- الإعلانات -

حکومت اپنی صفوں کومضبوط کرے

موجودہ حالات میں یہ تاثرابھررہاہے کہ حکومت خود ہی اپنے لئے مشکلات پیدا کررہی ہے ، عوامی مسائل کودیکھاجائے توحکومت نے ابھی تک کوئی ایسے کام نہیں کئے جس سے عوام کی مشکلات کم ہوئی ہوں ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل عوام سے بہت سے وعدے کئے تھے حکومت اگرمسائل حل نہیں کرسکتی توان میں اضافہ بھی نہ کرے ۔ ماہ جون کے ;200;غاز میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں 15 روپے فی لٹر تک کمی کی گئی جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہ ہو سکا کیونکہ پٹرولیم مافیا نے تیل کی قلت کا مصنوعی بحران پیدا کرکے پٹرول پمپوں کو تالے لگوا دیئے چنانچہ عوام پٹرول کے حصول کیلئے خوار ہوتے رہے اور بعض پٹرول پمپ مالکان منہ مانگے نرخوں پرپٹرول فروخت کرتے رہے ۔ حکومت کی جانب سے تیل کی قلت کے حوالے سے کرائی گئی انکوائری میں یہ بات ثابت بھی ہوئی کہ کچھ کمپنیوں نے تیل موجود ہونے کے باوجود سپلائی روکی اسکے باوجود حکومت تیل کی سپلائی بحال نہ کراسکی اور بال;200;خر تیل کی مصنوعی قلت کا بحران ختم کرنے کیلئے حکومت کو گزشتہ دو ماہ میں کی گئی پٹرولیم نرخوں میں کمی واپس لینا پڑی ۔ ملک کی تاریخ میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں یہ سب سے زیادہ اضافہ ہے جس کا کوئی جواز بھی موجود نہیں ۔ ان ہی معاملات میں ایسالگ رہاہے جیسے حکومت اپنے ہی احکامات پرعمل کروانے میں مکمل طورپرناکام ہورہی ہے ۔ اب تو اس کے اپنے اتحادی بھی ناراض ہورہے ہیں جن کومنانے کےلئے وزیراعظم نے ارکان اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ دیا اور سب سے الگ الگ ملاقات کی جس میں ان کے تحفظات اور مسائل سنے ۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ۔ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی اپنی مدت پوری کرے گی،اگلے 5سال بھی ہمارے ہیں موجودہ حالات میں ہمارے سواکوئی چوائس نہیں ، پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں ۔ اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے ان کوترقیاتی فنڈزبھی دیں گے، اپنے نظریہ پر قائم ہوں مشکل ترین حالات میں سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں ،مافیا سے لڑنا آسان نہیں مگر میں اس کے سامنے کھڑاہوگیا ہوں ،مافیا کا پیچھا چھوڑ دوں تو سب اچھا ہو جائیگا یہ ملک کو تباہی کے دہانے پر لے کر آئے ، ان سے کیسے ہاتھ ملاءوں ;238;یہ عوام کے مفاد میں نہیں اپنی کرپشن بچانے کےلئے اکٹھے ہوئے ہیں ، شدید دباءو کے باوجود چینی رپورٹ منظر عام پر لایا اسی لئے مجھے نا کام کرنے کی سازش ہو رہی ہے ، ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اسٹیٹس کو کے خلاف ہار گئے اس ملک کو صرف اور صرف تحریک انصاف ہی بدل سکتی ہے ،جلد مشکل صورتحال سے نکل جائیں گے ۔ ہماری کابینہ میں کھل کر بات کی جاتی ہے عالمی منڈی میں پٹرول مہنگا ہونے کے باوجود ہم نے قیمت کم بڑھائی پی ٹی آئی ارکان اسمبلی بجٹ منظوری کے وقت حاضری یقینی بنائیں ۔ بلاشبہ یہ حکومت چند ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ تشکیل پائی ہے اور اسکے اتحادی بھی ;200;ج بدلتے ہوئے نظر ;200;رہے ہیں ۔ بے شک وزیراعظم عمران خان نے عوام کو ان مسائل میں ریلیف دینے کیلئے متعدد ریلیف پیکیجز بھی جاری کئے مگر عوام کیلئے ان گھمبیر مسائل سے نجات کا کوئی راستہ نہیں نکل پایا ۔ عوام توقع کررہے تھے کہ موجودہ ٹیکس فری س بجٹ ے مہنگائی میں تو کچھ نہ کچھ ریلیف مل جائیگا مگر ان کیلئے سر منڈاتے ہی اولے پڑے کے مصداق بجٹ کی منظوری سے پہلے ہی حکومت کے ہاتھوں پٹرولیم بم چل گیا جس پر حکومت کیخلاف صف ;200;را ہوتی اپوزیشن کو شے مل گئی ۔ متحدہ اپوزیشن نے وفاقی بجٹ مسترد کر دیا اور کہا کہ بجٹ کیخلاف پوری قوم متحدہ ہوچکی ہے ، حکومت کے جانے کا وقت قریب آگیا، جان چھڑانے کیلئے تمام آئینی طریقے اختیار کریں گے، عمران خان کی وجہ سے ملک مشکل میں ہے ، عمران خان قومی بوجھ بن گئے ہیں ، حکومت خود مافیا کا حصہ بن گئی ہے ، ظالمانی حکومت سے چھٹکارا ضروری ہے ۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ، پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر اورمرکزی رہنما خواجہ آصف، جماعت اسلامی کے میاں اسلم، جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما اکرم درانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ۔ جس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے بجٹ 2020 کو مسترد کردیا ہے ۔ مشترکہ اعلامیہ پر بلوچستان نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام ،پختونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی (بزنجو)اور پی ٹی ایم نے بھی دستخط کیے ہیں ۔ علاوہ ازیں اسفند یار ولی خان ، آفتاب شیر پاءو، جماعت اسلامی کی قیادت بھی اپوزیشن کی اے پی سی پر متفق ہوگئی ہے ۔ بے شک حکومت کی مدت پوری ہونے سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے مگرحکومت کوبھی سوچناہوگاکہ آخرایسے حالات کیونکرپیداہورہے ہیں جس سے وسط مدت میں ہی خطرے کی گھنٹیاں بجناشروع ہوگئی ہیں ۔ ابھی بھی حکومت کے پاس وقت ہے کہ وہ اپنی صفوں کومضبوط کرے اورعوامی مسائل پرفوکس کرے تاکہ اپوزیشن کے پاس کسی قسم کاجوازنہ رہے ۔

پاکستان نے بھارت کا ایک اورجاسوس ڈرون مارگرایا

بھارتی عزائم یقینا علاقائی اور عالمی امن کو تہہ و بالا کرنیوالے ہیں اس لئے اسکے جنونی ہاتھ نہ روکے گئے اور اسکے توسیع پسندانہ عزائم کے ;200;گے بند نہ باندھا گیا تو پاکستان بھارت ایٹمی جنگ کی صورت میں اس خطے اور پورے کرہ ارض کی تباہی بعیداز قیاس نہیں ۔ ڈ ی جی آئی ایس پی آرکے مطابق بھارتی ڈرون 850میٹرپاکستانی حدود میں گھس آیا تھا،بھارتی جاسوس ڈرون کو ایل او سی پرتتہ پانی سیکٹر میں مارگرایا گیا ۔ رواں برس پاک فوج کی طرف سے مار گرایا گیا یہ9واں بھارتی ڈرون ہے ۔ کھوئی سیکٹر کے سرحدی گاءوں چتر،بھینسہ گالہ میں بھارتی فوج نے سول آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی تاہم کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ۔ پاک فوج نے منہ توڑ جوابی کاروائی کرتے ہوئے دشمن کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد بھارتی گنوں کو سانپ سونگھ گیا ۔ چنانچہ یہی وقت ہے کہ عالمی قیادتیں اور نمائندہ عالمی ادارے علاقائی اور عالمی امن کی خاطر ;200;گے بڑھ کر عملی کردار ادا کریں اور بھارت سے یواین قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرائیں ۔ اگر عالمی قیادتوں نے اب بھی خطے میں بھارت کی پیدا کردہ کشیدگی کا فوری اور موِثر نوٹس نہ لیا اور اسکے ہاتھ روکنے کیلئے پس و پیش سے کام لیا تو اس کا نتیجہ دنیا کی تباہی کی صورت میں ہی بر;200;مد ہوگا ۔ پاکستان نے جنونی بھارت کا جاسوس ڈرون گرا کر دفاع وطن کیلئے عساکر پاکستان کی دفاع وطن کیلئے بھرپور تیاریوں کا ٹھوس پیغام دیا ہے ۔ مودی سرکار ہوش کے ناخن نہیں لے گی تو اسکی بدنیتی کی سزا پوری دنیا بھگتے گی ۔ بھارت اپنے کرتوتوں سے باز نہیں آرہا وہ صرف فالس فلیگ آپریشن کے بہانے ڈھونڈرہاہے ۔ بھارت کے جارح اقدامات خطے میں امن کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔ مارگرایاجانے والابھارتی ڈرون اس کےلئے ایک پیغام ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے بازآجائے ورنہ اس سے بھی بھیانک جواب اسے ملے گا ۔ ایک طرف پوری دنیا کورونا سے لڑ رہی ہے جبکہ دوسری طرف بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے ۔ بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ سے نہ صرف جنگ بندی لائن سے ملحقہ علاقوں میں لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ وہاں کورونا وائرس کے سدباب کی حکومتی کوششیں بھی بری طرح متاثر رہی ہیں ۔ پاکستان کے بارباراحتجاج کے باوجودبھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہا لہٰذا اقوام متحدہ کو کو چاہیے کہ وہ خطے میں امن کےلئے اپنا کردار ادا کرے اور مقبوضہ کشمیر میں ہونےوالے انسانیت سوز مظالم کا بھی نوٹس لے ۔