- الإعلانات -

لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم ، میں نہ لگاءوں گی ہاتھ اسے

کیا خوبصورت دن تھے ،کیا خوبصورت دور تھا زندگی ایک خاص ڈگر پر چل رہی تھی سادگی تھی سچا،ئی تھی، پیار تھا، محبت تھی، خلوص تھا، اخلاص تھا لوگ ایک دوسرے سے دل کی بات پورے یقین سے کر لیتیے تھے اور سننے والا بھی امانت سمجھ کر بات کو نہ صرف اپنے تک محدود رکھتا تھا بلکہ غمگساری اور دلجوئی سے مشورہ بھی دیتا تھا لوگوں کو ابھی اس جدید ٹیکنالوجی یہ موبائل فون، انٹرنیٹ، تھری جی، فور جی، فائیو جی ابھی ایجاد ہی نہیں ہوئی تھی نیا نیا پاکستان بنا تھا لوگ تقسیم اور ہجرت کے عمل سے گزرکر ابھی پرانے زخموں اور یادوں کے ساتھ زندگی ترتیب دے رہے تھے تفریح کیلئے میلے ٹھیلے ،موت کا کھوہ یا پھر سٹیج ڈرامے ، تھیٹر اور اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے سینما موجود تھا جسے پرانے لوگ ’’ٹاکیز ‘‘کہتے تھے یعنی بولنے والی تصویریں اور فنکاروں ،اداکاروں میں فن اور فنون موجود تھا ہیروئن گانا بھی پورے لباس میں پیکچرائز کراتی تھیں کہانی لکھنے والے سے لیکر شاعر تک اور موسیقار سے لیکر گلوکار تک اور ڈاریکٹر سے لیکر اداکا رتک سبھی کمال کے منجھے ہوئے لوگ تھے فلموں کے موضوع اصلاحی اور گھریلو ہوتے تھے یہ سچے اور سچے فنکارو کا عہدتھا جس سے آج کی پو د ناواقف ہی نہیں نا بلد بھی ہے اس لئے کہ حادثات و حوادثات زمانہ میں انھیں اس تیز رفتاری سے تبدیل کیا ہے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کون سا عہد تھا جس میں انکے نانا دادا بھر پو رانجوائے کر کے زندگی کو مٹھاس دیکر نکلے ہیں اس خوبصورت فلموں اور فنکاروں کے بارے میں سوچ رہا تھا تو مجھے طالش ،محمد علی ،وحید دمراد ،ندیم ،طارق عزیز ،علاءودین ،نذر ،زلفی ،سدھیر،مظہرشاہ ،اے شاہ ،سکے دار ،شیخ اقبال ،اکمل،نیر سلطانہ ،درپن ،صبحیہ ،سنتوش ،بہار بیگم ،فردوس ،نغمہ ،شیریں ، زیبا، دیبا، مسرت نذیر ،لہری اور بہت سے ایسے کہ جنھوں نے اپنے اپنے کرداروں میں ڈوب کر انھیں کچھ اس طرح سے امر کیا کہ پوری دنیا کے فلم بین انھیں شاید کبھی نہ بھلا سکیں گے انہی میں سے ایک خوبصور ت اورخوبرو اداکارہ صبیحہ بیگم تھی جو سوہنی کی دھرتی بلکہ مردم خیز دھرتی گجرات کے ایک گاءوں میں دہلی سے تعلق رکھنے والے محمد علی ماہیا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والی اقبال بیگم (بالو) کے گھر 1936 میں پیدا ہوئی ممتاز بیگم نام ملا دیہاتی قدامت پسند ماحول میں سات سال تک پرور ش پائی تو ماں کی نعمت سے محروم ہو گئی دادا دادی نے تربیت کی تو جوانی میں قدم رکھنے سے پہلے ہی تقدیر کے لکھے پر اپنے فنکار باپ کے پاس پہنچ گئی جس نے اپنے اندر چھپے ہوئے فنکار کی تسکین کےلئے مختار بیگم کی انگلی پکڑکر تھیٹرکے دروازے لے گیا جہاں سے وہ میلوں ،ٹھیلوں میں فن کا مظاہرہ کرتے فلم سٹوڈیو کے دروازے پر آپہنچی جہاں مصنف اور شاعر نے مختار بیگم کے اندر چھپے ہوئے فنکار کو جانچ کر اسے صبیحہ خانم کا نام دیا اور پھر پہلی فلم بیلی سے سفر کرتی ہوئی ’’دو آنسو‘‘آغوش ‘غلام ،گم نام ،دلا بھٹی، اک گناہ اور سہی ،شیخ چلی ،آس پاس ،سسی،چھوٹی بیگم ، انجمن ،جیسی اردو پنجابی فلموں میں اپنے فن کو منواتی ترقی و کامرانی کے جھنڈے گاڑھتی دو سو سے زائدفلموں کے علاوہ ٹیلی ویژن ڈراموں پروگراموں کو کامیابیوں تک پہنچاتی اچانک ایک دن اپنے شوہر اداکار سنتوش کمار (موسیٰ رضا)کی موت کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کش ہو کر اپے بچوں کی پرورش میں صبیحہ خانم اور سنتوش کمار کی فلمی جوڑی اپنے وقت کی کامیاب ترین فلمی جوڑی تھی جسے ہر فلمساز اپنی فلم میں کاسٹ کرنے کیلئے بیتات رہتا صبیحہ خانم کو انکی بہترین اداکاری اور فنکاری پر بیشمار ایوارڈملے اور حکومت وقت نے انکی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نواز اتقریبا چھ دہائیوں تک سلو ر سکرین پر راج کرنےوالی صبیحہ خانم نے فلمی دنیا سے جب ناطہ توڑا اور بچوں کی نگہداشت میں لگی تو پھر مڑ کر نہ دیکھا اور امریکہ کی ریاست ورجینیا میں بچوں کے ساتھ گھریلو زندگی میں محو ہو گئی اور پھر گزشتہ دنوں انتہائی خاموشی سے اپنے کروڑوں چاہنے والوں متوالوں فن سے پیا ر کرے والوں کو اداس چھوڑ کر مٹی کی چادر اوڑھ کر دیار غیر میں اطمینان سے چپ چاپ سو گئی لیکن اپنے پیچھے فن کی وہ لازوال اور با کمال داستانیں چھوڑگئی کہ جب کوئی فن کا دل دادہ کچھ لکھنے بیٹھے گا تو اسے لکھنے کیلئے اس شخصیت کے مطابق الفاظ ڈھونڈنے میں وقت لگے گا اور انکے فن اور فنکاریوں کو بیان کرنے کیلئے بھی اسے فن میں ڈوبنا پڑےگا لیکن اب نہ لٹ ہے اور نہ لٹ سلجھانے والا اب تو بس یادیں ہیں باتیں ہیں اور بس یہی ہے کیونکہ یہی زندگی ہے اپنے فن اور اپنی شخصیت اپنے کردار کے ساتھ پاکستان سے بے پناہ محبت کرنیوالی اس عظیم اداکارہ کیلئے آئیں ملکر دعا کریں کہ اللہ پروردگار انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں ۔ آمین

لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم ، میں نہ لگاءوں گی ہاتھ اسے