- الإعلانات -

غیر کشمیریوں کےلئے ناجائز شہریت سر ٹیفکیٹ

بھارت نے ایک بار پھر کشمیریوں کا حق غضب کرنے کی مذموم سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا سلسلہ شروع کردیا یعنی مودی سرکار نے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومسائل جاری کرنا شروع کردیا ہے اور اس سلسلے میں 25 ہزار بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دیئے گئے ہیں ۔ یہ ڈومیسائل غیر کشمیریوں سمیت دیگر بھارتی شہریوں کو دیئے گئے ہیں جن میں جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سر ٹیفکیٹ قانون کے تحت بھارتی سرکاری حکام بھی شامل ہیں جبکہ یہ ایک غیرقانونی اقدام اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت عالمی قانون کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے ۔ پاکستان نے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل دینے کے بھارتی حکومت کے اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے اس موقف کی تائید ہے کہ بھارت آرایس ایس اور بی جے پی کے ہندو توا ایجنڈے پرعملدرآمد اورکشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں بدل کر مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے ۔ بھارتی حکومت ایسے اقدامات سے کشمیریوں کو ان کے منصفانہ حق خودارادیت سے محروم کرنا چاہتی ہے جس کا وعدہ اْن سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھی کیا گیا ہے ۔ دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے پاکستان حکومت و عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کارروائیوں ، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی مسلسل سنگین خلاف ورزیوں سمیت ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعے بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپناغیرقانونی تسلط جاری رکھناچاہتاہے ۔ اقوام متحدہ اورعالمی برادری کو اس صورتحال کانوٹس لیتے ہوئے بھارت کومقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی سے روکنا چاہیے اور غیرکشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کے جاری کئے گئے تمام غیرقانونی ڈومیسائل سرٹیفکیٹس فوری طورپرمنسوخ کئے جائیں ۔ بھارت نے اسرائیل کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی ہیت، آبادی کا تناسب تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے نئے ڈومیسائل قانون کا اطلاق شروع کر دیا ۔ مودی سرکاری نے مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل اجراء کا آغاز سرکاری افسران سے کیا ہے ۔ بھارتی ایڈمنسٹریٹو سروس کے آفیسر نوین چوھدری کو مقبوضہ کشمیر کا پہلا ڈومیسائل جاری کیا گیا ہے ۔ سرکاری آفیسر کا تعلق ریاست بہار سے ہے ۔ نوین چوھدری کو 24 جون کو ضلع جموں کے گاؤں گاندھی نگر کے پتے پر ڈومیسائل اجراء کیا گیا ۔ ڈومیسائل حاصل کرنے والوں میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں ہے ۔ آنےوالے دنوں میں مزید 14 لاکھ افراد ڈومیسائل کے حامل ہو سکتے ہیں ۔ مودی سرکار کے فیصلے پرمقبوضہ کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔ کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں تعینات 8 لاکھ بھارتی فوجیوں اور 6 لاکھ دیگر غیرمقامی افراد کو بھی شہریت دے سکتی ہے ۔ تاکہ مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا سکے ۔ مودی سرکار کے فیصلے پر مقبوضہ کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت کی گارنٹی دینے والی آئینی شق دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو گزشتہ سال مودی سرکار نے بیک جنبش قلم ختم کردیا تھا ۔ ان آئینی شقوں کی رو سے مقبوضہ وادی میں کسی غیر کشمیری کو زمین خریدنے یا وہاں کی شہریت حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ سے اس قانون کو ختم کرنا چاہتی تھی تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے کشمیر پر سے کشمیریوں کا دعویٰ ختم کیا جاسکے ۔ لیکن اس کےلئے کئی مجبوریاں آڑے آرہی تھیں ۔ آزادی سے لے کر آج تک کسی بھی حکومت کو آئین کے آرٹیکل 370 کو تبدیل کرنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔ کیونکہ اس دفعہ کو صرف اس وقت تبدیل کیا جاسکتا ہے جب دفعہ میں تبدیلی کے تقاضے پورے ہوں اور ریاست کی مرضی اس میں شامل ہو جس کی ترجمانی وہاں کی ریاستی اسمبلی کرتی ہے ۔ دفعہ میں تبدیلی صرف ریاستی اسمبلی کی سفارشوں پر کی جاسکتی ہے، مرکز اس کا مجاز نہیں ہے ۔ لیکن مودی نے آئین کو توڑتے ہوئے یہ اقدام کیا ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی پیشکش پر گھبرا کر مودی سرکار نے فوری طورپر بلا سوچے سمجھے یہ قدم اٹھایا کہ اس کے ذریعے وادی سے باہر کے ہندو انتہا پسندوں کو یہاں بسایا جائے گا ۔ اگر کبھی استصواب رائے کروانا بھی پڑ گیا تو بھارت کے حق میں ووٹ آئے ۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے کشمیریوں کو سب سے زیادہ تحفظات غیر ریاستی باشندوں کو ان کی زمین خریدنے کی اجازت دیئے جانے پر ہیں جس کو اب تک مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے تحفظ حاصل تھا ۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی اسی حوالہ سے بیان دیا ہے کہ کشمیریوں کی شناخت پر سمجھوتے سے مقبوضہ خطے میں افراتفری اور خلا پیدا ہو جائے گا ۔ آئین کے آرٹیکل 35 اے کے تحت اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار کشمیری ریاست کو حاصل تھا کہ ریاست کا مستقل باشندہ کون ہے ۔ بھارتی آئین کا یہ آرٹیکل کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کے تحفظ کا سب سے بڑا ذریعہ تھا لیکن اب بھارتی شہری مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور یہاں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا سکتا ہے ۔ یہ ویسا ہی منصوبہ ہے جس پر اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر قبضے کےلئے استعمال کیا ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات لاکھوں بھارتی فوجیوں نے پہلے ہی اس متنازعہ علاقے میں زمین کے بڑے بڑے قطعات پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ حریت رہنماؤں اور سکھ تنظیموں نے نوٹیفکیشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جموں و کشمیر کے عوام سے ان کی شناخت، زمین اور قدرتی وسائل سمیت سب کچھ چھیننے کے درپے ہے ۔ دنیا کرونا وائرس سے لڑ رہی ہے جبکہ بھارتی حکمران کشمیریوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں ۔ ڈومیسائل قانون میں تبدیلی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے بھارت کے اس اقدام کو جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا ۔