- الإعلانات -

امریکی انتخابی مہم میں مسئلہ کشمیر کی حمایت

امریکا کے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار اور سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے مسلمانوں کے حوالے سے اپنے منشور میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کی متنازع قانون سازی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ کشمیری تنہا نہیں ہم صورتحال دیکھ رہے ہیں ۔ جہاں مناسب ہوا مداخلت کی جائے گی ۔ پر امن مظاہرین پر تشدد اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات جمہوریت کی نفی ہیں ۔ جو بائیڈن نے انتخابی مہم کے سلسلے میں امریکا میں مقیم مسلمان برادریوں کے حوالے سے اپنے ایجنڈے میں کہا کہ بھارت کی حکومت کو کشمیر کے عوام کے حقوق بحال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے چاہیئیں ۔ پرامن احتجاج کو روکنے، انٹرنیٹ کو بند کرنے یا سست کرنے جیسے اقدامات سے بھارت میں جمہوریت کمزور ہوئی ہے ۔ بھارت کی حکومت کی جانب سے آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن اور سٹیزن شپ ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) متعارف کروانا مایوس کن ہے ۔ یہ اقدامات سیکولرازم، کثیراللسانی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ملکی روایت کے بھی خلاف ہے ۔ امریکی صدارتی انتخاب کی مہم میں امیدواروں کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہو گیا ہے ۔ امریکی اقدار ہیں کہ انسانی حقوق کا معاملہ اٹھایا جائے، اگر صدر منتخب ہوا تو انہی اقدار پر عمل کروں گا ۔ اس سب پر جو کشمیر میں ہو رہا ہے تو اس کیلئے ہ میں نمائندے کی ضرورت ہے ۔ ہم انسانی حقوق کی پامالیاں آئے دن دیکھتے رہتے ہیں ۔ چاہے وہ امریکا میں ہوں یا دنیا کے کسی اور کونے میں ۔ ظلم کرنے والا ہمیشہ مظلوموں کو یہ باور کرواتا ہے کہ کوئی نہیں دیکھ رہا، کوئی توجہ نہیں دے رہا، جو کہ ایک ظالم کا ہتھیار ہوتا ہے ۔ امریکی ہندووَں کے ایک گروپ نے جو بائیڈن کی مہم میں مسلمانوں سے متعلق اپنے ایجنڈے میں بھارت کے خلاف بیان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے جو بائیڈن پر زور دیا کہ وہ اس بیان پر نظرثانی کریں اور مطالبہ کیا کہ اسی طرح کا ایجنڈا امریکی ہندووَں کے لیے بھی جاری کردیں ۔ تاہم جو بائیڈن کی مہم کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے لیے جہاں ٹرمپ اور ان کے حریف جو بائیڈن ایک دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں وہیں مختلف برادریوں کی حمایت کے لیے بھی سرگرم ہیں ۔ بھارت نے گزشتہ برس اگست میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش سمیت تمام بنیادی حقوق کو سلب کرلیا تھا جس کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ پھر دسمبر میں متنازع شہریت قانون متعارف کروایا گیا جس کے خلاف مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا جبکہ غیر جانب دار حلقوں کی جانب سے بھی اس قانون لو امتیازی قرار دیا گیا اور مسلمانوں کے موَقف کی حمایت کی گئی ۔ بھارتی حکومت نے رواں برس کے اوائل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل قانون کو تبدیل کرکے مقامی آبادی کو حاصل اختیارات واپس لے لیے جس کو پاکستان اور کشمیریوں نے مسترد کردیا تھا ۔ امسال کے شروع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیسری مرتبہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر نے کی پیشکش کی ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ ہم کشمیر کی صورتحال پر بھی بات کریں گے ۔ صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان اس شرط پر ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی کہ فریق راضی ہوں ۔ پاکستان اس قسم کے بیانات کا خیر مقدم کرتا ہے جبکہ بھارت سمجھتا ہے کہ کشمیر ایک دوطرفہ مسئلہ ہے ۔ صدر ٹرمپ اپنا وعدہ نباہتے ہوئے اگر کشمیر پر ثالثی کرانے کا آغاز کرتے ہیں تو دیکھنا ہو گا کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کے مبنی برحق وانصاف موقف کا کس حد تک لحاظ رکھتے ہیں اور کشمیریوں کی آرزووں اور آدرشوں کو کتنا وزن دیتے ہیں ۔ گزشتہ برس بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ بھارت کے آخر دن ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر بہت سے لوگوں کے لیے طویل عرصے سے بہت بڑا مسئلہ چلا آرہا ہے اور میں اس مسئلے پر ثالثی کے لیے تیار ہوں ۔ حکومتِ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے کام کر رہی ہے اور یہ تو حقیقت ہے کہ ہر مسئلے یا کہانی کے 2 رخ ہوتے ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار ہیں اور وزیر اعظم عمران خان میرے دوست ہیں اس لیے اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے میں کچھ کر سکتا ہوں تو ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ تاہم ہٹ دھرمی پر قائم مودی سرکار نے اس پیش کش کا مثبت میں جواب نہیں دیا ۔ مسئلہ کشمیر زمین کے کسی ٹکڑے کا معاملہ نہیں ہے ۔ یہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے مستقبل اور حق خود ارادیت کا سوال ہے ۔ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی پاکستانی یا عالمی لیڈر اگر کشمیریوں کی خواہشات کو نظر انداز کر کے اگر مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کی کوشش کرے گا تو یہ کوئی پائیدار حل نہیں ہو گا ۔ مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور قابل قبول حل کیلئے بھارت سے یواین قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ان کیلئے کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا کیونکہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے استصواب کا حق دینا ہی اس مسئلہ کا اصل اور ٹھوس حل ہے ۔ ہ میں کشمیر پر بہرصورت اپنے موقف کی ہی پاسداری کرنی اور کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے ہر فور م پر آواز اٹھائے رکھنا ہے ۔ ٹرمپ کی کوششوں سے اگر کشمیریوں کو آزادی کی منزل حاصل ہوجاتی ہے یہی اس خطے کے امن و سلامتی کی ضمانت بنے گی ۔