- الإعلانات -

سندھ اور بلوچستان کےلئے سی پیک کے فوائد

سی پیک پورے خطے کا سیاسی جغرافیہ تبدیل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ثقافتی اور سیاسی اعتبار سے پاکستان جنوبی اور مغربی ایشیا کے کناروں پر واقع ہے ۔ سندھ اور پنجاب قطعی طور پر جنوبی ایشیا کا حصہ ہیں ۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جنوبی سے زیادہ مغربی ایشیا میں واقع ہوئے ہیں ۔ اسے دنیا کا بہترین معاشی پروجیکٹ مانا جا رہا ہے ۔ سی پیک کے تحت کاشغر سے گوادر تک 3000 کلومیٹر طویل روڈ، پاءپ لائن اور ریلوے لائن بچھائی جائے گی ۔ اسکے علاوہ چین پاکستان کے توانائی کے شعبے میں بھی مالی وفنی معاونت کریگا ۔ اس منصوبے پرکام کرنے کےلئے تین روٹس بنائے گئے ہیں ۔ ان میں مغربی روٹ کم فاصلے کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے گزرے گا ۔ اسی طرح دوسرا روٹ سندھ اور پنجاب سے گزرے گا اور تیسرا شمالی راستہ ہے یہ پورے ملک کو کور کریگا ۔ اس منصوبے میں طویل کشادہ اور محفوظ سڑکیں ، توانائی کے منصوبے، انڈسٹریل پارکس اور گوادر بندرگاہ کی تعمیر و انصرام شامل ہے جسکی تکمیل، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ پاکستان کےلئے اقتصادی لحاظ سے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے ۔ سی پیک کے تحت بجلی کے نئے منصوبے بنے اور ان میں سے کئی تو مکمل ہو چکے ہیں اور پیداوار دے رہے ہیں جس سے غیر اعلانیہ اور بے تہاشا لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ گوادر پورٹ مکمل ہونے پر دوہزار تیس تک پاکستان کو تقریباًنو سے دس ارب ڈالر کا سالانہ ریونیو حاصل ہو گا اور پچیس لاکھ کے قریب پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہونگے ۔ چینی کارگو کی پہلی بڑی آزمائشی شپمنٹ پاک چین راہداری سے 13 نومبر 2016ء کو بلوچستان کے راستے سی پیک راہداری اور گوادر پورٹ کے ذریعے کامیابی سے بحفاظت بھیجی جاچکی ہے ۔ منصوبے کے مغربی روٹ پر عمل درآمد سے بلوچستان میں ترقی کے ایک نئے دور کے آغاز کی امید بھی کی جارہی ہے ۔ منصوبے کا مغربی روٹ بلوچستان میں ضلع شیرانی و ژوب سے شروع گوادر تک ہے جس پر مختلف منصوبوں پر بھی عمل درآمد ہونا ہے ۔ ژوب ، ڈیرہ اسماعیل خان ہائی وے بڑی اہمیت کا حامل روڈہے اس لئے ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے مذکورہ سڑک کو دو رویہ بنانا چاہتے ہیں ۔ سی پیک کے تحت گوادر میں نئے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر تعمیراتی کام کا آغاز ہوگیا ۔ ایئرپورٹ پر ائے 380 بوئنگ سمیت دنیا کے دیگر بڑے جہازوں کی آمد و رفت کی سہولیات دستیاب ہونے کی نوید سنائی گئی ہے ۔ اس کا مقصد بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور سیاحوں کی آمد و رفت کےلئے سہولیات فراہم کرنا ہے ۔ بلوچستان کا جغرافیائی محل و قوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس طرح گوادر ، سی پیک بلوچستان پاکستان کیلئے نہیں بلکہ پورے خطے وساتھ ہی افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کیلئے اہم ہے ہمارے منصوبے پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جس کی بدولت سی پیک کے ذریعے پورا بلوچستان اور خطہ ترقی کرے گا گوادر میں 19 کارخانے بنائے جارہے ہیں جس میں مختلف ممالک دلچسپی رکھتے ہیں ، بلوچستان میں مختلف شعبوں جن میں زراعت ، معدنی ترقی ، ماہی گیری جن میں بڑی گنجائش موجود ہے میں سرمایہ کاری اور وسائل فراہم کرکے لوگوں کو ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کئے جا سکتے ہیں ۔ سندھ کے کچھ لوگوں کو سی پیک منصوبوں کے فائدوں کا علم نہیں ہے ۔ سی پیک کا سب سے زیادہ فائدہ سندھ کو ہوگا ۔ سندھ میں سب سے زیادہ پاور پلانٹ لگیں گے ۔ سندھ میں بھی سی پیک کے تحت کیٹی بندر اور سرکلر ریلوے کا کام مکمل ہونے پر سفری اور روزگار کی سہولیات پیدا ہونگی ۔ پشاور تا کراچی ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن بھی سی پیک میں شامل ہے ۔ سی پیک کی جوائنٹ کوآڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس میں سندھ میں توانائی کےلئے منظور کیے گئے منصوبوں میں حب 330 میگاواٹ، تھل نووا 330 میگاواٹ اور 1320 میگاواٹ کوئلے کا منصوبہ بھی شامل ہے ۔ سندھ کیلئے دھابیجی سپیشل اکنامک زون منظور کیا گیا ہے ۔ سی پیک منصوبے سے سندھ کے پسماندہ علاقوں کی ترقی ممکن ہو سکے گی ۔ سی پیک دنیا کے دو ملکوں کے درمیان طے پانے والا تاریخ کا سب سے وسیع منصوبہ ہے جس کی مالیت تقریباً پچاس ارب ڈالر ہے اور یہ پندرہ سال یعنی 2015ء تا 2030ء مکمل ہوگا ۔ یہ کسی بھی فرد‘ جماعت یا صوبے سے بالاتر ایک قومی سٹریٹیجک منصوبہ ہے ۔ سی پیک نے عالمی سیاست میں پاکستان کی اہمیت دنیا پر عیاں کر دی ہے ۔ ہمارے تھر کے علاقہ میں کوئلے کے دنیا کے پانچویں بڑے ذخائر موجود ہیں جنہیں ابھی تک استعمال میں نہ لایا جاسکا تھا مگر اب سی پیک کے طفیل وہاں نہ صرف کان کنی کا آغاز ہوگیا ہے بلکہ عنقریب وہاں بجلی کی پیداوار بھی شروع ہوجائے گی ۔ سی پیک پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیاء و وسطی ایشیاء کی مسلم ریاستوں کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریگا ۔ اسکے ذریعے توانائی‘ انفراسٹرکچر‘ گوادر بندگاہ اور سپیشل اکنامک زونز کے قیام اور انہیں ترقی دینے کے نادر مواقع میسر آئیں گے ۔ سی پیک وطن عزیز کے روشن مستقبل کا ضامن ہے ۔ یہ ہماری اکنامک سکیورٹی اور خوشحالی کی نوید ہے ۔ بھارت اور پاکستان مخالف دیگر طاقتیں اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہیں مگر ہ میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلئے اسی عزم اور جذبے کا ثبوت دینا ہوگا جس کا مظاہرہ ہم نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی خاطر کیا تھا ۔ چین پاکستان کا ایک ایسا دوست اور ہمسایہ ہے جو ہر مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔ 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں بھی چین نے ہی ہماری امداد کی حالانکہ ہمارے دفاعی معاہدے امریکہ کے ساتھ تھے جس نے عین موقع پر ہ میں دھوکہ دیا ۔ امریکہ کی بے وفائیوں کی وجہ سے صدر ایوب خان کا جھکاءو چین کی طرف ہوا جو بتدریج بڑھتا گیا اور آج ہم پاک چین دوستی پر بڑا فخر کرتے ہیں ۔