- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر کے حالات پر او آئی سی کا اظہار تشویش

دنیا بھر میں کورونا کی خطرناک وبا سے نمٹنے کےلئے افرا تفری کا عالم جاری ہے مگر بھارتی قابض فورس کی جانب سے کشمیر میں جاری مظالم کا سلسلہ آج بھی تھم نہ سکا ۔ روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں کی شہادت ، خواتین کی بے حرمتی اور املاک کی توڑپھوڑ سے بھارت آزادی کی تحریک کو دبانا چاہتا ہے مگر کشمیریوں نے بھی قسم کھائی ہے کہ جب تک بھارتی پنجے سے اپنے آپ کو آزاد نہیں کرالیں گے ، چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ ابھی گزشتہ روزہی پاکستان کی درخواست پر اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ نے جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اور مسئلہ کے پرامن حل کےلئے منعقدہ اجلاس جس میں جمہوریہ آذربائیجان، جمہوریہ ناءجر، اسلامی جمہوریہ پاکستان، مملکت سعودی عرب، اور جمہوریہ ترکی کے وزرائے خارجہ نے اجلاس میں شرکت کی، بھارت کو تنبیہ کی کہ مقبوضہ کشمیر میں آپریشن بند کرے اور آبادی تناسب تبدیل کرنے سے باز رہے ۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف اے التثمین نے مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل کےلئے تنظیم کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میں عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ کشمیری عوام کو کئی دہائیوں سے ان کے جائز حقوق کے فیصلہ کن طریقے سے استعمال کرنے میں مدد کےلئے اپنی کوششوں کو تقویت بخشے ۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت جموں کشمیر کے عوام کے خلاف سکیورٹی آپریشن کو فوری طور پر بند کرے ۔ وہاں بسنے والوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے ۔ متنازعہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے سے باز رہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت تنازع کو پْرامن انداز میں حل کرے ۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس میں واضح کیا کہ کشمیر کا مسئلہ امت مسلمہ کا اہم معاملہ ہے ۔ 80 لاکھ مظلوم کشمیریوں کو ظلم سے نجات دلانے کےلئے عالمی برادری بالخصوص مسلم امہ کو فوری طور پر اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے ۔ ایسے حالات میں جب کورونا وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے اوردنیا بھر کے ممالک اپنے شہریوں کی جانیں بچانے پرتوجہ مرکوز کر رہے ہیں بھارت اس صورتحال کو کشمیر میں اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کےلئے استعمال کر رہا ہے ۔ بھارتی حکومت نے اپنے اوچھے ہتھکنڈے اپناتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشمیریوں کے حقوق پر ایک اور وارکیا کہ ڈومیسائل سے متعلق نیا قانون جموں وکشمیرتنظیم نو آرڈر نافذ کردیا جس کے تحت بھارت کے وہ شہری جو مقبوضہ کشمیر میں 15 سال سے رہائش پذیر ہیں یا انہوں نے یہاں 7سال تک تعیلم حاصل کی ہے یا پھر وہ جنہوں نے میٹرک اور انٹر کے امتحانات یہاں سے دیے ہیں ۔ وہ مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کرنے کے اہل ہونگے ۔ جبکہ 10 سال سے کشمیر میں موجود سرکاری ملازمین اور ان کے بچوں کو بھی وہاں کا ڈومیسائل حاصل ہوگا جس کے بعد یہ سب لوگ وادی میں سرکاری نوکریاں حاصل کرنے کے اہل ہوں گے ۔ مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے عمل کا آغازگزشتہ سال اگست میں ہوگیاتھا اوراس عمل کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جارہا ہے ۔ ڈومیسائل کا حالیہ قانون اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے ۔ مودی سرکارنے کورونا کا پھیلاوَ روکنے کیلئے نافذ سخت لاک ڈاوَن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سینکڑوں بھارتی ہندووَں کو قرنطینہ میں رکھنے کے نام پر ضلع پلوامہ کے دو ہائیر سیکنڈری سکولوں میں ٹھہرایا ۔ یوں مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی تشخص کو تبدیل کرنے کے مذموم منصوبے پر باقاعدہ عملدر آمد شروع کردیاگیا ۔ کہا جا رہا ہے کہ ان بھارتی ہندووَں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دیا جائیگا اور مستقل شہری کی حیثیت سے آباد ہونے کی اجازت دی جائیگی ۔ بھارتی حکام پہلے ہی ریاست اترا کھنڈ کے ایک ہندو ڈاکٹر راگھو لانجر کو ضلع پلوامہ کا ڈپٹی کمشنر مقرر کر کے انہیں اس مذموم منصوبے کو آگے بڑھانے کا کام سونپ چکے ہیں ۔ اس اقدام سے مقبوضہ کشمیرکا سماجی تانا بانا بری طرح متاثر ہوگا ۔ مودی سرکار نے 3 لاکھ غیرمقامی افراد کومقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل جاری کردیے ہیں ۔ ڈومیسائل حاصل کرنےوالوں میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں ہے ۔ آنےوالے دنوں میں مزید 14 لاکھ افراد ڈومیسائل کے حامل ہوسکتے ہیں ۔ مودی سرکار کے فیصلے پر مقبوضہ کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔ کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں تعینات 8 لاکھ بھارتی فوجیوں اور 6 لاکھ دیگر غیرمقامی افراد کو بھی شہریت دے سکتی ہے ۔ کشمیریوں پردس ماہ سے جاری پابندیاں فوری طور پر ختم نہ کی گئیں تو مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران مزید بھیانک شکل اختیار کر سکتا ہے اس کا اقوامِ عالم کو ادراک ہونا چاہئے ۔ بھارتی لیڈر شپ تو انسانیت کی دشمن ہے ۔ با اثر ممالک کو انسانی ہمدردی کی بنا پر مظلوم مقہور اور محصور کشمیریوں کی مدد کو اتنی دیر ہونے سے قبل آنا ہو گا کہ آخری کشمیری بھی بھارتی مظالم کے ساتھ کرونا وائرس کی زد میں آ جائے ۔ او آئی سی کے ہیومن راءٹس کمیشن نے بھی مقبوضہ کشمیر میں نیا ڈومیسائل قانون مستردکرتے ہوئے کہا کہ ڈومیسائل کا نیا قانون آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی ہے ۔ بھارتی آرڈر 2020 مقبوضہ کشمیر کی صورت حال مزید خراب کرے گا ۔ او آئی سی ایسے تمام بھارتی اقدامات کو مسترد کرتا ہے ۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و سلامتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعہ کشمیر کا مستقل اور منصفانہ حل نہیں ہوگا ۔ سلامتی کونسل کے پاس یہ معاملہ ہنوز موجود ہے اور سلامتی کونسل اپنی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں کشمیر کے عوام کو ان کا پیدائشی، ناقابل تنسیخ استصواب رائے کا حق دلانے کےلئے اپنا کردار ادا کرے ۔