ 1.90 ڈالر سے کم کمانے والا شخص ‘انتہائی غریب’ کہلاتا ہے۔

ڈیوڈ میلپاس کا کہنا تھا کہ عالمی بینک نے غریب ممالک کو اس بحران میں مدد کے لیے 160 ارب ڈالر کی گرانٹس اور کم شرح سود پر قرضوں کی پیشکش کی ہے، جبکہ دنیا کی 70 فیصد آبادی والے 100 ممالک کو پہلے ہی ایمرجنسی فنانس کی منظوری دی جاچکی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ چونکہ عالمی بینک ایک حد تک وسائل مہیا کر سکتا ہے اس لیے یہ ناکافی ہیں، جبکہ غریب ممالک کو قرضے دینے کے حوالے سے تجارتی قرض دہندگان کے کردار کو دیکھ کر انہیں بھی مایوسی ہوئی۔

واضح رہے کہ عالمی بینک غریب ممالک کو رواں سال کے آخر تک قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

اپریل کے اوائل میں ورلڈ بینک نے کورونا وائرس کے عدم پھیلاؤ، مراکز صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور ملک کو درپیش سماجی و اقتصادی چیلنجز کے پیش نظر پاکستان کے لیے 20 کروڑ ڈالر کا امدادی پیکج منظور کیا تھا۔

پاکستان کے لیے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ایلنگو پٹچاموتو نے اس موقع پر کہا تھا کہ عالمی بینک پاکستان اور اس کے عوام کو کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امدادی پیکج کو پاکستان وائرس سے متعلقہ تمام معاملات کی بہتر نگرانی کے لیے خرچ کرسکتا ہے اور یہ رقم غریبوں اور کمزور لوگوں کی مدد کے لیے بھی منتقل کی جاسکتی ہے۔

کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اس آزمائشی وقت میں مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ شراکت جاری رکھیں گے۔