- الإعلانات -

خالصتان کےلئے ریفرنڈم 2020 ،بھارت پریشان

سکھ تنظیموں کی جانب سے 4 جولائی 2020 سے خالصتان کےلئے ریفرنڈم ٹوئنٹی20 کی رجسٹریشن شروع کرنے کے اعلان سے بھارتی حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ریفرنڈم کےلئے ووٹنگ نومبر2020 میں ہوگی ۔ دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کی رائے جاننا چاہتے ہیں کہ وہ خالصتان چاہتے ہیں یا نہیں ۔ ان حالات میں جب بھارت ایک طرف چین کے ساتھ نبرد آزما ہے او ر اسے اس محاذ پر نہ صرف شکست کا سامنا ہے بلکہ اس کی سرزمین بھی اس سے چھن گئی ہے ۔ نیپال سے اس کے تعلقات بھی خراب ہیں اور نیپال نے بھی اپنے وہ علاقے واپس لینے کا اعلان کیا ہے جو بھارتی قبضے میں تھے ۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کا بھی موڈ بگڑا بگڑا سا ہے ۔ اس ساری صورتحال میں بھارت کو اندرونی طورپر بھی بہت مزاحمت کا سامنا ہے ۔ شہریت بل کی وجہ سے مسلمانوں کے جلوس جلسے اور حکومت کےخلاف مظاہرے اور پھر کورونا وائرس کی وجہ سے بے انتہا بڑھتی ہوئی بے روزگاری ۔ ان حالات میں کشمیر کے ساتھ ساتھ اب خالصتان کا مسئلہ بھی گھمبیر ہوتا جا رہا ہے ۔ خالصتان تحریک سے جڑے اہم سکھ رہنما اور برٹش سکھ کونسل برطانیہ کے رکن سردار سربجیت سنگھ بنور نے کہا کہ ہم خالصتان گولی کے ذریعے نہیں بلکہ پرامن جمہوری طریقے سے لینا چاہتے ہیں ۔ اس کےلئے ہم دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کی رائے جاننا چاہتے ہیں کہ وہ خالصتان چاہتے ہیں یا نہیں ، اس مقصد کےلئے ہم نے ریفرنڈم ٹوئنٹی20 کا اعلان کیا تھا اور اب 4 جولائی سے دنیا بھر میں ریفرنڈم کےلئے آن لائن رجسٹریشن شروع ہوجائےگی جبکہ نومبر میں ووٹنگ کروائی جائیگی ۔ اس اعلان کے بعد بھارتی حکومت کی تشویش بڑھ گئی ہے ۔ شری اکال تخت صاحب کے جتھ دارگیانی ہرپریت سنگھ نے کہا تھا کہ خالصتان ہر سکھ کا خواب ہے ۔ اگربھارت انہیں خالصتان دیتا ہے تووہ لے لیں گے ۔ ان کے اس بیان پر بھارت میں ان کیخلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے اور پھانسی دینے جیسے مطالبات سامنے آئے ہیں سکھوں کی سب سے بڑی نمائندہ جبکہ شرومنی گردوارہ پر بندھک کمیٹی پر بھارتی حکومت کی طرف سے دباوَ ڈالا جارہا ہے کہ گیانی ہرپیت سنگھ کو ان کی ذمہ داری سے ہٹایاجائے ۔ بھارت اب بہت پریشان ہے اور بھارتی حکومت کی جانب سے برطانیہ اورکینیڈا کی حکومتوں کو خطوط لکھے گئے ہیں کہ وہ اپنے ممالک میں سکھ تنظیموں کو بھارت کے خلاف کسی تحریک اور جدوجہد سے روکیں لیکن دونوں حکومتوں نے ان خطوط میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پرامن احتجاج سکھوں کا حق قرار دیا ہے ۔ تحریک خالصتان درحقیقت سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو، بھارت سے الگ کر کے ایک آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک ہے ۔ زیادہ تر سکھ بھارتی پنجاب میں آباد ہیں اور امرتسر ان کا مرکزی شہر ہے ۔ 1980 کی دہائی میں خالصتان کے حصول کی تحریک زوروں پر تھی جس کو بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی ۔ بھارتی حکومت نے آپریشن بلیو سٹار کر کے اس تحریک کو کچل ڈالا ۔ جب سے بھارت میں نریندر مودی کی حکومت آئی ہے، سکھوں کی اکثریت اب خالصتان کو بنانے کےلئے متحد ہوچکی ہے اوردنیا کے کئی ممالک ان کے ساتھ ہیں ۔ سکھ اپنا حق حاصل کرنے کےلئے 2020 میں ایک ریفرینڈم کروانا چاہتے ہیں جسے ریفرنڈم خالصتان کہاجاتا ہے ۔ یہ ریفرنڈم بھارتی صوبہ پنجاب اور ہریانہ میں اس سال کے آخر میں کرایا جائے گا ۔ ان دو صوبوں میں سکھ قوم کی اکثریت آباد ہے اور اس بات کا امکان ہے ستر سے اسی فیصد سکھ خالصتان کے حامی ہیں اس کے نتیجے میں وہ بھارت سے آزادی حاصل کرکے اپنا ایک الگ ملک قائم کرکے اپنی ایک الگ شناخت بحال کر سکتے ہیں اور ہندووَں کے ظلم وستم سے نجات پا سکتے ہیں ۔ ریفرنڈم 2020 کےلئے سکھ فار جسٹس نے واشنگٹن میں ہیڈ کوارٹرز قائم کردیا ۔ ریفرنڈم کیلئے20 ملکوں میں پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے جس میں سکھ آن لائن ووٹنگ کے ذریعے حصہ لیں گے ۔ سکھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نومبر 2020 میں ہونے والے ریفرنڈم کی تیاری بھی اب واشنگٹن سے کی جائےگی ۔ امریکی محکمہ خارجہ سمیت کانگریس اراکین کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جائیگا ۔ مودی حکومت کے اس اقدام سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ، کشمیریوں سمیت سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق خطرے میں ہیں ۔ خالصتانی تحریک کے ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ سکھ ازم دنیا کا پانچواں بڑا مذہب ہے ۔ پوری دنیا میں اس کے ماننے والوں کی تعداد دوکروڑ 80 لاکھ ہے ۔ دنیا میں اس قدر بڑی آبادی ہونے کے باوجود سکھوں کی تعداد بھارت کی آبادی کا محض 1;46;8فیصد ہے ۔ جن کا زیادہ تر حصہ پنجاب میں آباد ہے ۔ خالصتان تحریک کے ذمہ داران اپنے وژن اور اہداف میں بہت واضح ہیں ۔ انہوں نے خالصتان کا مکمل نقشہ تیار کرلیاہے ، اس کے قیام کے بعد ممکنہ چیلنجز کا بھی انھیں احساس ہے اور ان کا حل بھی سوچ لیاہے ۔ انہیں احساس ہے کہ خالصتان چہار اطراف سے خشکی میں گھرا ہوا ایک ملک ہوگا ۔ ممکنہ مملکت خالصتان کے ساتھ سمندر نہیں لگتا ۔ ایسے میں اس کی معیشت کا کیاہوگا;238; خالصتانی ذمہ داران کاخیال ہے کہ پنجاب ایک مضبوط معیشت کا حامل ملک ہوگا ۔ سکھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ ہمارے لئے یہ بڑا اچھا سبق ہے ۔