- الإعلانات -

افغان مدرسے پرحملہ، بھارت ملوث

شمالی افغانستان کے صوبہ تخار کے ضلع اشکمش کے ایک مدرسے میں ہونیوالے دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد کے جاں بحق ہونے اور 8 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے ۔ یہ دھماکہ دو پہر کے وقت ہوا ۔ زخمیوں میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے ۔ اکثر طلبا نوجوان بتائے جاتے ہیں ۔ امن معاہدہ کے بعد افغانستان کے روشن مستقبل نے بھارت کی نیندیں اڑا دی ہیں ۔ اب جبکہ طالبان اور کابل حکومت نے بھی آپس کے مذاکرات شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے تو بھارت بہت مایوس اور سیخ پا ہو گیا ہے ۔ بھارت نے افغانستان میں اس لئے تو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں تھی کہ اسے ایک دن افغانستان سے نکلنا ہوگا ۔ اس کے خوا ب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن امریکی افواج یہاں سے کوچ کر جائیں گی اور کابل انتظامیہ کی بجائے طالبان یہاں آجائیں گے ۔ بہر حال اب وقت آیا تھا کہ بھارت اپنی سرمایہ کاری کا پھل کھاتا مگر یہ سب کچھ الٹا ہوگیا ۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہو سکتا ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں پاکستانی حمایت یافتہ طالبان برسراقتدار آجائیں ۔ چند روز قبل طالبان نے بھی افغانستان کے مستقبل میں بھارت کے کردار کو رد کر دیا ہے ۔ لہٰذا بھارت اب اپنے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور طالبان کو سبق سکھانے کےلئے افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ پر امن افغانستان کسی بھی طرح بھارت کو گوارا نہیں ۔ بھارت نے افغان امن عمل میں دراڑ ڈالنے کےلئے سازشیں شروع کر دیں ۔ نریندر مودی نے خصوصی ٹاسک پرسیکرٹری خارجہ کو کابل بھیجاجو افغان حکومت کو پاکستان کےخلاف اکسانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ شاہ محمود قریشی کا بھی کہنا ہے کہ بھارت کا افغانستان میں کوئی سیکیورٹی کردار نہیں دیکھنا چاہتے ۔ ہم یقین دہانی چاہتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی ۔ بھارت نے ہمیشہ منفی کردار ادا کیا ہے اور وہ ہمیشہ پاکستان کو افغانستان میں الجھا دیکھنا چاہتا ہے ۔ ہم افغانستان کے فیصلوں کا حصہ نہیں ، ہمارا کردار سہولت کار کا ہے ۔ یہ افغانوں کے فیصلے ہیں ان کا حق ہے کہ وہی فیصلے کریں ۔ اس انتشار زدہ افغانستان کی آڑ میں بھارت نے معاشی مفادات اٹھائے اور پاکستان میں دہشت گردی کرا کے کمزور کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھی ہیں ۔ یہ افغانستان کا انتشار ہی ہے جس کے پردے میں بھارت یہ الزام لگاتا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کرا رہا ہے کیونکہ اس کے افغان طالبان سے رابطے ہیں ۔ افغانستان میں امریکی چھتری تلے جتنی بھی حکومتیں بنی ہیں ان کا جھکاوَ ہمیشہ پاکستان کی بجائے بھارت کی طرف رہا ہے ۔ اب بھی افغان صدر اشرف غنی پاکستان پر الزام لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور بھارت کے کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں ۔ اکثر اوقات تودہ بھارت کی زبان بولتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے بھارت افغانستان کا بہت مخلص دوست ہے ۔ مگر اب افغان مسئلہ حل ہونے جا رہا ہے تو بھارت مچھلی کی طرح اس لئے تڑپ رہا ہے کہ اس کی وہاں سے بساط لپیٹی جانے والی ہے ۔ نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کو سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ امریکی صدر نے ایک بار بھی ان سے افغان مسئلے کو حل کرانے کےلئے مدد نہیں مانگی،جو معاہدے کے ضامن ممالک ہیں ، ان میں بھی بھارت کا نام و نشان نہیں ، گویا اسے مکھن میں سے بال کی طرح نکال دیا گیا ہے ۔ اس وقت بھارت کی حالت بہت خراب ہے ۔ ایک طرف تو وہ خود کو علاقے کا چودھری سمجھتا ہے اور دوسری طرف اسے خطے میں قیام امن کےلئے ہو رہے ایک معاہدے سے دور رکھا جا رہا ہے ۔ افغان مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے تو مودی نے کشمیر کا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے ۔ مقصد یہی ہے کہ دنیا امن کےلئے بھارت کی طرف دیکھے اور افغان معاملے سے اسے لا تعلق کرنے کوششوں کی نفی ہو سکے ۔ افغان مسئلے میں اسے مناسب کردار دیا جائے تاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک مضبوط تعلق قائم نہ ہونے پائے اور وہ اپنی مغربی سرحدوں میں الجھا رہے ۔ حکمت عملی کے اعتبار سے افغانستان بھارت کےلئے بہت اہم ہے ۔ بھارت نے بہت کچھ دا وَپر لگا رکھا ہے اور وہ اس کا تحفظ چاہتا ہے ۔ امن معاہدے کے بعداب بھارت کے پاس کوئی متبادل نہیں بچا ۔ اگر افغان حکومت بھی طالبان کے ساتھ معاہدے پر متفق ہو گئی تو بھارت کا کیا ہوگا ۔ اسی لئے بھارت افغان حکومت پر دباوَ ڈال رہا ہے ۔ بھارت کی کوشش یہ ہے کہ افغانستان میں وہ اپنے اثاثے کسی طرح محفوظ رکھ سکے ۔ اس نے وہاں بہت سرمایہ کاری کی ہے وہ ان پر حملے یا ان کی بربادی نہیں چاہتا ۔ علاقائی امور کے تعلق سے اب بھی بھارت اور امریکا کے درمیان کافی اختلافات ہیں اور افغانستان کے بارے میں تو کچھ زیادہ ہی لیکن بھارت کے پاس آپشنز نہیں ہیں ۔ طالبان ہمیشہ بھارت کے مخالف اور بھارت میں عسکریت پسندی کو ہوا دینی والی قوتوں کے حامی رہے ہیں تو اگر افغانستان میں دوبارہ عدم استحکام ہوتا ہے تو پھر اس سے کشمیر میں بڑے مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں اور بھارت ان سے بچنا چاہتا ہے ۔ افغانستان میں 1996سے 2001تک طالبان کی حکومت تھی لیکن بھارت نے طالبان کی حکومت کو نہ تو حکومتی اور نہ ہی سفارتی سطح پر تسلیم کیا ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر صرف پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کا ناسور اس خطہ میں جڑ سے اکھاڑنے کی مشترکہ حکمت عملی طے کرلیں اور اس پر عملدرآمد شروع کردیں تو دہشت گردوں کو کہیں چھپنے کا ٹھکانہ نہیں ملے گا اور کسی بیرونی مدد کے بغیر ہی دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ جیت لی جائیگی مگر بدقسمتی سے اس معاملہ میں ہ میں افغانستان کی جانب سے ہمیشہ سردمہری اور بھارتی لب و لہجے میں الزامات کی بوچھاڑ کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے ۔