- الإعلانات -

بھارتی سرحد پر نیپالی فوج تعینات

نیپال بھارت ’’لیپولیکھ‘‘کے سرحدی علاقے میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ نیپال نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد فوج تعینات کردی ۔ عارضی طور پر لگائے گئے کیمپوں میں نیپال کے فوجیوں کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ نیپالی فوج نے کالاپانی سے 40 کلومیٹر پہلے ملبار نامی جگہ پر ایک چوکی بھی تعمیر کی اور اہلکاروں کو وہاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لایا گیا ۔ لیپولیکھ کے علاقے کے پاس دھڑکولہ کا علاقہ ہے جو نیپال اور بھارت کی سرحد سے 80 کلومیٹر دوری پر موجود ہے ۔ یہاں بہت سے لوگ چھوٹے سے گاؤں میں مقیم ہیں اور اس راستے کو سفر کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن حالیہ لاک ڈاوَن کی وجہ سے یہاں سفری پابندی لگائی گئی ہے ۔ بھارتی فوج کی بھی بارڈر پر حالیہ سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور اس کی وجہ چین کے ساتھ تنازع اور اب نیپال کا بھی سرحد پراپنی فوج تعینات کرنا ہے ۔ کچھ دنوں سے لداخ کے علاقے میں بھارت اور چین کے مابین لداخ کے علاقے میں جھڑپ جاری ہے جس میں کچھ دن قبل ہونے والی لڑائی میں بھارت کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ نیپال اور بھارت کے درمیان بھی سرحدی علاقے کی تقسیم پر اختلافات ہیں ۔ کچھ علاقوں پر بھارتی دعویٰ ہے اور بھارت نے اسے اپنے نقشے میں دکھانے کی کوشش کی مگر اصل میں وہ نیپالی علاقے ہیں ۔ حال ہی میں نیپال کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے ملک کے نئے نقشے پر پیش کردہ ترمیمی بل کو منظوری دی جس میں تین ہندوستانی علاقوں لپولیکھ ، کالاپانی اور لمپیادھورا کو نیپال کی سرزمین کا حصہ دکھایا گیا ہے ۔ نیپال نے تمام حدیں پار کر تے ہوئے متنازعہ نقشے کا بل پارلیمنٹ میں منظور کیا ہے جس کو لے کر ہندوستان میں کافی ناراضگی ہے ۔ بھارت اور نیپال کے بارڈر کی لمبائی 1751 کلومیٹر ہے ۔ نیپالی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو کا کہنا ہے کہ ہم نے نیپال کی پارلیمنٹ نے جو بل منظور کیاہے اس کو دیکھا ہے اور ہم نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے ۔ یہ توسیع کے مصنوعی دعوے تاریخی شواہد اور حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور یہ دعوے کہیں ٹکتے نہیں ہیں ۔ ترمیمی بل پر ووٹنگ کے دوران ایوان زیریں میں اپوزیشن نیپالی کانگریس اور جنتا سماج وادی پارٹی نے آئین کے تیسرے شیڈول میں ترمیم سے متعلق حکومت کے ترمیمی بل کی حمایت کی ۔ حزب اختلاف کی پارٹیوں بشمول نیپالی کانگریس، راشٹریہ جنتا پارٹی نیپال اور راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا ۔ اسپیکر اگنی سپکوٹا نے ایوان میں موجود ارکان پارلیمنٹ کی دو تہائی سے زیادہ اکثریت سے بل کو منظورکرنے کا اعلان کیا ۔ اس بل پر اب قومی پارلیمنٹ کی منظوری اور صدر جمہوریہ کی مہر درکار ہے ۔ ملک کی قومی اسمبلی اور صدر کی منظوری سے یہ نقشہ نیپال کے آئین کا حصہ بن جائے گا ۔ کچھ عرصہ قبل بھارت نے ایک نقشے میں کالاپانی کا علاقہ بھارتی حدود میں دکھایا گیا تھا ۔ نیپالی وزیر اعظم کے پی اولی کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ کالا پانی نیپال، بھارت اور تبت کے مابین ایک سہہ فریقی مسئلہ ہے اور بھارت کو یہاں نہ تعمیرات نہیں کرنی چاہیءں بلکہ فوری طور پر وہاں سے اپنی فوج ہٹا لینی چاہیے ۔ کالا پانی نیپال کا حصہ ہے ۔ ہم اپنی ایک انچ زمین بھی کسی کے قبضے میں نہیں رہنے دیں گے ۔ بھارت یہاں سے فوری طور پر نکلے ۔ یہ پہلا موقع ہے جب نیپال کے وزیر اعظم نے بھارت کے نئے سرکاری نقشے سے پیدا ہونے والے تنازعے پر عوامی طور پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ۔ بھارتی نئے نقشے میں کالا پانی کو اپنے علاقے کے طور پر پیش کیا ہے ۔ کالا پانی نیپال کے مغربی سرے پر واقع ہے ۔ بھارت کا اصل مسئلہ نیپال چین بڑھتی ہوئی دوستی ہے ۔ خطے میں اپنی چوہدراہٹ جمانے کے متمنی بھارت کو اپنے عزائم کی تکمیل کی راہ میں پہلے پاک چین دوستی کھٹکتی تھی لیکن اب وہ چین کے نیپال سے تعلقات پر بھی اعتراضات اٹھانے لگا ہے ۔ نیپال اور چین کی فوج نے پہلی مرتبہ مشترکہ مشقوں کا پروگرام بنایا جس سے قدرتی آفت یا کسی دہشت گرد حملے سے نمٹنے کےلئے نیپال کی فوج کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا ۔ لیکن حسب معمول بھارت ان فوجی مشقوں کو اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے لگا ہے ۔ نئی دلی سرکار ان فوجی مشقوں کو بہت اہمیت دے رہی ہے اور دونوں ممالک کے بڑھتے فوجی تعاون کی نوعیت کا جائزہ لے رہی ہے ۔ یہاں تک کہ نئی دلی میں تعینات نیپالی سفیرکو کہنا پڑاکہ ان مشقوں کے نتیجے میں ہمارے دوطرفہ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے ۔ نیپال اور بھا رت کے درمیا ن نیپا لی علاقے پر طویل عرصہ سے ایک جنگ جاری ہے ۔ نیپال اور بھارت کے درمیان سرحد1,808 کلو میٹر طو یل ہے اور نیپال کے 26اضلاع بھارتی سرحد سے ملتے ہیں ۔ درحقیقت بھارت کی بڑھتی ہوئی ;200;بادی کے پیش نظر لوگوں نے نیپال کے علاقے میں قائم جنگلات کا صفایا کرکے وہاں پر رہائش اختیار کرلی اور تاحا ل یہ جنگ جاری ہے ۔ اگر نیپال نے گریٹر نیپال کے نقطہ نظر کو درست ثابت کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ نیپال کی ;200;نے والی نسلیں اپنے کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ واپس حاصل کریں جو کل نیپال کا ایک چوتھائی حصہ ہیں ۔ بالکل اسی طرح جس طرح چائنا نے ہانگ کانگ برطانیہ سے حاصل کیا ہے ۔ اس سے قبل نیپالی حکومت نے اس مسئلے کو اس طرح سے طے نہیں کیا جس طرح سے اس کو کیا جانا چاہیے تھا ۔ فارن افیئرز کی کمیٹی نے ایک بیان جاری کیا ہے کہ سستا اور کالا پانی کے علاوہ باقی تمام بارڈرز کے مسائل حل ہوچکے ہیں لیکن ایسی بہت سی جگہیں ہیں جن پر بھارت نے قبضہ کیا ہے ۔ اگرچہ دیر سے ہی سہی‘ نیپالی حکومت اور پارلیمنٹ معاملے کی سنگینی سے ;200;گاہ ہوتے جارہے ہیں ۔ جس کا اندازہ ارکا ن پارلیمنٹ کے سستا کے علاقے کے حالیہ دورے سے لگایا جاسکتا ہے جبکہ غیرملکی تعلقاتی کمیٹی بھی اس امر پر گہری نگاہ مرتکز کئے ہوئے ہے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر نیپالی وزیراعظم اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ مسئلہ حل نہ ہو ۔