- الإعلانات -

لداخ میں چینی فوج کی پیش قدمی

لداخ میں بھارت کوچین کے ہاتھوں مسلسل ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ چین نے ایل اے سی پر مزید تین ٹیکٹیکل پوزیشنز پر کنٹرول حاصل کرلیا جس میں دولت بیگ اولڈی، گلوان ویلی کے اہم حصے شامل ہیں ۔ بھارتی فوج پینگانگ میں فنگرٹو تک محدود ہو کر رہ گئی ۔ چینی فوج نے علاقے میں مشقیں بھی کیں ۔ لداخ میں مزید دو بھارتی فوجی مارے گئے ۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ چین نے15 جون سے پہلے علاقے میں اپنے فوجیوں کی ٹریننگ کے لیے مارشل آرٹ کے 20 ٹرینرز بھیجے تھے ۔ پانچ نئے ملیشیا ڈویڑنز، ماوَنٹ ایورسٹ ٹارچ ریلے ٹیم کے سابق ارکان اور مکسڈ مارشل آرٹس کلب کے جنگجو 15 جون کو تبت میں لاسا کے مقام پر معائنے کے لیے پیش ہوئے تھے ۔ رواں ماہ لداخ کے علاقے وادی گلوان میں بھارت کے ساتھ ہونے والی جھڑپ سے پہلے ہی بیجنگ نے اپنی بارڈر سکیورٹی فورس کو مضبوط کرنے کے لیے مارشل آرٹس اور پہاڑوں پر چڑھنے کے ماہر فوجی بھیج دیے تھے ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ 1996 میں ہونے والے معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے فوجی سرحدی علاقے میں بندوق اور آتشی مواد نہیں رکھ سکتے ۔ تاہم کشیدگی کے بعد چین اور بھارت نے سرحد کے قریب بھاری تعداد میں اسلحہ،جنگی گاڑیاں پہنچا دی ہیں ۔ فوجی اڈوں میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے ۔ وادی گلوان لداخ اور اکسائی چین کے درمیان بھارت اور چین کی سرحد کے نزدیک واقع ہے ۔ یہاں پر اصل کنٹرول لائن (ایل اے سی) اکسائی چین کو بھارت سے جدا کرتی ہے ۔ یہ وادی چین کے جنوبی شنجیانگ علاقے اور بھارت کے علاقے لداخ تک پھیلی ہوئی ہے ۔ اب چینی فوج نے علاقے میں مشقیں بھی شروع کردیں ہیں ۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کنٹرول لائن پر موجودہ صورت حال اور چین کے ساتھ جاری کشیدگی پر ایک اعلیٰ درجے کا اجلاس بھی کیا تھا جس میں وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل وپن راوت اور تینوں افواج کے سربراہ بھی شامل تھے ۔ تاہم بھارت اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ڈویژن کمانڈر سطح پر ہونے والی مذاکرات کے کئی دور ناکام رہے ۔ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناوَ کو 1999 میں پاک بھارت کارگل جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے ۔ اس سے قبل2017 میں بھارت اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت بھارت اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ چینی صدر شی جن پنگ نے انتہائی خراب صورت حال کے پیش نظر اپنی فوج کو جنگ کے لیے تیار رہنے اور ملک کی سالمیت کا مضبوطی کے ساتھ دفاع کرنے کےلئے کہا ہے ۔ 66 برس کے شی جن پنگ حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کے جنرل سیکرٹری ہیں ۔ شی جن پنگ نے کہا کہ فوج کو خراب ترین صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اس کے لیے اپنی تربیت اور جنگی تیاری کی سطح میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ فوری طور پر اور موَثر ڈھنگ سے کسی بھی قسم کی پیچیدہ صورتحال سے مضبوطی سے نمٹ سکیں اور قومی سلامتی، سکیورٹی اور ترقیاتی مفادات کا دفاع کر سکے ۔ لداخ میں سرحد کے نزدیک چینی فوج کے ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں جبکہ دیمچوک، دولت بیگ اولڈی، دریائے گلوان اور پینگونگ سو جھیل کے اطراف میں بھارتی اور چینی فوج نے اپنی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے اور دونوں نے اپنے اپنے علاقے کی جھیلوں میں کشتیوں کی گشت میں بھی اضافہ کیا ہے ۔ چین پینگوگ جھیل سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے ایئر بیس پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کر رہا ہے ۔ بھارت اور چین کے درمیان تین ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے ۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش ۔ بہر حال بھارت اور چین کے درمیان سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہوئی اور جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے اسے ایل اے سی کہا گیا ہے تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جو کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے ۔ بھارت مغربی سیکٹر میں اکسائی چین پر اپنا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ خطہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے ۔ 1962 کی جنگ کے دوران چین نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا ۔ چین مشرقی سیکٹر میں اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے ۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا ایک حصہ ہے ۔ چین تبت اور اروناچل پردیش کے مابین میک موہن لائن کو بھی قبول نہیں کرتا ہے ۔ مجموعی طور پر چین اروناچل پردیش میں میک موہن لائن کو قبول نہیں کرتا اور اس نے اکسائی چین سے متعلق بھارتی کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے ۔ سکم کے دارالحکومت سے تقریبا 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہند چین سرحد پر یہ ناتھولا گیٹ ہے ۔ جب بھارت نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ہٹایا تھا اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا تھا تو چین نے اس پر سخت تنقید کی تھی اور اسے ’ناقابل قبول اور‘ چین کی ’سالمیت‘ کی خلاف ورزی قرار دیا تھا یہاں تک کہ اس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں بھی اس معاملے کو اٹھایا تھا ۔ 2010 کے بعد سے سرحدی تنازعے میں اضافہ دیکھا گیا اور بھارت نے جب سے سرحد کے قریب سڑک کی تعمیرات کا کام تیز کیا ہے اس پر چین کی گہری نظر ہے ۔ پاکستان کو بات بات پر تڑیاں لگانے والا بھارت ، لداخ پر چینی قبضے کے خلاف تاحال منتوں اور ترلوں کی پالیسی پر عمل پیرا ۔ بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کرنیوالی آر ایس ایس لداخ پر چین کے ساتھ بہادری کے جوہر کیوں نہیں دکھاتی;238;