- الإعلانات -

متحدہ کے لئے بھارتی مالی معاونت کا اعتراف

گزشتہ دنوں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق قتل کیس میں جرم ثابت ہونے پر 3 مجرموں خالد شمیم، معظم علی اور محسن علی سید کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ بانی ایم کیو ایم سمیت چار اشتہاری ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے جائیداد ضبطگی کے احکامات بھی دیے ۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ثابت ہو گیا ہے کہ بانی ایم کیو ایم نے ہی ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے احکامات جاری کیے ۔ عدالتی فیصلے میں اپنا نام آنے پر ایم کیو ایم لندن کے سابق رہنما محمد انور کا کہنا تھا کہ ان کا ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل سے کسی بھی قسم کا تعلق نہیں ۔ ڈاکٹر عشرت العباد کو بھی ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات میں شامل کرنا چاہیے ۔ ڈاکٹر عمران فاروق کو ذلیل کر کے پارٹی سے نکالا گیا ۔ عمران فاروق جب تک زندہ تھے ، پارٹی میں انتہائی فعال تھے ۔ ان کو بھی پیسوں کا علم ہوتا تھا ۔ ڈاکٹر عمران فاروق سے کچھ لوگوں کے اختلافات تھے مگر ایسے نہیں کہ کوئی انہیں قتل کر دے ۔ سکاٹ لینڈ کو عمران فاروق کے گھر سے جاوید ترک کا خط ملا تھاجو حکیم سعید کے قتل میں ایم کیو ایم کے ملوث ہونے سے متعلق ہے ۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ریکارڈ کے مطابق جاوید ترک کے خط میں رپورٹ دی گئی تھی ،;34;کام ہو گیا ہے ، رقم دی جائے ;34; ۔ کام سے مراد حکیم سعید کا قتل تھا ۔ اپنے انٹرویو میں محمد انور نے اعتراف کیا کہ ہم بھارت کی پالیسی پر چل رہے تھے اور یہ پارٹی کے تمام اہم لوگوں کا مشترکہ فیصلہ تھا ۔ جو لوگ الطاف حسین کو مشورے دیتے تھے کہ فلاں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے ، ہلاک کرنے یا جلانے کا حکم جاری کریں ، وہ آج پارسا ہونے کے دعوے کر رہے ہیں ۔ محمد انور نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ کا بھارت سے رقم لینے کا معاملہ حقیقت ہے ۔ بھارت سے تعلقات کے حوالے سے صرف مجھے الزام دینا سراسر غلط ہے ۔ 90 ء کی دہائی کی ابتدا میں ندیم نصرت نے بھارتی سفارت کار سے وسطی لندن میں میری ملاقات کرائی اور سفارت کار سے ملنے کی ہدایت بھی انہوں نے ہی دی تھی ۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے کراچی میں ہونے والی قتل و غارت کے تمام کاموں میں ایم کیو ایم ملوث تھی ۔ 2007 ء کے دوران انسانی حقوق کی علمبردار اور نامور قانون دان مرحومہ عاصمہ جہانگیرنے بہت واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ایم کیو ایم کراچی میں بے گناہوں کو قتل کرا رہی ہے اور مطالبہ کیا تھا کہ یہ قتل و غارت گری بند کی جائے ۔ اس موقع پر الطاف حسین کے سابقہ ساتھی مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ الطاف حسین، عمران فاروق جیسے بڑے کو مار سکتا ہے تو کسی کو بھی مارسکتا ہے ۔ بانی ایم کیوایم کو لوگوں کا خون چاہیے ۔ بھارت انہیں پیسے دیتا ہے ۔ ہ میں بانی ایم کیو ایم کے ساتھ رہنے کا دنیاوی فائدہ تھا لیکن ہم نے اللہ کے خوف سے ان سے دوری کی ۔ نوجوانوں کو بانی ایم کیو ایم نے قاتل اور را کا ایجنٹ بنایا ۔ اپنے آقاؤں کے کہنے پر سندھو دیش کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا ۔ ایم کیو ایم اور بھارتی خفیہ ایجنسی‘‘را’’ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات منظر عام پر آئے ہیں ۔ اس میں اہم ترین بات لندن میٹروپولیس کا یہ کہنا تھا محمد انور اور طارق میر ان باتوں کا آڈیو اور ویڈیو اعتراف کر چکے ہیں ۔ محمد انو نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ بھارت سے 8 لاکھ پاءونڈ سالانہ آتے جس میں سے زیادہ تر حصہ متحدہ قائد کو بھیجا جاتا ۔ را کے ایجنٹوں کے الطاف حسین سے براہ راست رابطے تھے ۔ لندن میٹروپولیٹن پولیس سکاٹ لینڈ یارڈ کی ایک دستاویز دکھائی گئی جس میں انہیں آگاہ کیا گیا تھا کہ لندن میں موجود ایم کیو ایم کی قیادت ;34;را;34; سے فنڈنگ لیتی رہی ہے ۔ اور ;34;را;34; نے ایم کیو ایم کو پالا اور سنبھالا ہے ۔ سکاٹ لینڈ یارڈ نے دوران تفتیش انکشاف کیا تھا کہ ایم کیو ایم کی عمارتوں اور دفاتر سے بڑی تعداد میں رقم برآمد کی گئی ۔ برطانیہ میں ایم کیو ایم کے کئی اثاثوں کی نشاندہی ہوئی ۔ قوی امکان ہے کہ ایم کیو ایم نے یہ رقم بھارتی حکومت اور غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی ۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے ثبوت موجود ہیں کہ ایم کیو ایم کے رہنماءوں نے پاکستان اور برطانوی فوجداری قوانین کی خلاف ورزی کی اور بھارت حکومت سے ممنوعہ فنڈز حاصل کئے اور تحویل میں لئے گئے اثاثے کریمنل پراپرٹی ہیں ۔ 2012 میں طارق میر کا انٹرویو اور محمد انور سے الگ الزامات کی تفتیش کے دوران محمد انور اور طارق میر نے اعتراف کیا کہ ایم کیو ایم بھارتی حکومت سے فنڈز حاصل کر رہی ہے ۔ ایم کیو ایم کے سابقہ رہنما طارق میر کے 8صفحات پر مشتمل اعترافی بیان کے ابتدائی پانچ صفحات الطاف حسین ،محمد انور اور عمران فاروق کی را کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں ،بھارت سے فنڈنگ اور متحدہ کے کارکنوں کی بھارت میں مسلح ٹریننگ سے متعلق ہیں ۔ زیادہ تر رقم براہ راست الطاف حسین کو بھیجی جاتی تھی ۔ بھارتی رقم کے بارے میں بتایا گیا کہ 1992 میں الطاف حسین اپنے دو ساتھیوں سمیت کراچی سے جب لندن آئے ۔ برطانوی شہری ہونے کے ناطے محمد انور سے رابطہ کیا ۔ تقریباً1994 میں رقم وصول کرنا شروع کی ۔ ایم کیو ایم کے منجمد اکاءونٹ بھی بحال ہو گئے تھے ۔ الطاف حسین کو اس بارے میں علم تھا ۔ الطاف حسین بھارت سے رقم لے رہے تھے ۔ انہیں مختلف ذراءع سے رقم مل رہی تھی ۔ بھارتی حکومت ہ میں فنڈنگ کرتی تھی کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ ہماری مدد کرنا بہتر ہے اگر ہم پاکستان میں بر سر اقتدار آئے تو یہ بہت حوصلہ افزا ہو گا ۔